کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خروج دنیاوی لالچ کے سبب تھا؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق آپ کی رائے کی غلطی یہ تھی کہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لینے سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے انکار کر رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ ان شورش کرنے والوں کے ساتھ اپنے سابقہ سلوک و برتاؤ کی بناء پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے خائف تھے، وہ سب آپ کے قتل کے حریص تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ قاتلینِ عثمان کو آپ کے حوالے کردیا جائے جب کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ قصاص کا طالب کوئی فیصلہ صادر کرے، بلکہ پہلے اطاعت قبول کرے، پھر حاکمِ وقت کے پاس اپنا دعویٰ پیش کرے اور اپنے حق کا مطالبہ کرے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 151)

اس بات پر ائمہ فتویٰ کا اتفاق ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی دوسرے سے حاکم یا اس کے مقرر کردہ شخص کے بغیر اپنا قصاص لے، اس لیے کہ ایسا کرنا فتنہ کا باعث اور لاقانونیت کے پھیلنے کا سبب ہوگا۔

(تفسیر القرطبی: جلد 2 صفحہ 256)

کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے، ان کا ظن غالب تھا کہ وہی حق پر ہیں، چنانچہ اہل شام کو جمع کرکے انھیں خطاب کیا اور یاد دلایا کہ وہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ولی ہیں، انھیں ظلماً قتل کیا گیا ہے، انھیں یہ آیت پڑھ کر سنائی: 

وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞

(سورۃ الإسراء آیت 33)

ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔

پھر کہا: میں چاہتا ہوں کہ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تم مجھے اپنی رائے سے آگاہ کرو، چنانچہ اہل شام اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا جو مطالبہ آپ کا تھا اس کے لیے تیار ہوگئے اس سلسلے میں آپ سے بیعت کی، اس بات کا پختہ عہد کیا کہ اپنی جان و مال قربان کردیں گے تاآنکہ ان کو قصاص مل جائے یا اللہ تعالیٰ انھیں فنا کردے۔

(صفین لابن مزاحم: صفحہ 32، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 152)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان بڑے بڑے واقعات کا مشاہدہ کیا اور فتنہ سے متعلق ہر صحابی کی رائے سے آگاہی حاصل کی، آپؓ کا رجحان تھا کہ جہاں تک ہو سکے امن و صلح اختیار کرنا چاہیے۔


صفحہ 3 از 3