اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف -…

اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہی رہا، خیرخواہی کرتے، مشورہ دیتے اور اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہے، اثنائے فتنہ میں آپ کا اچھی طرح ساتھ دیا، سیدنا عثمانؓ کی جانب سے بھرپور دفاع کیا، کبھی آپ کو برا نہیں کہا، خلیفہ اور باغیوں کے مابین خلیج کو پاٹنے اور صلح کرانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن معاملہ سیدنا علیؓ کے بس سے باہر تھا، اللہ کی مشیت تھی کہ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو شہادت نصیب ہو،

(خلافۃ علی بن أبي طالب: علی عبدالحمید: صفحہ 87)

اور باغی گناہ کے مرتکب ہوں۔

امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا انکار کرتے اور سیدنا عثمان غنیؓ کے خون سے برأت کا اظہار کرتے اور اپنی تقریروں وغیرہ میں قسم کھایا کرتے تھے کہ نہ تو انھوں نے قتل کیا نہ ہی قتل کا حکم دیا، نہ تو اس سلسلے میں تعاون کیا، اور نہ ہی اس پر راضی تھے۔ آپ کے متعلق یہ بات قطعی طریقوں سے ثابت ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 202)

اس کے برخلاف بعض لوگوں کا زعم باطل تھا کہ آپ قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ پر راضی تھے۔

(العقیدۃ فی أہل البیت بین الإفراط و التفریط: صفحہ 129، حق الیقین: عبدالحمید شبر: صفحہ 189) 

اس قتل سے متعلق بعض روایتوں کا ذکر کرنے کے بعد امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

فَأَمَّا الَّذِیْ ادّعتہ المبتدعۃ من معونۃ أمیر المؤمین علی بن أبي طالب فإنہ کذب و زور، فقد تواترت الاخبار بخلافہ۔

(مستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 103)

’’بدعتیوں کی جانب سے اس قتل میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے تعاون کا دعویٰ سراسر جھوٹا ہے، اس کے برخلاف روایتیں بہ تواتر وارد ہیں۔‘‘

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:

’’یہ سب کا سب جھوٹ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر بہتان ہے، علی رضی اللہ عنہ نہ تو قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک رہے، نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس پر راضی تھے۔ ان سے یہ باتیں منقول ہیں اور وہ سچے اور نیک انسان ہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 406)

اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انھوں نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرے حضور قتل عثمان رضی اللہ عنہ سے برأت کا اعلان کرتا ہوں۔

(العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 130، اس کی سند حسن ہے۔ الطبقات الکبری: جلد 3 صفحہ 3) 

قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مؤقف کو بعض کتبِ تاریخ نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ایسا ان روایتوں کے باعث ہوا جنھیں بہت سارے مؤرخین نے ذکر کیا ہے۔ تاریخ طبری وغیرہ میں ابومخنف، واقدی، ابن اعثم وغیرہ کی جو روایتیں اس فتنے کے حالات بیان کرتی ہیں ان کا مطالعہ کرنے والا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس فتنے اور سازش کے پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی تھے۔

ابومخنف شیعی میلان والا تھا اس لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو متہم کرنے میں ذرا بھی دریغ نہیں کرتا تھا کہ خلیفہ کی ہی غلطیاں زیادہ تھیں اسی لیے وہ اس کے مستحق ہوئے، اور اپنی روایتوں میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا باغی اور آپؓ کے خلاف حملہ آور قرار دیتا تھا، واقدی کی بھی روایتیں ابومخنف کی روایتوں سے مختلف نہیں ہیں، ایسی بہت ساری روایتیں وارد ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تہمت لگائی گئی ہے کہ وہی لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازش کرنے والے تھے، انھی لوگوں نے فتنہ کو بڑھاوا دیا تھا، لوگوں کو برانگیختہ کیا تھا، جب کہ یہ سب سراسر جھوٹ ہے۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 3)

ان ضعیف و موضوع روایتوں کے برخلا ف بحمد اللہ کتبِ احادیث نے ان صحیح روایتوں کو محفوظ رکھا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاونین، آپ کا دفاع کرنے والے، آپ کے قتل سے بری، اور قتل کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے والے تھے، اس طرح یہ بات بعید از قیاس ہو جاتی ہے کہ ان کا اس فتنہ کو برپا کرنے میں کوئی کردار تھا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 14، 18)

تمام کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے بری ہیں، جو اس کے خلاف کہتا ہے اس کی بات سراسر باطل ہے اس کی وہ کوئی صحیح دلیل نہیں دے سکتا، اسی لیے خلیفہ اپنی ’’تاریخ‘‘ میں عبد الاعلیٰ بن ہیثم کی روایت کو نقل کرتے ہیں، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ میں مہاجرین و انصار میں سے کوئی تھا؟ فرمایا: نہیں، وہ مصر کے اکھڑ لوگ تھے۔

امام نوویؒ کہتے ہیں:

’’قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ میں کوئی بھی صحابی شریک نہیں تھا، انھیں قبائل کے شورش پسند، بیوقوف، لچے اور لفنگوں نے قتل کیا، مصر ہی سے انھوں نے اپنا گروپ تیار کیا اور سیدنا عثمانؓ کے قتل کا ارادہ کیا، موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کو روکنے سے قاصر رہے، چنانچہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ کا محاصرہ کرلیا تا آنکہ سیدنا عثمانؓ کو قتل کردیا گیا۔‘‘

(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ 148)

ان کے بارے میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مختلف علاقوں کے شورش پسند تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ قبائل کے در بدر کردہ لوگ تھے۔‘‘

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 148)

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ فسادی، خوارج، گمراہ باغی اور سرکش تھے۔

(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ 189، 206)

امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ وہ ظلم و جفا اور برائی کے سردار تھے۔

(دول الإسلام للذہبی: جلد 1 صفحہ 12)

شذرات میں ابن عماد حنبلیؒ کہتے ہیں کہ وہ قبائل کے اوباش اور گھٹیا لوگ تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 482 شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 40)

محاصرہ سے لے کر ظلماً خلیفہ کے قتل تک ان لوگوں کے تصرفات ان اوصاف پر دلالت کرتے ہیں، انھی کا کھانا پانی روکا جا رہا ہے، جنھوں نے اپنا ذاتی مال (کنواں خریدنے میں) خرچ کیا تھا جس سے سیرابی کے لیے مسلمانوں کو مفت پانی ملتا تھا۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان للصلابی: صفحہ 450)

صفحہ 2 از 3