فتنے کی ابتداء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف - دفاعِ…

فتنے کی ابتداء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

مدینہ آنے والے باغیوں کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تہمت تھی کہ انھوں نے ان کے پاس خط لکھ کر مدینہ آنے کی دعوت دی ہے، چنانچہ ان کی تہمت کا انکار کرتے اور قسم کھاتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

وَ اللّٰہُ مَا کَتَبْتُ إِلَیْکُمْ کِتَابًا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 191)

’’اللہ کی قسم میں نے تمھیں کوئی خط نہیں لکھا۔‘‘

اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب یہ بات منسوب کی گئی کہ انھوں نے لوگوں کو خط لکھ کر اپنے پاس آنے کا حکم اس لیے دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بگاڑ دیا گیا ہے اور اسے چھوڑ دیا گیا ہے اور مدینہ میں جہاد دور سرحدوں کی حفاظت سے بہتر ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 175)

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جھوٹی تہمت ہے، ان کی جانب منسوب جعلی خطوط لکھے گئے تھے، چنانچہ علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب سے قاتلین عثمان خوارج کی طرف جعلی خطوط لکھے گئے، جن کا ان لوگوں نے انکار کیا ہے، اسی طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب جعلی خط لکھا گیا نہ آپ نے اس کا حکم دیا تھا اور نہ آپ کو اس کا علم تھا۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 175)

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی اس بات کی تائید طبری اور خلیفہ کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ کبارِ صحابہ سیدنا علی، عائشہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے بذات خود صحیح روایتو ں کے مطابق ان جعلی خطوط کا انکار کیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

جن مجرم ہاتھوں نے صحابہ کی جانب منسوب جھوٹے اور جعلی خطوط تیار کیے تھے انھی ہاتھوں ہی نے فتنوں کی آگ شروع سے آخر تک بھڑکائی تھی، اتنا لمبا چوڑا فساد پھیلایا تھا، انھوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب جھوٹی باتوں کو گھڑا تھا اور پھیلایا تھا، اور لوگوں کو بار بار سنا کر ذہن میں بٹھایا تھا، تا آنکہ معمولی قسم کے لوگوں نے بھی ان باتوں کو قبول کرلیا، پھر انھوں نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب یہ جعلی خط تیار کیا تاکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کردیے جائیں۔

اس سبائی یہودی سازش کا نشانہ صرف شہید ہونے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی نہ تھے بلکہ ان سے پہلے اس کا نشانہ بذاتِ خود اسلام تھا، پھر محرف اور بگاڑی ہوئی تاریخ، اور اس تاریخ کو پڑھنے والی آئندہ نسلیں بھی اس حاسد، نفس پرست، لالچی اور خبیث یہودی اور اس کے کارندوں کے نشانے پر تھیں۔

کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اسلامی نسلیں اپنی صحیح تاریخ سے آگاہ ہوسکیں اور اپنی عظیم شخصیات کی سیرتوں کو جان سکیں؟ بلکہ عصر حاضر میں مسلمان اہل قلم کے لیے کیا وہ وقت نہیں آیا کہ وہ اللہ سے ڈریں اور تحقیق و تدقیق سے پہلے بے گناہوں کی تنقید و تنقیص کی جرأت نہ کریں تاکہ دوسروں کی طرح وہ بھی غلطی کے مرتکب نہ ہوں۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 238، 239)


صفحہ 2 از 2