مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک…

مسئلہ تحریف قرآن پر سُنی و شیعہ مختصر اور دلچسپ مکالمہ (ایک تیر سے دو شکار)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

انہیں دوٹوک بتایا گیا کہ اہل سنت تو دور نبوی سے موجود ہیں، رہی بات شیعہ اثناعشریہ کی تو وہ خود چوتھی صدی کی پیداوار ہیں اور جب شیعہ عقائد کی تائید قرآن سے نہ ہو سکی تو مجبوراً تحریف قرآن کا عقیدہ بھی گھڑا گیا تاکہ شیعیت کا دفاع ممکن ہوسکے۔

اس موقعہ پر سید علی حیدری صاحب نے اہلِ سنت کو دور نبوی سے ثابت کرنے پر دلیل طلب کرلی حالانکہ گفتگو دلائل تک ابھی پہنچی نہیں تھی اس کے علاوہ لفظ شیعہ سے اپنے مذہب کی تائید دور نبوی سے دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی ،  جسے یہ کہہ کر فوراً رد کر دیا گیا کہ  لفظ شیعہ دور قدیم میں لغوی معنی میں استعمال ہوتا تھا اور شیعہ لفظ کے لغوی معنی ہیں گروہ یا ٹولہ۔ اسی لئے تاریخ میں شیعان عثمان، شیعان علی اور شیعان معاویہ کا ذکر موجود ہے۔ شیعہ لفظ کے اصطلاحی معنی جب رائج ہوئے یعنی شیعہ مذہب گھڑا گیا تو اہلِ سنت نے اس لفظ سے بے زاری اختیار کی۔ لیکن فی الوقت زیر بحث موضوع تحریف قرآن ہے۔

 انہیں آفر کی گئی کہ وہ چاہیں تو اس موضوع پر بھی گفتگو کی جا سکتی ہے کہ دور نبوی میں مسلک اہلِ سنت تھا یا مسلک اہلِ تشیع، لیکن انہوں نے تحریف قرآن پر ہی گفتگو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

رانا محمد سعید کی طرح ان سے بھی بار بار اہلِ تشیع عقیدہ پوچھا جاتا رہا، لیکن وہ بتانے سے قاصر رہے۔ 

سید علی حیدری نے دوران گفتگو مطالبہ کیا کہ تحریف قرآن کی تعریف علماء متقدمین سے پیش کی جائے، جبکہ خود اوپر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ اہلِ سنت کے ہاں تحریف قرآن کا مسئلہ  شروع سے آج تک موجود ہی نہیں ہے۔ غور کیا جائے تو جس بات کا وجود نہ ہو اس کے متعلق ایسا مطالبہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیر انہیں پھر بتایا گیا کہ پہلی چار صدیوں تک تحریف قرآن کا تصور تک نہیں تھا، جب اثنا عشریہ گھڑا گیا تو تحریف قرآن کا عقیدہ مشہور ہوا، اس لئے یہ مطالبہ عقلی طور پر درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی تحریف کی تعریف آسان الفاظ میں ان کی خدمت میں پیش کردی گئی۔

تحریف کی تعریف:  تحریف عربی کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا۔ الفاظ حرف یا بیان وغیرہ بدل دینا یا کسی متن میں تبدیلی وغیرہ۔ قرآن کریم میں تحریف کا ہونا ممکن نہیں جو اس کا قائل ہوگا وہ کافر ہو جائے گا۔

 اس کے بعد سید علی حیدری ڈھکے چھپے انداز سے اقرار کرتے رہے کہ اہلِ تشیع واقعی تحریف قرآن کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ تک لکھ دیا کہ تدوین قرآن کے دور میں تحریف قرآن ممکن ہے۔ معاذاللہ 

غور فرمائیں! جس کا محافظ اللہ عزوجل خود ہو اس میں کمی بیشی کا ہونا شیعہ کے ہاں ممکنات میں سے ہے۔

انا للہ وانا الیہ رجعون۔

ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا آپ اقرار کر رہے ہیں کہ تدوین قرآن کے دور میں تحریف ہوئی ؟ تو اس کا جواب تک نہ دیا بلکہ آگے سے یہ کہا کہ  ممکن ہے کہ اوائل اسلام کے افراد خود تحریف قرآن کے قائل ہوں! اور ان کے لئے قرآن مجید میں تحریف کوئی وجہ کفر نہ ہو! (یہ الفاظ بھی براہِ راست شیعہ کے عقیدہ تحریف قرآن پر دلالت کرتے ہیں۔)

