نظم فارسی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظم فارسی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

(علم سے مراد علم اجمالی ہے نہ تفصیلی۔ چنانچہ مصنف آفتاب ہدایت مرحوم نے بھی دوسری جگہ صفحہ 170 پر اس کی تصریح فرما دی ہے کہ یہ مسئلہ بھی مُسلَّم ہے کہ علم مالکان مایکون خاصہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ نیز جناب مولف نے صفحہ 194 پر تصریح فرمائی ہے کہ کسی مخلوق کے لیے علم ماکان وما یکون کا اعتقاد رکھنا اس کو شان الوہیت تک پہنچا دینا ہے۔

اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے حضرات علماء محققین کی تصانیف کا مطالعہ ضروری ہے اور اکابر صوفیہ کے ارشادات سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے۔ چنانچہ کتب ربانی جامع کمالات صوری و معنوی عارف بااللہ حضرت شاہ غلام علی شاہ صاحب نقشبندی مجددی قدس سرہ خلیفہ اعظم حضرت مرزا مظہر جان جانان شہید کے ملفوظات میں ہے بعد ازاں در مجلس ذکر جامعیت آنحضرتﷺ اللہ الملک الاکبر آمد حضرت ایشاں فرمودند کہ جمیع کمالات ظاہری و باطنی بطریق اجمال جناب سید الانبیاءﷺ اللہ الملک الاعلیٰ راہ حاصل بود لیکن حصول ظہور تفصیل جمیع کمالات موقوف بزمانہ خاص دبہ شخص بود چنانچہ فرمودہ اند آنحضرتﷺ (اعطیت بماتیح کنوز الارض) و حال آنکہ در زمان آنحضرتﷺ فتح اکثر اقالیم نشدہ وبود در زمان خلفاء اکثر مقامات فتح شدند و اکثر بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سلاطین نامدار فتح نمودہ اند چنانچہ محمود غزنوی ہندوستان فتح کرد ظہور ایں کمال موقوف پر ایشاں بود و جناب آنحضرتﷺ جمیع علوم توحید وجودی وچہ کلام وچہ علم مسائل فقہ مجملاً حاصل بود لیکن تفصیل علم توحید و جودی بر وجود محی الدین عربی رحمۃاللہ و ظہور علم کلام ابوالحسن اشعری و ابومنصور ماتریدی رحمۃاللہ علیہما و تفصیل علم جزئیات مسائل فقہ بر امام اعظم و امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہم موقوف بود حاصل آنکہ ہر کمالے کے بعد آپﷺ در امت از ہر کس کہ ظہور نمود کمال آنحضرتﷺ است و آنحضرتﷺ را قبل ازیں ظہور ہم حاصل بود غیر از فرق اجمال و تفصیل نیست (درالمعارف ملفوظات حضرت شاہ غلام علیؒ صفحہ 212) واضح ہو کہ اس تحریر سے ہمارا مقصود صرف حضرت محمدﷺ کے علم تفصیلی محیط کائنات کی نفی کرنا ہے۔ معاذ اللہ تنقیص شان مقصود نہیں۔ برادران اسلام کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جائیں کیونکہ ہمارے اکابر حضرات نے اپنی تصانیف مبارکہ میں تصریح فرما دی ہے کہ حضورﷺ اہلِ عالم کے واسطے جملہ کمالات کے لیے واسطہ ہیں۔ یعنی جملہ کمالاتِ خلائق علمی ہوں، یہ عملی نبوت ہو یا رسالت و صدیقیت ہو یا شہادت و سخاوت ہو یا شجاعت و علم ہو یا مروت و قوت ہو یا وقار وغیرہ وغیرہ۔ 

سب کے ساتھ اولاً بالذات آپ کی ذات والا صفات جناب باری عز شانہ کی جانب سے متصف کی گئی اور آپ کے ذریعہ سے جملہ کائنات کو فیض پہنچا۔ جیسا کہ آفتاب سے نور قمر میں آیا اور قمر سے نور ہزاروں آئینوں میں۔ آپﷺ کو علوم اولین و آخرین عطا فرمائے گئے۔ کوئی بشر کوئی ملک اور کوئی مخلوق علم و کمالات میں آپﷺ کے مساوی نہیں چہ جائیکہ کہ افضل ہو۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔ تفصیل کے لیے یہ کتابیں مطالعہ فرمائیں۔ آب حیات، تحذیرالناس، قبلہ نما از حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شہاب ثاقب۔ از مولانا المدنی رحمۃاللہ (احقر مظہر حسین ابن مولف) 

