مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک…

مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

سوال: آپ نے اعتراف کیا کہ موجودہ قرآن تو نبی کریمﷺ اپنی موجودگی میں لکھوا چکے تھے، تو پھر جناب عثمانؓ نے قریش کی قرأت پر جو قرآن لکھوایا وہ کونسا تھا؟

جواب: : یہ کس نے کہا کہ سات قرأت میں قریش کی قرأت شامل نہیں ہے۔ اپنی لفاظیاں کیوں کرتے ہیں۔نبی نے سات قرأت میں ہی لکھوایا تھا۔ اسی لئے تو بعد از نبیﷺ  قرأت پر اختلاف ہوا اور امت مسلمہ کو ایک قرأت پر جمع کیا گیا۔ اس کا تحریف سے تعلق ہی نہیں ہے۔
سوال: باقی چھ قرأتوں میں نبیﷺ نے قرآن نہیں لکھوایا تھا؟؟ آپ نے فرمایا نبیﷺ نے موجودہ قرآن سات قرأتوں میں لکھوایا ، جب کہ موجودہ قرآن تو سات قرأتوں میں لکھا ہوا نہیں ہے

جواب: بالکل سات قرأت میں قرآن لکھوایا تھا۔ سات قرأت تو شیعہ کتب سےبھی ثابت ہیں،  لیکن یہ موضوع گفتگو نہیں ہے۔ آپ کو شوق ہے تو ہم سات قرأت پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ موجودہ قرآن قریش قرأت پر ہے جو نبی کریمﷺ کا لہجہ تھا۔

شیعہ عالم نے خاص طور سبعہ احرف پر گفتگو موڑنے کی کوشش کی۔ جبکہ یہ نکتہ اس وقت زیر بحث نہیں تھا۔

ان سے عقیدے کی وضاحت پوچھی جاتی رہی اور وہ اس سے آخر تک بھاگتے رہے۔

شیعہ کے تمام سوالات کے کافی شافی جوابات دیئے گئے لیکن سید علی حیدری نے بھی رانا محمد سعید کی طرح اپنے عقیدے کی وضاحت نہ دینے کی قسم کھا رکھی تھی۔ تنگ آ کر انہیں بھی رانا محمد سعید کی طرح خبردار کردیا گیا کہ جو سوال پوچھنے ہیں وہ لکھ دیں، لیکن اس کے بعد شیعہ عقیدے کی وضاحت ضرور دینی ہوگی۔

دوبارہ پندرہ منٹ کا وقت دیا گیا کہ اپنے عقیدے کی وضاحت کریں اور بنیادی سوالات کے جوابات دئے جائیں، انہوں نے اپنے تینوں سوالات اور جوابات کو مکس کر کے گفتگو الجھانے کی ناکام کوشش کی جسے فوراً سلجھا دیا گیا۔  آخری پانچ منٹ میں انہوں نے میرے جوابات سے غلط مفہوم نکال کر گمراہ کرنے کی مذموم کوشش بھی کی، جس کو فورأ کلیئر کردیا گیا۔

نتیجہشیعہ عالم نے اقرار کیا کہ اہل سنت کے ہاں شروع سے آج تک تحریف قرآن کا کوئی تصور نہیں ہے۔

دوران گفتگو شیعہ عالم نے تحریف قرآن کو ممکنات میں سے ہونا تسلیم کیا جو بذات خود خلاف قرآن تصور ہے اور اس مؤقف سے  ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں! معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کریم میں رد و بدل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ خود قرآن کریم نے بتا دیا کہ 

لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ 

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے۔(سورت فصلت 42)

یعنی اس کی اتاری ہوئی کتاب میں جھوٹ آئے تو کدھر سے آئے۔ اور جس کتاب کی حفاظت کا وہ ذمہ دار ہو، باطل کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس پھٹک سکے۔ بیشک قرآن کریم ہر طرح سے محفوظ ہے، آگے سے، کا مطلب ہے کمی اور پیچھے سے، کا مطلب ہے زیادتی یعنی باطل اس کے آگے سے آ کر اس میں کمی اور نہ اس کے پیچھے سے آ کر اضافہ کر سکتا ہے اور نہ کوئی تغیر و تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال وافعال میں حکیم ہے اور حمید یعنی محمود ہے یا وہ جن باتوں کا حکم دیتا ہے اور جن سے منع فرماتا ہے عواقب اور غایات کے اعتبار سے سب محمود ہیں یعنی اچھے اور مفید ہیں۔

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (سورت الحجر 9)

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

اور بیشک قرآن کریم کا محافظ اللہ عزوجل خود ہے کسی بنی بشر کو طاقت ہی نہیں ہے اس میں کسی بھی طرح کوئی تبدیلی کر سکے۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ اہلِ تشیع اگر تحریف قرآن کا عقیدہ نہیں رکھتے تو مناظروں، مکالموں اور مباحثوں میں کھل کر اپنا مؤقف بیان کرنے سے گھبراتے کیوں ہیں؟ اور الٹا وہی الزام اہل سنت پر ثابت کرنے کیوں لگ جاتے ہیں جبکہ اہل سنت تو قائل تحریف قرآن کو کافر قرار دیتے ہیں! کیا کوئی خود پر ایسا فتویٰ لگا سکتا ہے؟ واضح رہے کہ اہلِ تشیع کے ہاں تحریف کے قائل کو کافر نہیں سمجھا جاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جیّد شیعہ علماء کی اکثریت قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتی اور اسے معاذاللہ تحریف شدہ تسلیم کرتی ہے۔ 

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (سورت یسین 17)

اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ 


صفحہ 3 از 3