Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طعن شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کہتے ہیں کہ اصحابِ ثلاثہؓ جنگِ احد میں رسولﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور جو شخص جنگ سے بھاگ جائے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔

جواب: اصحابِ ثلاثہؓ کی نسبت یہ الزام کہ وہ معرکہ احد میں رسولِ پاکﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، ایک ایسا بےہودہ بہتان و افترا ہے جس کا کوئی ثبوت ہماری کتب معتبرہ سے نہیں ہے نہیں دے سکتے اور یہ امر کہ قرآن میں بعض مسلمانوں کے پیٹھ پھیر جانے کا ذکر لکھا ہے جیسا کہ 

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ۞ 

(سورۃآل عمران: آیت 155)

ترجمہ: تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، در حقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے۔

سو اس آیت یا دیگر ایسی آیات میں کہیں تصریح نہیں ہے کہ یہ کون افراد تھے؟ علی المرتضیٰؓ یا ان کے پیرو تھے یا ثلاثہؓ یا ان کے اتباع؟ فریقین اس آیت میں جس شخص خاص یا خاص جماعت کے ذمہ یہ الزام عائد کریں یہ ان کی ضد اور فاش غلطی ہے پھر جب ان اشخاص کا یہ قصور معاف کر دیا گیا تو پھر اس کی معافی کے بعد بڑا ظالم ہے وہ شخص جو ان کو مجرم سمجھے۔ (وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ) کو پڑھیے اور غور کیجیے۔