حق تعالیٰ نے بخشا ہوا تھا اپنے جلیل القدر صحابی حضرت عمرؓ کی فتوحات کو دیکھ دیکھ کر ایسی خوشی ہوتی تھی کہ مسلمانوں کو نئے نئے طریق سے بشارت سنا کر حضرت عمرؓ کی جلالت قدر اور عظمت پر متنبہ فرماتے تھے۔ بھلا اگر حضرت عمرؓ بقول شیعہ معاذاللہ حضرت رسول پاکﷺ کی نظر میں کافر و منافق ہوتے تو ان کا جہاد ناجائز ہوتا اور اس جہاد کا مالِ غنیمت، مالِ مغصوب اور حرام ہوتا تو کیا رسول اللہﷺ نے سراقہ کو مال حرام و (مغصوب) کے حاصل ہونے کی بشارت دی تھی؟ اس سے تو پرہیز کرنے کا حکم دینا چاہیے تھا۔ شیعو! غور کرو اور خوب غور کرو۔

6: یہ امر مسلم الطرفین ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دختر نیک اختر حضرت حفصہؓ کو حضورﷺ کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل تھا اور آپؓ رسول پاکﷺ کے خسر تھے۔ تو معاذاللہ آپ منافق و کافر ہوتے تو رسول اللہﷺ ان کے گھر سے شادی کرنے کے مجاز نہ ہوتے۔ جب آپﷺ کو صریح حکم تھا کہ

(لَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ) مشرکہ عورتوں سے مت نکاح کرو۔ لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صاحب فضیلت و شریعت تھے تب ہی تو حضورﷺ نے آپؓ سے رشتہ قرابت اختیار فرمایا۔ بھائیو! انسان کا سسر بمنزلہ والد واجب التعظیم ہوتا ہے۔ پھر جو لوگ حضرت عمرؓ کو برا بھلا کہتے ہیں وہ گویا رسول اللہﷺ کے باپ کو برا کہتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کا قیامت میں کیا حال ہوگا؟ اور رسول اللہﷺ کے اصحاب آپ کے عزیز و اقارب کی گستاخی کر کے وہ اپنے آقائے نامدارﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

عبرت! عبرت! عبرت!

9: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 419 میں ہے:

بروایت دیگر مشک خاکے از برائے آنحضرتﷺ فرستاد حضرتﷺ فرمود کہ امت من بزوری مالک زمین او خواہد شد چنانچہ خاک از برائے من فرستاد

ترجمہ: دوسری روایت میں ہے کہ کسریٰ (شاہ ایران) نے رسول اللہﷺ کے پاس مشت خاک بھیجی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ عنقریب میری امت اس زمین کی مالک ہوگی جیسا کہ خاک اس نے میرے لیے بھیجی۔

اب یہ مُسلَّم ہے کہ یہ پیشنگوئی بھی حضرت عمرؓ کے عہد فرخ میں پوری ہے چنانچہ ملک ایران کو آپؓ نے ہی فتح کیا۔ اگر معاذاللہ حضرت عمرؓ منافق و کافر تھے تو آپﷺ کا یہ فرمانا کہ میری امت سرزمینِ ایران کی مالک ہوگی، کیسے درست ہو سکتا ہے؟ کیا امت رسول میں کافر و منافق شمار ہو سکتے ہیں؟ اور نبیﷺ ان کی فتح کو اپنی امت کی فتح قرار دے سکتے ہیں؟

10: حضرت عمر رضی اللہ عنہ داماد علی رضی اللہ عنہ تھے۔ ایک روشن دلیل اس امر کی کہ حضرت عمرؓ سے حضرت علی المرتضیٰؓ کو کمال محبت و پیار تھا اور ان کے نزدیک ان کی شرافت اور نجابت مُسلَّم تھی، یہ ہے کہ جناب امیرؓ نے اپنی دختر بلند اختر حضرت ام کلثومؓ کا رشتہ حضرت عمرؓ کو دے کر نکاح کر دیا۔ اگر معاذاللہ وہ منافق تھے تو جناب امیرؓ نے سیدہ ام کلثومؓ کا کیوں ایک کافر منافق سے نکاح کر دیا؟

صفحہ 2 از 3