نظم فارسی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نظم فارسی

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

بداں فاقہ و ضعف سالار دیں

ستدیتشہ از دست انصار دیں

چوں برداشت فولاد خار اشگاف

درآمد بز نہارازاں کوہ قاف 

بنام خدائی جہاں آفریں 

بزدیتشہ را سید المرسلینﷺ

کہ یک گوشہ سنگ از ہم شکست

دراں وقت برقی ازاں سنگ جست 

کہ روشن شد آں دشت صحرا تمام

برآورد تکبیر خیر الانامﷺ

بضرب دوم ضلع دیگر شکست 

بداں گونہ برقی ازاں باز جست 

بفرمود تکبیر بار دوم

بزدپس برآں سنگ ضرب سوم

دریں بار ہم جست برتی چناں

نبی شد بہ تکبیر رطب اللسان 

شد ایں بارآں سنگ زیر و زبر

نماند احتیاجش بضرب دگر 

دراندم بدو گرفت سلمانؓ چنیں

کہ ای خاک راست سپہر بریں

چہ بدایں و اباشدچہ تعبیرآں 

بہ تکبیریں چوں برکشودی زباں

بپاسخ چنیں گفت خیر البشرﷺ

کہ چوں جست برقی نخست از حجر

نمودند ایوان کسریٰ بمن 

دوم قیصر روم سوم از یمن

سبب را چنیں گفت روح الامیں 

کہ بعد از من اعوان و انصار دیں

بریں مملکت ہا مسلط شوند

بہ آئین من اہل آں بہ گردند

بدیں مثردہ و شکر و لطف خدا

بہت بار تکبیر کردم ادا

شنید نداں مثردہ چومومناں

کشید تکبیر شادی کناں

ترجمہ: باوجود گرسنگی اور نحافت بدن کے آپﷺ نے جب خدا کا نام لے کر پتھر پر تیشہ کی ضرب ماری تو پہاڑ بھی لرز گئے، پہلی ضرب سے کچھ حصہ ٹوٹ پڑا اور ایسی روشنی نکلی کہ تمام بیابان بقعہ نور ہو گیا، تب حضورؓ نے تکبیر پڑھی۔ دوسری ضرب سے پتھر کا اور ٹکڑا اڑا اور ایسے ہی روشنی آئی اور پھر تکبیر فرمائی، تیسری دفعہ بھی یہی کیفیت ہوئی تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے دریافت کیا کہ حضورﷺ یہ کیا ماجرہ تھا؟ اور حضورﷺ نے کیوں تکبیر فرمائی؟ حضورﷺ نے جواب دیا، جب پہلی ضرب سے پتھر سے شعلہ نور اٹھا تو ایوان کسریٰ مجھے دکھائے گئے۔ دوسری ضرب سے محلات روم، تیسری میں یمن نمودار ہوئے۔ اس کا سبب جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا کہ میرے بعد میرے تابعداران جو اس دین کے ایوان و انصار ہوں گے ان ممالک کو فتح کریں گے اور میری طرح ان میں حکمرانی کریں گے۔ اس بشارت پر میں نے ہر دفعہ شکریہ کے طور پر تکبیر پڑھی پس مسلمانوں نے جب بشارت سنی، سب نے غلغلہ تکبیر بلند کیا۔

پس اب ہم شیعہ حضرات سے دریافت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کی یہ پیشنگوئی کب، کس کے دور میں پوری ہوئی؟

یہ بات مسلم ہے کہ روم، یمن، مدائن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں فتح ہوئے قیصر و کسریٰ کے تخت آپ ہی نے الٹ دیے اور ایوانِ کسریٰ میں جہاں تخت نوشیرواں بچھا تھا مسلمانوں نے اذان دے کر نماز جمعہ ادا کی، پھر اگر معاذاللہ حسبِ عظام شیعہ حضرت عمرؓ کو منافق یا کافر کہتے تھے تو حضورﷺ نے ان کے فتوحات کی خوشی کیوں کی؟ ان کو دین حق کا ایوان و انصار کیوں فرمایا؟ اور ان کی فتوحات کو اپنی طرف منسوب کیوں کیا؟ اس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جناب رسول اللہﷺ اپنا جائز جانشین تصور فرماتے تھے۔ تب ہی تو ان کی فتح کو اپنی فتح فرمایا اور دین متین کے سچے مددگار انصار کا لقب عطا فرمایا کہ