اس کے بعد سید علی حیدری صاحب نے تین اہم نکات لکھے۔

قرآن مجید کو تحریف سے پاک ماننے کے لیے لازم ہے کہ اہلِ سنت کے قرآن مجید سے متعلق بنیادی عقائد کو گھڑنتو اور اسلام مخالف تسلیم کیا جائے۔

¹- ہر مسلمان کو قرآن مجید سے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ موجودہ قرآن مجید کی تدوین یا کتابت خود نبی کریمﷺ نے اپنی موجودگی و سرپرستی میں کروائی اور اس عقیدے کو من گھڑت تسلیم کرنا چاہیے کہ موجودہ قرآن مجید کی کتابت بعد وفات الرسول دور عثمان میں ہوئی۔

 ²ـ اس عقیدے کو من گھڑت تسلیم کیا جانا چاہئے کہ جو قرآن، نبی کریمﷺ پر نازل ہوا وہ سبعہ احرف میں تھا اور یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ نبی کریمﷺ پر قرآن حرف واحد میں نازل ہوا۔

³ـ قرآن مجید کی منزل من اللہ قرأت ایک ہی تھی اور وہ قرات الرسول تھی , اس کے علاؤہ دیگر قرأتیں منزل من اللہ نہیں۔

الجواب اہل سنت: یہ سب بعد کی ثانوی باتیں ہیں۔ اس وقت موجود قرآن کے متعلق اہلِ تشیع کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟

ہمارے گھروں میں جو قرآن موجود ہے وہ مکمل محفوظ ہے یا نہیں؟ اس میں کوئی کمی بیشی ہوئی ہے یا نہیں؟

اور پھر دوبارہ ان سے اہلِ تشیع عقیدہ پوچھا گیا تو انہوں نے اس طرح بیان کیا۔

شیعہ عقیدہ

موجودہ قرآن کی تدوین وکتابت چوں کہ نبی کریمﷺ کی موجودگی میں ہوئی، یہ حرف واحد میں نازل ہوا اور اس کی ایک ہی منزل من اللہ قرأت ہے لہٰذا یہ تحریف سے پاک ہے۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ موجودہ قرآن تدوین سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟  تو جواب دینے کے بجائے اہلِ سنت عقیدہ پوچھا گیا جو فوراً ان کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔ 

اہل سنت عقیدہ

قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی۔ ایک ایک لفظ وہی ہے جو وحی الہٰی ہے۔ کوئی کمی بیشی رد و بدل نہیں ہوا۔ تحریف کا قائل کافر ہے۔

شیعہ کے تین سوال اور ان کے جوابات

1: آپ بتائیں موجودہ قرآن مجید پر آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ آیا کہ یہ نبی کریمﷺ نے اپنی موجودگی میں لکھوایا یا ان کی غیر موجودگی میں کسی نے لکھا؟

جواب: قرآن کریم نبی کے دور میں کاغذ لکڑی پتھر چمڑے اور درختوں کے پتوں وغیرہ پر محفوظ کردیا گیا تھا۔ترتیب بھی نبی کریمﷺ نے بتادی تھی۔

2- نبی کریم پر قرآن حرف واحد میں نازل ہوا یا سبعہ احرف میں؟

جواب: قرآن کریم سبعہ احرف میں نازل ہوا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے قریش کی قرأت پر امت کو جماع فرما دیا۔

3- قرآن مجید کی منزل من اللہ قرات وہی ہے جو نبی کی تھی یا کوئی اور بھی منزل من اللہ قرات ہے؟

جواب:  قرآن کریم آج من و عن وہی ہے جو نبی کریمﷺ پر نازل ہوا تھا۔

وہ سوال جس سے شیعہ عالم آخر تک بھاگتا رہا۔ 

¹ـ موجود قرآن کریم مکمل محفوظ تحریف سے پاک ہے یا نہیں۔؟

²ـ تحریف کا جو قائل ہوگا وہ کافر ہے یا نہیں؟

شیعہ کے مزید سوالات اور ان کے جوابات

سوال: موجودہ قرآن نبی کریم نے اپنی موجودگی میں لکھوایا تھا یا موجودہ قرآن نبی کریم نے اپنی موجودگی میں نہیں لکھوایا؟

جواب: نبی کریم نے لکھوایا تھا۔ ترتیب بھی نبی کریم نے بتائی ہے۔ اوپر پڑھتے کیوں نہیں ہیں۔دور نبوی میں کاتبین وحی نے لکھا تھا۔

صفحہ 2 از 3