کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ…

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خروج دنیاوی لالچ کے سبب تھا؟

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

جو روایتیں یہ تصویر پیش کرتی ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کو نہ قبول کرنا ذاتی و دنیاوی مصلحتوں کے باعث تھا، بنی ہاشم و بنی امیہ کے مابین جاہلی تنافس اور دشمنی کے باعث تھا، یا اس کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تہمتوں، افتراء پردازیوں اور طعن و تشنیع کو پیش کرتی ہیں، اور انھی پر موجودہ اہل قلم جیسے عقاد نے ’’عبقریۃ علي‘‘ میں، عبدالعزیز دوری نے ’’تاریخ صدر الاسلام‘‘ کے مقدمہ میں اعتماد کیا ہے اور انھی کو اپنے باطل تجزیات کی بنیاد بنایا ہے ایسی سب روایتیں متروک ہیں، ان کے راوی عدالت و ضبط میں مطعون ہیں۔

(خلافۃ علی بن أبي طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 112)

ہر زمانے میں لوگوں کے مابین یہ بات مشہور رہی ہے کہ سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف کا سبب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خلافت کا خواہاں ہونا تھا، ان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج اور ان کی اطاعت قبول نہ کرنے کا سبب انھیں شام کی گورنری سے معزول کردینا تھا، ان باتوں کو شیعی مؤرخین نے اور کتاب ’’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘ نے ذکر کیا ہے جسے غلط طور پر ابن قتیبہؒ دینوری کی جانب منسوب کردیا گیا ہے، یہ کتاب ابن قتیبہ کی نہیں ہے، درج ذیل دلیلیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مذکورہ کتاب کو ابن قتیبہؒ کی جانب غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے:

جن لوگوں نے ابن قتیبہؒ کا سوانحی خاکہ لکھا ہے کسی نے بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا ہے کہ انھوں نے تاریخ میں ’’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘ نامی کتاب لکھی ہے، انھوں نے تاریخی کتاب صرف ’’المعارف‘‘ لکھی ہے۔

کتاب کی ورق گردانی کرنے والا سمجھے گا کہ ابن قتیبہؒ نے دمشق و مغرب میں قیام کیا ہے جب کہ وہ بغدا د سے نکل کر صرف دینور گئے تھے۔

’’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘کا اسلوب و منہج ابن قتیبہ کی کتابوں کے اسلوب و منہج سے بالکل مختلف ہے، ابن قتیبہ کا منہج ہے کہ دینی کتابوں کا طویل مقدمہ لکھتے ہیں، اس میں اپنے منہج اور سبب تالیف کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ’’الإمامۃ والسیاسۃ‘‘کا منہج اس کے برخلاف ہے، اس کا مقدمہ بہت مختصر ہے، صرف تین سطر کا ہے، ساتھ ہی ساتھ اسلوب بھی مختلف ہے، ابن قتیبہ کی کتابوں کا یہ طریقہ نہیں رہا ہے۔

صاحب کتاب ابولیلیٰ سے اس انداز میں روایت کرتے ہیں کہ اس سے دونوں کی باہمی ملاقات کا پتہ چلتا ہے، ابن ابی لیلیٰ: محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ فقیہ ہیں جو کوفہ کے قاضی رہے، 148ھ میں وفات پائی اور یہ بات قطعی ہے کہ ابن قتیبہ 213ھ میں پیدا ہوئے، یعنی ابن ابی لیلیٰ کی وفات کے 53 سال بعد۔

اس کی اکثر روایتیں صیغۂ تمریض کے ساتھ وارد ہیں، اس میں اکثر و بیشتر اس طرح کی عبارتیں آئی ہیں: ’’ذکروا عن بعض المصریین‘‘، ’’ذکروا عن محمد بن سلیمان عن مشایخ أہل مصر‘، ’حدثنا بعض مشایخ أہل المغرب‘‘، ذکروا عن بعض المشیخۃ‘‘،

’’حدثنا بعض المشیخۃ‘‘ اس طرح کی عبارتیں اور ترکیبیں ابن قتیبہ کے اسلوب اور عبارتوں سے بہت مختلف ہیں اور ان کی کتابوں میں وارد نہیں ہیں۔

