اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف -…

اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

مسلمان جب بھی قحط سالی یا کسی دوسری پریشانی سے دوچار ہوتے وہی اپنا بہت سارا مال خرچ کرتے، لوگوں پر جب بھی کوئی مصیبت یا آفت آتی تو سیدنا عثمان غنیؓ ہمیشہ ان کی مدد کرتے تھے۔

(التمہید و البیان: صفحہ 424)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ محاصرین کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے مذکورہ احوال کو ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں:

’’لوگو! تمھارا یہ کام نہ تو مومنوں کا کام ہے اور نہ ہی کافروں کا، تم ان کا کھانا پانی مت روکو، اہل روم و فارس بھی قیدیوں کو کھانا پانی دیتے ہیں۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 400)

تاریخی واقعات اور صحیح روایات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف برانگیختہ کرنے اور آپ کے خلاف فتنہ برپا کرنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بری قرار دیتی ہیں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 18)

تفصیل کے لیے میری کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان‘‘ دیکھی جائے۔

 (صفحہ 451، 466)


صفحہ 3 از 3