بریں مملکت ہا مسلط شوند 

بہ آئین من اہل آں بگرند

یعنی دین حق کے پاسبان وہ اعوان میرے جانشین ان ممالک پر مسلط ہوں گے اور میری طرح حکمرانی کریں گے۔ ان کی فتح میری فتح ہوگی اور ان کی حکومت میری حکومت ہوگی۔

کیا شیعہ صاحبان میں کوئی صاحبِ بصیرت ہے جو اپنی کتابوں کی بین شہادت دیکھ کر خیال کرے کہ جن پاک ہستیوں کی تم شکایت کرتے ہو رسول اللہﷺ کے دین کی انہوں نے کیسے مدد کی اور کیسے کیسے ماذی جبروت سلاطین کو حلقہ بگوش اسلام بنایا اور دنیا کی آبادی میں ظلم و کفر کو مٹا کر انہوں نے نورِ اسلام پھیلایا۔

مولانا شبلی رحمۃاللہ نے الفاروق حصہ دوم میں یورپین مورخین کی رائے کے موافق فتوحات فاروقی کی وسعت اور اس کی حدود اربع کی یوں تشریح کی ہے کہ:

حضرت عمرؓ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030 میل مربع یعنی مکہ معظمہ سے شمال کی جانب 1036، مشرق کی جانب 1027، جنوب کی جانب 483 میل تھا۔ مغرب کی جانب چونکہ صرف جدہ تک حدِ حکومت تھی اس لیے وہ قابلِ ذکر نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ دنیائے اسلام حضرت عمرؓ کی ذات اقدس پر جس قدر فخر کرے بجا ہے، آپ نے اپنے عہد خلافت میں ایسی مشکلات کو حل کیا جو انسانی طاقت سے بالاتر ہے۔ ایک ہزار چھتیس بلاد و امصار بڑے بڑے شہر جس میں کفار کی حکومت اور بتوں کی خدائی مانی جاتی تھی فتح کر کے ان کو دارالاسلام بنایا اور باشندگان کو کلمہ توحید پڑھایا۔

چار ہزار جامع مساجد تعمیر کیں، ہزاروں بت خانے گرائے اور آتش کدے سرد کیے۔ حق یہ ہے کہ آپؓ کی کوشش اور ہمت نے مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک آفتابِ عالم کی طرح نورِ ایمان پھیلایا اور صحرائے ضلالت میں مشعلِ ہدایت جلا کر تاریکی کفر کو مٹا دیا۔ آپ کی صولت فاروقی نے لشکر قیصر و کسریٰ کو ہزیمت دی اور عجم و عراق سے بے شمار مالِ غنیمت حاصل کیا۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

کی ہے خلافت آپ نے کس دھوم دھام سے

ایران سے خراج لیا اور شام سے

شوکت بھی فخر کرتی ہے حضرتؓ کے نام سے

گر شبہ ہے تو پوچھ لو ہر خاص و عام سے

طہران اور عراق میں سکہ بٹھا دیا

گبروں کا نام ملک عجم سے مٹا دیا

حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 248 میں ہے: 

ابن شہر آشوب وغیرہ روایت کردہ اندکے روزے آنحضرتﷺ نظر کرد بسوئے ذراعہائے سراقہ بن مالک کہ باریک و پرموبود پس فرمود چگونہ خواہد بود حال تو کہ دست رنجہائے بادشاہ عجم راد رست خود کردہ باشی پس چوں در زمان عمرؓ فتح مدائن کردند عمرؓ اوراطلبید و دوست رنجہائے بادشاہ عجم را در دست او کرد

ترجمہ: ابن شہر آشوب وغیرہ نے روایت کی کہ ایک روز آپﷺ نے سراقہ بن مالک کے بازوں کو دیکھا جو بہت پتلے اور بالوں سے بھرے ہوئے تھے اور فرمایا: سراقہ! تمہاری اس روز کیا حالت ہوگی؟ جب شاہِ عجم کے کنگن تمہارے ہاتھ میں ہوں گے؟ پھر جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں مدائن فتح ہوا تو آپؓ نے سراقہ کو طلب کیا اور شاہ عجم کے کنگن اس کے ہاتھ میں پہنا دیے۔

اس روایت کو بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو جن کو قیامت تک کے واقعات کا علم غیب 

صفحہ 1 از 3