کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خروج دنیاوی لالچ کے سبب تھا؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اس سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ ’’الإمامۃ والسیاسۃ‘‘ نامی کتاب شیعی ابن قتیبہ کی ہے، سنی اور ثقہ ابن قتیبہ کی نہیں ہے، ناموں کی مشابہت کی وجہ سے لوگوں کو ان دونوں کے مابین اشتباہ ہوگیا ہے۔

(عقیدۃ الإمام ابن قتیبۃ: صفحہ 93)

بہت سارے موجودہ اہل قلم نے اسی کتاب پر اعتماد کرکے بہت سارے صحابہ کرامؓ کی سیرتوں کو داغدار کرنے میں ہاتھ بٹایا ہے، اسی لیے تحقیق و تدقیق اور دلائل پر مبنی علمی طریقے سے اس کتاب سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔

’’الإمامۃ والسیاسۃ‘‘ کے مؤلف نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا، اس کی دلیل میں وہ روایت پیش کرتے ہیں جس میں ابن کواء نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا تھا:

’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام سے دور ہیں، ان کے والد گروہ بندی کی جڑ ہیں، انھوں نے بغیر مشورہ کیے خلافت کا دعویٰ کردیا، اگر دعوائے خلافت کے بارے میں آپ سے سچ بولتے ہیں تو ان کو خلافت سے دور کردینا درست ہے، اور اگر جھوٹ بولتے ہیں تو آپ کا ان سے گفتگو کرنا حرام ہے۔‘‘

(الإمامۃ والسیاسۃ: جلد 1 صفحہ 113)

یہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہے، بلکہ گھڑی ہوئی بات ہے، کتب تاریخ و ادب میں بہت سی ایسی ضعیف اور موضوع روایتیں بھری پڑی ہیں جو بتلاتی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اختلاف محض بادشاہت، سرداری اور خلافت کے لیے تھا۔

 ( تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 2 صفحہ 145)

صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف کی بنیاد اس بات پر تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی بیعت قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے بعد واجب ہوتی ہے یا پہلے، اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ رہنے والے شام کے لوگوں کی رائے تھی کہ پہلے قاتلین عثمان سے قصاص لیا جائے پھر وہ لوگ بیعت کرلیں گے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

قاضی ابن العربی کا قول ہے:

’’اہل شام و اہل عراق کے مابین جنگ کا سبب ان کی رائے کا اختلاف تھا، اہل عراق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اور امام سے متعلق اتحاد کی دعوت دیتے تھے، اہل شام قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص کا مطالبہ کرتے تھے، اور کہتے تھے، ہم قاتلوں کو پناہ دینے والے کے لیے بیعت نہیں کریں گے۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 162)

’’لمع الأدلۃ‘‘ میں امام الحرمین جوینی کا قول ہے:

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی لیکن آپ کی خلافت کے منکر نہ تھے اور نہ ہی اپنے لیے اس کے دعویدار تھے، وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ کرتے تھے، اور ان کے خیال میں وہ اپنے مطالبے میں حق بجانب تھے، جب کہ وہ غلطی پر تھے۔‘‘

(لمع الأدلۃ فی عقائد أہل السنۃ والجماعۃ: صفحہ 115)

ہیثمی کا قول ہے:

’’سیدنا معاویہ و علی رضی اللہ عنہما کے مابین جو جنگ ہوئی وہ اس لیے نہیں ہوئی کہ خلافت کے بارے میں ان کے مابین جھگڑا تھا اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلافت کے زیادہ حق دار ہونے پر اجماع ہے، اس لیے فتنہ اس بنا پر برپا نہیں ہوا بلکہ اس لیے برپا ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیعت سے پہلے قصاص کا مطالبہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔‘‘

(الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 622)

متعدد روایتیں یہ بتلاتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے اور اس بات کی صراحت کر رہے تھے کہ اکثر قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لے لیا گیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت قبول کرلیں گے۔

اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لالچ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی اور قصاص کے مطالبے کو بہانہ بنایا تھا، تو اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قاتلین عثمان سے قصاص لے لیا ہوتا تو ایسی صورت میں اس کے علاوہ اور کیا ہوتا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیتے اور ان کی اطاعت قبول کرلیتے، اس لیے کہ وہ اس فتنے میں اپنے اس مؤقف پر جمے رہے، اسی طرح جو جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے تھے اسی بنیاد پر دے رہے تھے کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لیا جائے، اگر اس کے علاوہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے جی میں کوئی مقصد چھپائے تھے تو یہ جان پر کھیلنے کی بات تھی، اس کام کو کوئی لالچ والا شخص انجام نہیں دے سکتا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 150)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب کاتبِ وحی، بردباری میں مشہور اور مسلمانوں کے سرداروں میں سے تھے، صحابی ہونے کا شرف انھیں حاصل تھا تو یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ وہ ختم ہونے والی بادشاہت کے لیے شرعی خلیفہ سے جنگ کریں گے اور مسلمانوں کا خون بہائیں گے، انھی کا قول ہے:

’’اللہ کی قسم جب مجھے اللہ و غیر اللہ کے مابین اختیار دیا جاتا ہے تو میں اللہ ہی کو اختیار کرتا ہوں۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 151)

آپ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ثابت ہے:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَہْدِیًا وَاَہْدِ بِہٖ۔

(صحیح سنن الترمذی للألبانی: رقم: 3018 جلد 3 صفحہ 236) 

’’اے اللہ انھیں ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے۔‘‘

نیز فرمایا:

اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ وَقِہِ الْعَذَابَ۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 913، اس کی سند صحیح ہے۔)

’’اے اللہ انھیں اپنی کتاب کا علم سکھا اور عذاب سے بچا۔‘‘

صفحہ 2 از 3