اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف - ردِ رافضیت |…

اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم کی مشترکہ تعریف

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

اس خطبہ میں جناب امیر رضی اللہ عنہ نے مسئلہ خلافت و خلیفہ کا بالکل فیصلہ فرما دیا اور آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ میری اور خلفائے سابقہ کی خلافت ایک ہی طریق سے ایک ہی جماعت (مہاجرین و انصار) کے انتخاب سے عمل میں آئی ہے اور انتخابِ خلیفہ کا حق بھی ہے مجلس شوریٰ مہاجرین و انصار ہی کو ہے۔ وہ اپنی متفقہ رائے سے جس شخص کو خلیفہ کر دیں عنداللہ بھی وہی خلیفہ برحق ہے جو ایسے منتخب کردہ خلیفہ کی اطاعت سے منحرف ہو جائے اس کو مسلمان خلیفہ کی اطاعت پر مجبور کر سکتے ہیں، نہ مانے تو اس سے لڑائی بھی کی جاسکتی ہے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار سب سے پہلے امیرؓ اور خانقاہِ ثلاثہؓ کا انتخاب غلط ہوا تھا اور جناب امیر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تکذیب کرتے ہیں جو بقول ممدوح ہر چہار خلفاء کا انتخاب ایک ہی طریق سے ایک ہی جماعت کے ہاتھ سے عمل میں آیا اور بقول جناب موصوفِ خدا کی رضا بھی اسی میں تھی تو پھر شیعہ کا حق کیا ہے کہ اس کے خلاف کہنے کی جرأت کریں کہ حق تو علیؓ کا تھا ثلاثہؓ نے زبردستی چھین لی اگر ایسا ہوتا تو جناب امیر رضی اللہ عنہ یوں فرماتے کہ ثلاثہؓ کا انتخاب تو نا اہل لوگوں نے غلط کر دیا تھا اور خدا بھی انتخاب پر راضی نہ تھا ہاں جس جماعت نے میرا انتخاب کیا اور جس طریق سے کیا یہ انتخاب منظورِ خدا تھا۔ اس خطبہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ انتخابِ خلیفہ سے ناراض تھے اور انہوں نے بیعت نہ کی تھی یا جبراً قہراً بیعت کرائی گئی تھی۔ یہ سب کچھ یار لوگوں کی گھڑت اور اتہام محض ہے کیونکہ جناب خود ممدوح خود فرماتے ہیں کہ مجلسِ شوریٰ کے فیصلہ پر جو شخص راضی نہ ہو اور منتخب شدہ خلیفہ کی بیعت سے انکار کرے وہ مؤمنین کے طریقہ سے الگ اور واجبُ القتال ہے اور یہ کہ خدا کو بھی وہی منظور ہے جو مہاجرین و انصار کی مجلسِ شوریٰ فیصلہ کر دے کیا شیعہ اصحاب جناب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے اس فرمان واجب الاذعان کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے؟

سوئم: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 589 میں ہے:

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ۔

یعنی پیشی گیرندگان کہ پیشتر بوده انداز مہاجرین جرین و انصار و آنانکہ متابعت ایشان کرده اند بہ نیکی راضی شد خدا و از ایشان و راضی شدنداز و حضرت فرمود پس خدا ابتداء نمود باں ہاک پیشتر ہجرت کرده بودند بقدر درجہ آں پس در مرتبہ دوم انصار را یاد کرد کہ بعد از مہاجراں یاری انحضرت نمودند پس در مرتبہ قرار داد بقدر درجات و منازلے کہ ایشان را نزد او هست۔

شیعی مصنف نے تفسیر آیت میں مہاجرین و انصار اور تابعین کی تعریف اور ان کے مدارج کا ذکر کیا ہے یہ کون تھے؟ کیا اس کے مصداق وہی تین مقدادؓ، ابوذرؓ، سلمانؓ، ہی تھے کیا خلفائے ثلاثہؓ مہاجرین و انصار سے خارج ہیں؟ اگر یہ ان کے سرتاج ہیں تو ان کے درجات اور راضی مرضی ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے؟ کیا خدائے پاک کا کلام معاذ اللہ جھوٹا اور شیعہ سچے ہیں؟

