نظم فارسی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظم فارسی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

شیعہ اس امر سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت ام کلثوم بنت علیؓ حضرت عمرؓ کی تزویج میں آئیں لیکن اس بارے میں ان کو سخت اضطراب لاحق ہوا اور طرح طرح کی تاویلات رکیکہ سے کام لینے لگے۔

ایک روایت یہ وضع کی گئی کہ حضرت ام کلثومؓ جبراً چھین لی گئی۔ جیسا کہ فروع کافی: جلد 2، صفحہ 141 باب تزویج ام کلثومؓ میں ہے۔

عن زرارة عن ابی عبدالله عليه السلام فی تزويج ام كلثوم فقال ان ذلك اول فرج غصبانه

ترجمہ: زرارہ نے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے دربارہ نکاح ام کلثومؓ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ پہلی شرمگاہ ہے جو ہم سے چھین لی گئی۔

دوسری روایت اسی کتاب کے صفحہ مذکورہ میں یوں ہے:

عن هشام بن سالم عن ابی عبدالله عليه السلام قال لما خطب اليه قال له امير المؤمنين انها صبية قال فلقی العباس فقال له مالی ابی باس قال فما ذاك قال خطبت الى بن اخيك فردنی اما والله لاعيدن زمزم ولا ادع لكم مكرم الا هدمتها ولا قيمن عليه شاهدين بانه سرق ولاقطعن يمينه فاتاه العباس فاخبره وساله ان يجعل الامر واليه فجعله اليه۔

ترجمہ: ہشام بن سالم نے امام صادق سے روایت کی ہے کہ جناب امیرؓ سے ام کلثومؓ کا ناطہ طلب کیا گیا تو آپؓ نے کہا کہ وہ چھوٹی لڑکی ہے فرمایا پھر وہ عباسؓ کو ملے اور کہا کیا مجھ میں کوئی نقص ہے؟ عباسؓ نے کہا کیا بات ہے؟ عمرؓ نے کہا میں نے ناطہ تمہارے بھتیجے علیؓ سے مانگا ہے اس نے انکار کر دیا میں زمزم کو لوٹوں گا اور تمہارے جملہ اعزازات کو مٹا دوں گا اور علیؓ پر دو گواہ سرقہ کرنے کے گزار کر اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا۔ حضرت عباسؓ حضرت علیؓ کے پاس گئے اور کہا اس ناطے کا مجھے وکیل بنا دو۔ حضرت علیؓ نے ان کو اجازت دے دی اور نکاح ہو گیا۔

ان روایات میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عمرؓ سے ہوا لیکن پہلی روایت میں نہایت مکروہ لفظ (فرج) استعمال کر کے کہا گیا ہے کہ ام کلثوم ہم سے جبراً چھین لی گئی تھی۔

دوسری روایت میں بتایا گیا کہ حضرت علیؓ رشتہ دینے پر اس لیے مجبور ہو گئے کہ ان کو دھمکی دی گئی کہ تمہارے اعزاز چھین لیے جائیں گے بلکہ تمہیں سرقہ کا الزام لگا کر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی۔ سو اہلِ بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ شجاعت مآب فاتح خیبر حیدرؓ قرار سے ان کی صغیر السن لڑکی جبراً چھین لی جائے؟

یا ان کو ڈرا دھمکا کر رشتہ دینے پر مجبور کر لیا جائے۔ ایسا تو کوئی کم حیثیت کمین شخص جولاہا، بھنگی بھی نہیں کرے گا کہ جیتے جی ڈر کر اپنی کمسن لڑکی دوسروں کے حوالے کر دے یا بخوف سزا بدنی ایک غیر مستحق شخص کو بلا رضا مندی خود لڑکی دے دے۔ ایسے موقع پر انسان سزائے بدنی تو کیا جان دے دینا گوارا کر لیتا ہے لیکن یہ ذلت کبھی گوارا نہیں کرتا کہ کوئی غیر شخص اس کی دوشیزہ کمسن لڑکی جبراً چھین لے، ہر ایک دانشمند شخص کیا کر سکتا ہے کہ کوئی باغیرت بہادر شخص اس قسم کی ذلت کبھی قبول کر سکتا ہے؟ کلا و حاشا یہ تمام باتیں یار لوگوں کی من گھڑت ہیں جو اصلیت کو چھپانے کے لیے وضع کی گئیں ہیں۔ لیکن حق چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔

اسی باب تزویج اُم کلثومؓ میں ایک دوسری حدیث درج ہے:

كَتَبَ عَلِيٌّ بْنُ أَسْبَاطٍ إِلَى أَبِی جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي أَمْرِ بَنَاتِهِ وَانَّهُ لا تَجِدُ أَحَدًا مِثْلَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ بَنَاتِكَ وَإِنَّكَ لَا تَجِدُ أَحَدَ امَثَلَكَ وَلَا تَنْتَظِرُ فِی ذَالِكَ رَحِمَكَ اللَّه فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا جَاء كُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالهِ وسلم وَدينَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كبير 

(فروع کافی: جلد 2، صفحہ 141)

ترجمہ: علی بن اسباط نے امام محمد باقرؒ کو اپنی لڑکیوں کے بارے میں لکھا اور اس کو اپنے جیسا کوئی شخص نہ مل سکتا تھا آپ نے فرمایا میں نے تیرا مطلب سمجھا ہے کہ تجھے اپنے رتبہ کا داماد نہیں مل سکتا مگر تم اس بات کا انتظار مت کرو۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس ایسا شخص (ناطہ مانگنے) آ جائے جس کے اخلاق اور دینداری کا تمہیں اطمینان ہو تو اُسے ناطہ دے دو ورنہ زمین میں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہوگا۔

اس حدیث کو تزویج اُم کلثومؓ میں درج کرنے سے مطلب صاف یہ ہے کہ حضرت علیؓ بھی چونکہ حضرت عمرؓ کے اخلاق اور دینداری کو پسند کرتے تھے اور ناطہ کے نہ دینے میں فتنہ و فساد کا اندیشہ تھا اس لیے اپنی خوشی سے اُنہوں نے نکاح کر دیا۔


صفحہ 3 از 3