خیال شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خیال شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

اس آیت میں حق تعالیٰ نے صاف بتلا دیا ہے کہ رسول اللہﷺ مخلص مومنین کی باتیں سنتے اور ان کی تصدیق فرماتے تھے اور آپﷺ کی نظرِ رحمت بھی مخلص مومنین پر ہوتی تھی اور یہ مُسلَّمہ بات ہے کہ اصحابِ ثلاثہؓ آنحضرتﷺ کی مجلسِ شوریٰ کے اعلیٰ ممبران تھے۔ آپﷺ جملہ امور میں بحکم "وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌" جملہ امور میں ان سے مشورہ لیتے اور بہت باتوں میں انہی کی اصلاح و مشورے پر کام کرتے تھے اور خدائے کریم فرماتا ہے کہ نبی کریمﷺ کو اجازت ہی نہیں ہے کہ غیر مومن لوگوں کی باتیں سن کر ان کی تصدیق کریں چہ جائیکہ ان کو اپنا مشیر یا صاحب گردانیں اور نیز جس قدر آپﷺ کی نظرِ عاطفت ثلاثہؓ پر تھی اس سے انکار ہو نہیں سکتا کیونکہ آپﷺ نے ان کے گھر سے ناطے لیے اور اپنے گھر سے دیے اور آیت سے ثابت ہے کہ یہ آپﷺ کی نگاہِ عاطفت مومنوں پر ہی ہوا کرتی تھی پھر شیعہ صاحبان کا آپﷺ کے مصاحبوں، آپﷺ کے مخلص دوستوں، آپﷺ کے قرابت داروں کے ایمان میں شک کرنا سخت ناانصافی اور صریح بے ایمانی ہے۔

22: وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا۞

(سورۃآل عمران: آیت 103)

ترجمہ: اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ 

 اس آیت میں حق تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اسلام سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہم پشتنی عداوتیں چلی آتی تھیں جن کو اسلام کی روشنی نے بالکل مٹا دیا اور آپس میں ایسی اخوت قائم کر دی کہ اس بھائی بندی کا رشتہ ہمیشہ رہنے والا تھا۔

مندرجہ بالا آیت اس امر کی گواہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں اسلام لانے کے بعد ایسی دوستی و اخوت پیدا ہو گئی تھی کہ عداوت کا احتمال ہی جاتا رہا لیکن شیعہ برخلاف اس کے یہ کہتے ہیں کہ اسلام لا کر بھی ان میں عداوت بدستور رہی اور وہ ایک دوسرے کے دشمن بنے رہے۔ خدا کو سچا مانیں یا شیعہ کے مزعوماتِ فاسدہ کو؟ صاحبان اگر قرآن سچا ہے اور کوئی مسلمان قرآن کی تکذیب نہیں کر سکتا تو ماننا پڑے گا کہ اصحابِ ثلاثہؓ اور علی المرتضیٰؓ باہم بھائی بھائی اور شیر و شکر تھے۔ ایک دوسرے کے مفاد پر جان قربان کرتے اور باہم مل کر اسلام کی خدمات بجا لاتے اور کفار سے قتال و جدال کرتے تھے۔ نیز آیت سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسلام لانے سے پیشتر یہ لوگ دوزخ کے کنارے پر تھے لیکن اسلام کی نعمت حاصل ہونے کے بعد آتشِ دوزخ ان پر حرام ہو گئی اور یہ بالکل نجات یافتہ ہو گئے لیکن شیعہ کا قول مانا جائے تو وفاتِ نبویﷺ کے بعد سوائے معدود چند اشخاص (تین چار) کہ سب کے سب مسلمان مرتد و کافر ہو گئے اور جہنم کے گڑھے میں گر گئے تو پھر "فَاَنۡقَذَكُمۡ" کا مضمون غلط ہو گیا اور مخبر صادق کی شہادت جھوٹی ہو گئی۔

23: لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ۞ 

(سورۃآل عمران: آیت 164)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔

اس آیت اور اس قسم کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی پاک تعلیم کا یہ اثر تھا کہ آپﷺ کے شاگردان رشید سب کے سب جملہ امراض ظاہری و باطنی سے بالکل پاک و صاف ہو گئے تھے اور نورِ اسلام کی چمک کے بعد ناممکن تھا کہ پھر ظلمت کفران قلوب پاک میں عود کرتی اور واقعی نبی آخر الزمانﷺ کی قوت تاثیر ایک معجزہ تھی جس پر غیر اقوام کو آج تک رشک ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک کسی نبی کی تعلیم میں یہ اثر نہیں پایا گیا کہ تھوڑی سی مدت میں شرق اور غرب تک نور اسلام پھیل گیا اور ایسے کامل و مکمل مسلمان پیدا ہو گئے جنہوں نے دنیا سے بت پرستی کا نام و نشان مٹا دیا لیکن شیعہ کا قول مانا جائے تو معاملہ برعکس ہو جاتا ہے، کیونکہ بقول شیعہ بہت بڑے مسلمان اصحابِ اربعہؓ جو آپﷺ کی کونسل کے اعلیٰ ممبران، آپﷺ کے صبح و شام کے مشیر با تدبیر تھے، ان کا تزکیہ بھی آپﷺ سے نہ ہو سکا بلکہ ان کے دل باہمی عداوت و کینہ سے نبیﷺ کی زندگی میں بھی مکدر رہے اور آپﷺ کی وفات کے بعد تو سب کے سب مسلمان سوائے تین چار اشخاص کے دل سے پھر گئے اور کفر و نفاق اختیار کر لیا تو پھر وہ تزکیہ کہاں گیا اور وہ تعلیم کتاب و حکمت کیا ہوئی؟ کیا بعثتِ نبیﷺ سے غرض صرف دو تین اشخاص تھی؟ اور نبیﷺ آخر الزمان کی قوت اعجاز کا یہی کرشمہ تھا کہ آپﷺ کی آنکھ بند کرنے کی دیر تھی کہ تمام نقشہ ہی بدل گیا۔

بھائیو غور کرو کس قدر اسلام اور ہادی اسلام پر دھبہ آتا ہے اور مخالفینِ اسلام کو طعن کا موقع ملتا ہے اگر شیعہ کا اعتقاد درست مانا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ بیہودہ گوئی اور لغویات ہیں جو کسی یہودی کے بہکانے پر روافض کے دلوں میں یہ شیطانی وساوس پیدا ہو گئے ہیں۔ الحق ہادی اسلام کی تعلیم پاک میں یہ قوت اعجاز تھی کہ آپﷺ کی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ایسے فاضل پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کو سبق توحید سکھا کر ہمیشہ کے لیے اوہام پرستی سے نجات دلا دی۔ اقطاع الارض میں نور اسلام کی کرنیں پہنچ کر باعث رفع ظلمات و شرک ہو گئیں۔ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌

صفحہ 2 از 3