اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف - ردِ رافضیت |…

اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

ترجمہ: غزوہ حدیبیہ میں جب عروہ بن مسعود کفار قریش کا سفیر بن کر آنحضرتﷺ کے پاس آیا اس نے دیکھا کہ جب حضورِ اکرمﷺ وضو کرتے یا ہاتھ دھوتے جب آپﷺ منہ سے تھوک یا ناک سے پانی پھینکتے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) برکت کے لیے ہاتھوں میں لے کر اپنے منہ اور بدن پر ملتے اور اگر کوئی بال جسم اطہر سے گرتا اس کے لینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنا چاہتے تھے۔ جب حضورِ اکرمﷺ کلام کرتے یہ لوگ چپکے ہو جاتے اور حضورِ انورﷺ کے رخ پر تیز نگاہ ڈال نہ سکتے تھے اور آپﷺ کے حضور میں بیٹھ کر اپنے سر نیچے جھکا دیا کرتے۔ جب عروہ نے یہ حالت دیکھی اور قریش میں لوٹا تو کہنے لگا میں نے بادشاہانِ عجم و روم و حبشہ کو دیکھا ہے لیکن میں نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی جو اپنے بادشاہ کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے اصحابِ رسولﷺ اپنے شہنشاہِ اسلام کی اکرام و تعظیم کرتے ہیں۔

اسی مضمون کو صاحبِ حملہ حیدری نے نظم میں بیان کیا ہے:

پس آں گاه در مجلس شاہ دین 

نشست او زمان دگر در کمیں 

کہ اصحاب اور راکند امتحان 

بہ بیند کہ چوں است اخلاص شاں

بظاہر گره کرده ابروز خشم 

نہائی ہمیں دید از زیر چشم

چو اکرام و تعظیم و فرمانبری

ارادت شعاری عقیدت دری

ز اصحاب نسبت بہ سالار دین

بتائید آں مردو زدید بیں

ترجمہ: عروہ بن مسعود جب مجلسِ رسولِ پاکﷺ میں اس لیے گھات لگا کر بیٹھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اخلاص و جان نثاری کا امتحان کرے، بظاہر تو اس نے غصہ سے ابرو پر گرہ ڈالی مگر نیچی نظر سے اس نے دیکھنا شروع کیا جب اس نے عاشقانِ جمال احمدی کی ارادت و عقیدت کا حال دیکھا تو اسے بے حد تعجب ہوا کیونکہ پہلے اس کی نظیر نہ دیکھی تھی جب عروہ قریش کے پاس واپس گیا تو اپنے چشم دید واقعات کی ان کو جاکر یوں اطلاع دیتا ہے۔

کہ من آنچہ دیدم زیاران و 

ازاں سر بکف جاں نثاراں او

در ایران و در روم و در زنگبار

ندیدم زنیک و بد آں دیار 

کہ دارند پاس شئہ خود چنیں

بسائندہ بر نقش پائش جبیں

محمدﷺ گراند ازد آب دہن 

برآں آب خوں می کند انجمن

کہ گیرند آں آب مالند رو 

ازاں آب تازہ کنندہ آبرو

دگر ہر کرا بینی از مہتران 

کند کفش او پاک چوں کہتراں

بر آب وضویئش نزاعے کنند

کہ خواہند سر ہائے خود بشکنند

ترجمہ: میں نے آنحضرتﷺ کے جاں باز اصحابؓ میں جو کچھ دیکھا ہے میں نے ایران، روم اور زنگبار میں کسی نیک و بد کو نہیں دیکھا کہ وہ اپنے بادشاہ کا اس قدر اکرام کریں کہ اس کی جوتیوں پر اپنے ماتھے رگڑیں۔ محمدﷺ اگر آبِ دہن پھینکنا چاہتے تو اس کے لینے کے لیے مجمع میں کشت و خون تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس آبِ دہن کو لے کر اپنے چہروں پر ملتے اور اپنی آبرو بڑھاتے ہیں اور جس بڑے سے بڑے سردار کو دیکھو وہ آپﷺ کی جوتیاں ادنیٰ خادم کی طرح صاف کرتا ہے۔ اُن کا وضو کا پانی حاصل کرنے پر ایسا جھگڑا ہوتا ہے کہ سر دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

