خیال شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خیال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

24: وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِيۡكُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ لَوۡ يُطِيۡعُكُمۡ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ۞ 

(سورۃالحجرات: آیت 7، 8)

ترجمہ: اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے دلوں میں خدا نے ایمان راسخ اور مضبوط کر دیا ہے اور ایمان کے ساتھ ان کو محبت طبعی ہو گئی ہے اور کفر و فسق سے ان کو ہمیشہ کے لیے نفرت ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایمان کے خلاف کوئی بات ان سے سرزد ہونا محال تھی، پھر ان پاک نفوس پر یہ الزام کہ ان کی ایمانی حالت ایسی متزلزل تھی کہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں بھی ان کا ایمان صرف رسمی اور ظاہری تھا۔ ظاہر میں نبی کریمﷺ کے دوست اور اندر سے دشمن بنے رہے اور آپﷺ کی وفات کے بعد خاندانِ رسالتﷺ پر اعلانیہ ظلم کرنے شروع کر دیے، کیا یہ آیت کریمہ مذکورہ کی صریح تکذیب نہیں ہے؟ عبرت، عبرت، عبرت!!!

25: فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا۞ 

(سورۃالفتح: آیت 26)

ترجمہ: اللہ نے اپنی طرف سے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ 

یہ سورہ فتح کی آیت ہے جس میں مجاہدینِ حدیبیہ کے فضائل ومناقب کا بیان ہے۔ ان کو تسکین و تسلی دی گئی ہے اور آئندہ فتوحات وغنائم کی بشارت سنائی گئی ہے اور اسی سلسلے میں یہ آیت بھی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ کریم کی طرف سے اصحابِؓ حدیبیہ پر سکینہ نازل ہوا اور صفتِ تقویٰ ان کے لیے ایسی وصف لازم ہو گئی جو کبھی منفک نہیں ہو سکتی اور یہ بھی فرمایا گیا کہ یہ سچے جاں نثارانِ رسولﷺ فی الواقع اس انعام عظیم کے سب سے زیادہ مستحق اور سزاوار تھے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جن لوگوں کے لیے وصف تقویٰ لازم کی گئی ہو، کیا وہ منافق ہو سکتے ہیں؟ یا پھر ان کے ارتداد کا احتمال ہو سکتا ہے؟

26: اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ ۞

(سورۃالتوبۃ: آیت 40)

ترجمہ: اگر تم ان کی (یعنی نبی کریمﷺ کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں کیونکہ) اللہ ان کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ: غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔


صفحہ 3 از 3