چہارم: حملہ حیدری میں جنگِ بدر کے بیان میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قلت اور بے سامانی اور کفار کی کثرت اور ان کے ساز و سامان کو دیکھا تو دست بدعا ہوکر فرمانے لگے۔

خدایا گرایں چند تن از عباد

کہ کردند امر ترا انقیاد

بحكم تو بستند برکیں میاں

ندیدند پیش و کم دشمناں 

بمانند از فتح کوتاه دست

بیابند از دست اعداء شکست

بروئے زمیں تاقیامت دگر

نگردد پر ستنده اے داد گر

ترجمہ: اے خدا اگر تیرے یہ قلیل بندے، جو تیرے عبادت گزار ہیں اور تیرے حکم کی تعمیل میں لڑائی پر کمر بستہ ہو کر دشمن کی قلت و کثرت کی پرواہ نہیں رکھتے اگر یہ دشمن کے ہاتھ سے شکست یاب ہو کر فتح یابی حاصل نہ کر سکے تو یا خدایا! روئے زمین پر تا قیامت تیری پرستش کرنے والا کوئی باقی نہ رہ جائے گا۔

بتاؤ جن اشخاص کے متعلق حضورِ اکرمﷺ نے یہ شہادت دے کر حق تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ تیرے فرماں بردار بندے ہیں اور تیرے عشق کے ایسے متوالے ہیں کہ تیرے دشمنوں سے لڑائی کرتے وقت دشمنوں کی تعداد کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور یہ تیرے ایسے مخلص بندے ہیں اگر ان کا وجود صفحہ دہر سے مٹ گیا تو دنیا میں تیرا پرستار، تیرا نام لیوا ان جیسا قیامت تک پیدا نہ ہوگا یہ لوگ کون تھے؟ وہی مہاجرین و انصار جن کے میر عسکر ثلاثہؓ تھے یا کوئی اور؟ کیا صرف وہی شیعہ کے تین چار بزرگوار ہر ایک معرکہ کارزار میں شامل ہو کر دشمن کی صفیں الٹ دیا کرتے تھے یا یہی حضرات تھے جنہوں نے نبی کریمﷺ کی زندگی میں ہی نہیں آپﷺ کی وفات کے بعد بھی دینِ اسلام کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیا اور دشمنانِ دین کا نام و نشان باقی نہ رہنے دیا۔ انصاف! انصاف۔

پنجم: "حیات القلوب" جلد 2، صفحہ 141 میں ہے:

عروہ بن مسعودؓ چوں در غزوہ حدیبیہ از جانب قریش بخدمت حضرت رسولﷺ آمد دید کہ ہر گاه آنحضرت و ضومی ساخت یا دست می شست مبادرت میکردند در گرفتن آن آب بمرتبہ کہ یک دیگر رابکشد و ہر مرتبہ کہ آب دہاں یا آب بینی می انداخت بدست خود آں رامی ربودند و چوں امرمی فرمود بریک دیگر سبقت می گرفتند در امتثال آں و چوں سخن مے فرمود صدا ہائے خودرا پست می کردند و تند بر روئے مبارک آن حضرت نظر نمی کردند و سر ہادر پیش می افنگند ند و چوں عروه بہ نزد قریش برگشت گفت اے گروہ قریش من بہ نزد بادشاه عجم و بادشاه روم و بادشاه حبشہ رفتہ بودم نہ دیدم کہ ہیچ قومے بادشاہ رد خود را تعظیم و اطاعت کنند مثل آنکہ اصحاب آں حضرت تعظیم اطاعت وی نمایند۔

صفحہ 2 از 3