جنگ جمل میں لڑائی بھڑکانے میں سبائیوں کا کردار - دفاعِ اہلِ…

جنگ جمل میں لڑائی بھڑکانے میں سبائیوں کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ت: باقلانی کا قول ہے: ’’صلح کی بات طے ہوگئی، رضا مندی پر اجتماع کا اختتام ہوا، قاتلینِ عثمان کو خوف لاحق ہوا کہ وہ پکڑے جائیں گے، اس لیے اکٹھے ہوئے، مشورہ کیا، اس پر متفق ہوگئے کہ وہ دو گروہوں میں ہو جائیں اور فجر سے پہلے ہی دونوں فریقوں میں جنگ چھیڑ دیں، اور لوگوں کے ساتھ مل جائیں، اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہنے والا گروہ چیخا کہ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے غداری کردی، اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہنے والا گروہ چیخا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے غداری کردی، ان کی یہ سازش کامیاب رہی اور جنگ چھڑ گئی، ہر فریق اپنا دفاع اور اپنے خون کی حفاظت کر رہا تھا، اس طرح دفاع کرنا فریقین کی جانب سے درست تھا اور اس میں اللہ کی اطاعت تھی، یہی مشہور اور صحیح بات ہے، ہم بھی اسی کے قائل ہیں۔‘‘

(التمہید: صفحہ 233)

ث: قاضی عبدالجبار نے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں کہ علی، طلحہ، زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم ترک جنگ کے معاملے میں غور و فکر کرنے اور مصالحت پر متفق تھے۔ دشمنانِ عثمان رضی اللہ عنہ کو جو فوج میں موجود تھے یہ بات پسند نہ آئی، انھیں خوف لاحق ہوگیا کہ سب کی توجہ انھی کی جانب ہوجائے گی (یعنی ان سے خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لیں گے) چنانچہ انھوں نے اس چیز کی سازش کی جو معروف ہے اور یہ سازش پوری ہو کر رہی۔

(تثبیت دلائل النبوۃ للہمذانی: صفحہ 299)

ج: ابوبکر ابن العربیؒ کا قول ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ آئے، دونوں فریق قریب ہوئے تاکہ تبادلۂ خیالات کریں، لیکن نفس پرستوں نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا، جلدبازی میں خون بہانے لگے اور لڑائی بھڑک اٹھی، گھٹیا قسم کے لوگوں کا ہنگامہ زیادہ ہوگیا، یہ سب اس لیے تھا کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ چھپے رہ جائیں، ان کے خلاف نہ تو دلیل قائم ہوسکے اور نہ ہی حقیقتِ حال واضح ہوسکے۔ ایک ہی فوجی فوج کے منصوبے کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے تو ہزاروں فوجیوں کی بات ہی الگ ہے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 152، 157)

ح: ابن حزمؒ کا قول ہے: اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ لوگ جمع ہوئے اور لڑے نہیں، جب رات ہوئی تو قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا کہ یہ بہلاوا و پھسلاوا اور چال ان کے خلاف ہے، چنانچہ انھوں نے طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کی فوج پر شب خون مارا، ان پر تلواروں سے حملہ کیا، لوگوں نے اپنا دفاع کیا تاآنکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے بھڑ گئے، پھر انھوں نے اپنا دفاع کیا، ہر فریق بلاشبہ یہ سوچتا تھا کہ دوسرے فریق نے جنگ شروع کی ہے، معاملہ بالکل الجھ کر رہ گیا، ہر فریق اپنے دفاع سے بڑھ کر کچھ نہ کرسکا۔ قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ برابر جنگ کی آگ بھڑکا رہے تھے، دونوں فریق اپنی غرض و غایت اور مقصد میں حق پر تھے، زبیر رضی اللہ عنہ جنگ کو اپنے حال پر چھوڑ کر واپس چلے گئے، طلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اس مڈبھیڑ کی حقیقت نہیں جان پا رہے تھے کہ ایک انجانا تیر انھیں لگا، یہ تیر سیدنا طلحہؓ کی پنڈلی کے اس زخم کی جگہ لگا جو زخم طلحہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ احد میں لگا تھا، چنانچہ لوٹے اور اسی وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کو جنگ سے لوٹتے ہوئے بصرہ سے ایک دن سے کم کی دوری پر واقع مقام ’’وادی السباع‘‘ میں شہید کردیا گیا، معاملہ ایسا تھا۔

(الفصل فی الملل و النحل: جلد 4 صفحہ 157، 158)

خ: امام ذہبیؒ کہتے ہیں: جنگ جمل کو دونوں فریقوں کے بیوقوفوں نے بھڑکایا تھا۔

(العبر: جلد 1 صفحہ 37، عبداللہ بن سبأ للعودۃ: صفحہ 195)

نیز کہتے ہیں: دونوں فریق مصالحت پر آمادہ تھے، سیدنا علی و طلحہ رضی اللہ عنہما میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا تھا، بلکہ وہ اتحاد کی بات کرنا چاہتے تھے، ایسے میں دونوں فریق کے اوباشوں نے تیر اندازی شروع کردی، جنگ کی آگ بھڑک اٹھی اور لوگ برانگیختہ ہوگئے۔

(تاریخ الاسلام: جلد 1 صفحہ 15، عبداللہ بن سبأ للعودۃ: صفحہ 195)

اور ’’دول الاسلام‘‘ میں کہتے ہیں: شورش پسندوں کی جانب سے جنگ چھڑ گئی، اور معاملہ علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کے ہاتھ سے نکل گیا۔

(دول الإسلام: جلد 1 صفحہ 15، عبداللہ بن سبأ للعودۃ: صفحہ 195)

ڈاکٹر سلیمان بن حمد عودہ کہتے ہیں: ’’اس کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنگ جمل میں سبائیوں کے کردار کی صراحت کرنے والی طبری کی روایت مذکورہ عمومات کی تخصیص کرے اور ان علماء کے اقوال میں وارد گروہوں سے کون مراد ہیں؟ بالتحدید بیان کردے، اس میں کوئی مانع اور رکاوٹ نہیں، اور اگر شورش کرنے والے ان گروہوں کا تعلق براہِ راست سبائیوں سے نہ رہا ہو، ان کے مقاصد بھی مختلف رہے ہوں، تب بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان گروہوں نے زمین ہموار کی، ابن سبا اور اس کے ہم نوا سبائیوں نے اس کا استغلال کیا، جیسا کہ بعض شورش برپا کرنے والی تحریکوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ مفسدوں کا استغلال کرتی ہیں۔‘‘

(عبداللہ بن سبأ للعودۃ: صفحہ 196)

جنگ جمل کے دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ میمنہ میں تھے، دوسرے قول کے مطابق میسرہ میں تھے، سیدنا حسنؓ جنگ کو ناپسند کرتے اور اپنے والد کو اسے ترک کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

(الوافی بالوفیات للصدفی: جلد 12 صفحہ 109)


صفحہ 2 از 2