جنگ صفین میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قتل اور…

جنگ صفین میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا قتل اور مسلمانوں پر اس کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے انھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا، وہ انھیں جنت کی جانب بلائیں گے، اور وہ سب انھیں جہنم کی جانب بلائیں گے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘

ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ بہ تواتر ثابت ہے، یہ مستقبل کی خبر اور آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے اور یہ صحیح ترین حدیثوں میں سے ہے۔

(الإستیعاب: جلد 3 صفحہ 1140)

حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ذہبیؒ کہتے ہیں: اس سلسلے کی حدیث متعدد صحابیوں سے مروی ہے اس لیے وہ متواتر ہے۔

(سیر ٔاعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 421)

4۔ علماء کے نزدیک سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیثِ رسول ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘

(صحیح مسلم: رقم: 5916) کا مفہوم:

ا: ابن حجر رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ حدیث نبوت کی دلیل، سیدنا علی و عمار رضی اللہ عنہما کی واضح فضیلت اور ان نواصب کی تردید پر مشتمل ہے جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ جنگوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر نہیں تھے۔

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 646)

نیز انھی کا قول ہے: تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ والی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اس لیے کہ اصحاب معاویہ نے انھیں قتل کیا۔

(فتح الباری: جلد 13، صفحہ 92)

ب: امام نووی رحمہ اللہ کا قول ہے: صفین کے دن وہ جہاں جاتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کے پیچھے ہوتے اس لیے کہ اس حدیث کے باعث انھیں علم تھا کہ وہ صحیح گروہ کے ساتھ ہوں گے۔

( فتح الباری: جلد 13، صفحہ 92)

ت: ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے: سیدنا علی و اصحابِ علی رضی اللہ عنہم اصحابِ معاویہ رضی اللہ عنہم کے مقابلے میں حق سے زیادہ قریب تھے، اصحابِ معاویہ باغی گروہ تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت ہے کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ باغی گروہ تمھیں قتل کرے گا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 220)

نیز انھی کا قول ہے: امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے ہوئے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو اہل شام نے قتل کردیا اسی سے قولِ رسول ’’تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ کا راز کھلا، اور یہ بات واضح ہوگئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بغاوت کرنے والے تھے، نیز نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بھی واضح ہوگئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 277)

ث: امام ذہبی رحمہ اللہ کا قول ہے: وہ مؤمنوں کا ایک گروہ ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، جیسا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں قولِ رسول ’’تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ‘‘ اس بات پر صراحت سے دلالت کرتا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 8 صفحہ 209)

ج: قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ اس آیت {وَ إِنْ طَائِفَتَانِ} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: یہ آیت مسلمانوں سے جنگ کرنے اور تاویل کرنے والوں سے لڑنے میں اصل و بنیاد ہے اسی پر صحابہ کرامؓ کا اعتماد تھا، اس امت کے اعیان نے اسی کا سہارا لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول: ’’تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ ‘‘ میں اسی آیت کو مراد لیا ہے۔

(أحکام القرآن: جلد 4 صفحہ 1717)

ح: ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی صحت اور آپ کی اطاعت کے وجوب کی دلیل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی اطاعت کی دعوت دینے والا جنت کی دعوت دینے والا ہے اور آپ سے جنگ کی دعوت دینے والا اگرچہ تاویل کرنے والا ہو جہنم کی دعوت دینے والا ہے، وہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ جائز نہ تھی، اسی بنا پر تاویل کرتے ہوئے ان سے جنگ کرنے والا حق پر نہیں تھا، اور بلا تاویل جنگ کرنے والا باغی تھا، اس لیے ہمارے نزدیک صحیح ترین بات یہی ہے کہ جنھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی وہ حق پر نہیں تھے، یہی ہمارے ائمہ کا مذہب ہے، اور ان فقہاء کا مذہب ہے جنھوں نے اس کی بناء پر تاویل کرنے والے باغیوں سے لڑنے کو جائز قرار دیا ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 437)

نیز انھی کا قول ہے: یہ جانتے ہوئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، اور یہ کہ حدیث کے مطابق سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ نے قتل کیا ہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم منجانب اللہ آنے والی تمام باتوں پر ایمان رکھیں، پورے پورے حق کا اقرار کریں، ہماری خواہش نفس کا کوئی دخل نہ ہو، بغیر علم کے ہم بات نہ کریں، بلکہ علم و عدل کا راستہ اپنائیں یہی اتباع کتاب و سنت ہے۔ بعض حق کو تھام لینا اور بعض کو چھوڑ دینا ہی اختلاف و انتشار کی جڑ ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 449، 450)

خ: عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ حدیث عمار ’’تَقْتُلُ عَمَّارَانِ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں: انھیں معاویہ و اصحابِ معاویہ رضی اللہ عنہم نے جنگ صفین میں قتل کردیا اس لیے وہ لوگ باغی ہیں، لیکن مجتہد ہیں، ان کا خیال تھا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبے میں حق پر ہیں۔

(فتاویٰ و مقالات متنوعۃ: جلد 6 صفحہ 87)

د: سعید حوی کا قول ہے: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں نصوص صراحت سے وارد ہیں کہ انھیں باغی گروہ قتل کرے گا، ان کے قتل کے بعد باغیوں کو پتہ چل گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنا واجب تھا، اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پیچھے رہ جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ باغیوں کے خلاف خلیفہ برحق کی مدد نہ کرسکے۔ یہی فقہاء کا فتویٰ ہے۔

(الأساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1710)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو پختہ یقین تھا کہ ان کے والد حق پر تھے۔ 


صفحہ 2 از 2