(عقیدۃ الإمام ابن قتیبۃ: علی العلیانی: صفحہ 90)

 ابن قتیبہؒ کا علماء کے نزدیک ایک اہم مقام ہے، وہ ان کے نزدیک اہل سنت میں سے اور اپنے علم و دین میں ثقہ ہیں:

 یقول السلفي کان ابن قتیبۃ من الثقات و أہل السنۃ۔ و یقول ابن حزم: کان ثقۃ فی دینہ و علمہ، و تبعہ في ذلک الخطیب البغدادي، و یقول عنہ ابن تیمیۃ: وإن ابن قتیبۃ من المنتسبین إلی أحمد و إسحاق و المنتصرین لمذاہب أہل السنۃ المشہورۃ

(لسان المیزان: جلد 3 صفحہ 357، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 144)

’’سلفی کہتے ہیں کہ ابن قتیبہؒ ثقہ اور اہل سنت میں سے تھے۔ ابن حزمؒ کہتے ہیں: اپنے دین و علم میں ثقہ تھے۔ یہی رائے خطیب بغدادیؒ کی ہے۔ ان کے بارے میں ابن تیمیہ کہتے ہیں: ابن قتیبہ احمد و اسحاق کی جانب اپنی نسبت کرنے والے اور اہل سنت کی مشہور رایوں کے مؤید تھے۔‘‘

جس شخص کا محقق علماء کے نزدیک یہ مقام ہو، کیا وہ ’’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘ جیسی کتاب کا مصنف ہوسکتا ہے؟ جس نے تاریخ کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب غلط باتوں کو منسوب کردیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 144)

 ’’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘ کے مؤلف نے صحابہ کرامؓ پر سخت تنقید کی ہے، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بزدل اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو حاسد قرار دیا ہے، نیز ذکر کیا ہے کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر اس لیے ناراض ہوگئے کہ انھوں نے خیبر میں مرحب یہودی کو قتل کردیا، اور یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا تھا۔

 ’الإمامۃ و السیاسۃ‘‘ کا مؤلف تینوں خلیفہ سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں صرف پچیس صفحات لکھتا ہے، اور صحابہ کرامؓ کے مابین فتنوں کا ذکر دو سو صفحات میں کرتا ہے، اس طرح مؤلف نے روشن و تابناک تاریخ کو بہت مختصر کردیا ہے اور ایسی جھوٹی تاریخ سے صفحات کو سیاہ کردیا ہے جس کا بہت تھوڑا سا حصہ صحیح ہے۔

  (الإمامۃ والسیاسۃ: جلد 1 صفحہ 54،55)

 ’’مختصر الإثنی عشریۃ‘‘ میں محمود شکری آلوسی کہتے ہیں: شیعہ کے مکر و فریب میں سے یہ بھی ہے کہ اہل سنت کے نزدیک معتبر ناموں پر غور کرتے ہیں، ان میں سے جس کسی کا نام و لقب اپنے میں سے کسی کے نام و لقب کے موافق پایا تو شیعی روایت کو اس کی جانب منسوب کردیا، اہل سنت میں سے جسے آگاہی نہیں ہوتی ہے وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ ان کا امام ہے، اس کے قول و روایت پر اعتماد و بھروسا کرلیتا ہے۔ جیسے ’’سدی‘‘ اس نام کے دو آدمی ہیں، ایک ’’سدی کبیر‘‘ دوسرا ’’سدی صغیر‘‘۔ ’’سدی کبیر‘‘ اہل سنت کے ثقہ لوگوں میں سے ہیں، اور ’’سدی صغیر‘‘ جھوٹوں اور حدیثوں کو گھڑنے والوں میں سے ہے۔ عبداللہ بن مسلم بن قتیبہؒ اہل سنت کے ثقہ لوگوں میں سے ہیں اور ’’المعارف‘‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں، چنانچہ عبداللہ بن قتیبہؒ نے بھی گمراہ کرنے کے لیے ’’المعارف‘‘ نامی کتاب تصنیف کی۔

(مختصر التحفۃ الإثنا عشریۃ للآلوسی: صفحہ 32)

صفحہ 1 از 3