جب اصحابِ رسولﷺ کی جاں نثاری کی یہ حالت ہو کہ کفار بھی ان پر رشک کریں اور معترف ہوں کہ ایسی کوئی قوم روئے زمین پر موجود نہیں ہے جو اپنے آقا پر یوں جاں نثار کریں اور اس کے پاؤں کی خاک سرمہ چشم اور آبِ دہن کو زینتِ چہرہ کے لیے غازہ گلگوں سمجھتے ہوں۔ جو اس کی شمع جمال پر پروانہ وار گرے پڑتے ہوں اور سر بکف اس کی خدمت میں جاں سپاری کے لیے ہر وقت حاضر ہوں کیا یہ نشہ کبھی قیامت تک اُترنے والا ہے؟ یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے۔

وہ لوگ سخت حقیقت ناشناس ہیں جو کہتے ہیں کہ رسولِ پاکﷺ کے آنکھ بند کرنے (فوت ہونے کی دیر تھی کہ وہ سارا کھیل بگڑ گیا نہ وہ عشق رہا نہ وہ محبت، سب کے سب اصحابؓ بغیر تین چار کے دین سے پھر گئے۔ لاحول ولا قوۃ 

جن لوگوں کا کوچہ عشق میں گزر نہ ہو ایسی بہکی باتیں وہی کرتے ہیں۔ عاشقان ذاتِ احمدی کے سوز جگر کا حال وہی جانیں جن کو اس نعمت سے بہرہ ملا ہے۔

چوں دل بہ مہر نگانے نہ بستہ اے ماہ

تراز سوز درون، نیاز ماچہ خبر

الحق جاں نثاران رسول اللہﷺ جیسے حضور کی زندگی میں دینِ حق کے شیدا تھے۔ بعد وفاتِ نبیﷺ بھی انہوں نے اپنی جانیں اعلائے کلمۃ الحق کے لیے وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے اشاعتِ اسلام میں عمریں خرچ کر دیں اور تمام دنیا کو کلمہ توحید کا قائل کر کے چھوڑا۔ خلفائے رسولﷺ نہ ہوتے تو خدائے قدوس کا صحیفہ قدس قرآن بھی ہم تک نہ پہنچتا نہ کسی کو اسلام و مسلمانی کی ہی خبر ہوتی۔ دنیائے اسلام فاتح فارس و روم اور ان کے سابق خلفاء کی تابقاء دہر شرمندہ احسان رہے گی رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ سب کے سب نجم ہدایت تھے لیکن خلفائے اربعہؓ فلکِ اسلام کے وہ روشن سیارے تھے جن کے نور نے عالم کو منور کیا اور جن کی بدولت شرق و غرب و جنوب سے شمال تک خشکی و تری میں اسلامی حکومت کا ڈنکا بجا۔

چار یار:

چار کے اعداد سے بس حق تعالیٰ کو ہے پیار 

ہیں حبیب کبریاء کے برگزیدہ چار یار

جسم کی ترکیب ہےاربعہ عناصر سے ہوئی 

ہوتے ہیں ہر اک مکان کے دیکھ لو دیوار چار 

عرش سے نازل ہوئیں چاروں کتابیں (زبور، تورات، انجیل) قرآن دوستو

ہیں الوالعزم انبیاء (ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، محمدﷺ) ایزد غفار چار

ہیں فرشتے بھی مقرب چار (جبرائیلؑ، میکائیلؑ، اسرافیلؑ، عزرائیلؑ) جو مشہور ہیں 

ہیں مذاہب بھی یہی مقبول بے انکار چار

کعبۃ اللہ میں بچھے چاروں مصلے ہیں ضرور 

خانوادے (چشتی، نقشبندی، قادری، سہروردی) بھی طریقت کے ہیں پر انوار چار

ار طریقت کے ہیں پر انوار چار

اربعہ متناسبہ پڑھتے ہیں طفلان سکول 

اور مربع شکل کے اضلاع بھی ہیں چار چار

تھا فَخُذۡ اَرۡبَعَةً مِّنَ الطَّيۡرِ جو ارشاد حق 

ہے تمہیں معلوم تھے وہ طائر طیار چار

چار پائے تخت کے ہوتے ہیں بیشک دوستو 

اور جوارح بھی ہر اک انسان کے ہیں چار چار 

چار کے اعداد ہیں لا ریب منظور خدا 

بالیقین ہے دوزخی کرتا رہے جو انکار چار

فاطمہؓ، حسینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ 

تھے یہ خویشان نبی احمد مختار چار

ہیں چراغ و مسجد و محراب و منبر اے دبیر 

یہ ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ یار چار


صفحہ 3 از 3