کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 9 از 11

تقریبن تمام مفسرین نے ان آیات کو حرمت متعہ کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو کہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌۞فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌ ۞(سورۃ المؤمنون آیت 5،6،7)

ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔ اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

تفسير القرآن :عبد الرزاق الصنعانی:  جلد 3 صفحہ 44

عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري قال سألت القاسم بن محمد بن أبي بكر عن متعة النساء فقال إني لأرى تحريمها في القرآن قال قلت فأين قال والذين هم لفروجهم حافظون هذا إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون

یعنی قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق سے متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ قرآن کریم نے اسے حرام کردیا ہے راوی نے پوچھا کیسے انہوں نے آیت: وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ  پڑھی

احكام القرآن:  ابن العربي :  جلد 3 صفحہ 316

هذه الآية دليل على تحريم نكاح المتعة لأن الله قد حرم الفرج إلا بالنكاح أو بملك اليمين والمتمتعة ليست بزوجة وهذا يضعف فإنا لو قلنا إن نكاح المتعة جائز فهي زوجة إلى أجل ينطلق عليها اسم الزوجة

ابن عربی فرماتے ہیں کہ یہ آیت حرمت متعہ پر دلیل ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ نے نکاح مستقل اور باندیوں کے علاوہ شرمگاھ حرام کردی ہے اور ممتوعہ زوجہ نہیں ہے اور جو کہتے ہیں کہ نکاح متعہ والی زوجہ ہے مقررہ مدت تک لیکن وہ صرف نام کی بیوی ہوتی ہے
کیوں کہ وہ ایک زوجہ والے حقوق نہیں رکہتی اور پھر اس سے صرف جنسی عمل پورا کیا جاتا ہے باقی کچھ نہیں۔

تفسير الرازي : الرازي : جلد 23 صفحہ 81 

هذه الآية تدل على تحريم المتعة على ما يروى عن القاسم بن محمد

الجواب: نعم وتقريره أنها ليست زوجة له فوجب أن لا تحل له، وإنما قلنا إنها ليست زوجة له لأنهما لا يتوارثان بالإجماع ولو كانت زوجة له لحصل التوارث لقوله تعالى: * (ولكم نصف ما ترك أزواجكم) * (النساء: 12) وإذا ثبت أنها ليست بزوجة

امام رازی کہتے ہین کہ یہ آیت متعہ کی حرمت پر دلیل ہے قاسم بن محمد روایت سے۔ امام رازی کہتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کیوں کہ ممتوعہ زوجہ نہیں ہوسکتی اور میں جو کہتا ہوں کہ یہ زوجہ نہیں ہوسکتی اس کی وجہ ہے کہ وہ نہ تو وارث ہوسکتی ہے اس پر اجماع ہے جب کہ ا زواج کو وراثت ملتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجَكُمْ  (سورۃالنساء آیت 12)

اور یہ ثبوت ہے کہ یہ زوجہ نہیں ہے۔

تفسير القرطبی: القرطبی :  جلد 12  صفحہ 106

وهذا يقتضى تحريم الزنى، ونكاح المتعة، لان المتمتع بها لا تجرى مجرى الزوجات، لا ترث ولا تورث، ولا يلحق به ولدها، ولا يخرج من نكاحها بطلاق يستأنف لها، وإنما يخرج بانقضاء المدة التي عقدت عليها وصارت كالمستأجرة

امام قرطبی کہتے ہیں اس سے زنا اور متعہ کی حرمت دلیل ہے کیوں کہ جس سے متعہ کرتے ہیں وہ زوجات میں سے نہیں ہے نہ تو وہ وارث بنا سکتی ہے اور نہ ہی وارث ہوسکتی ہے نہ ہی اولاد کی ذمہ ار اور یہ نکاح طلاق سے نہیں ٹوٹتا بلکہ ایک مدت کے بعد خود ٹوٹ جاتا ہے اس طرح یہ ٹھیکہ پر لی گئی عورت ہے۔

تفسير البحر المحيط : أبي حيان الأندلسي: جلد 6 صفحہ 368 

وسأل الزهري القاسم بن محمد عن المتعة فقال: هي محرمة في كتاب الله وتلا  (وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ

یعنی امام زہری نے قاسم بن محمد سے متعہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا قرآن نے اسے حرام کیا ہے اوروَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِم حٰفِظُوۡنَ تلاوت فرمائی

الدر المنثور : جلال الدين السيوطي : جلد 5 صفحہ 5 

وأخرجابن المنذروابن أبي حاتم والحاكم وصححه عن أبي أبى مليكة قال سئلت عائشة عن متعة النساء فقالت بيني وبينكم كتاب الله وقرأت وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ 

ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ ؓسے متعہ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ قارئین متعہ اور میرے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے جس کی  وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡحٰفِظُوۡنَ تلاوت فرمائی۔

فتح القدیر الشوکانی :جلد 3 صفحہ 474

وقد دلت هذه الآية على تحريم نكاح المتعةیعنی یہ آیت (وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡحٰفِظُوۡنَ)

حرمت متعہ پر دلالت کرتی ہے

تفسير الالوسی : الآلوسی :  جلد 18   صفحہ 1

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡحٰفِظُوۡنَ)

(سورۃالمؤمنون: آیت 5)

الآية وقرر وجه دلالة الآية على ذلك أن المستمتع بها ليست ملك اليمين ولازوجةفوجب أن لا تحل له أما أنها ليست ملك اليمين فظاهر وأما أنها ليستزوجةله فلأنهما لا يتوارثان بالإجماع ولو كانتزوجةلحصل التوارث لقوله تعالى

(ولكم تصف ما ترك أزواجكم) (النساء: 12)

یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ممتوعہ عورت نہ تو باندیوں میں سے ہے اور نہ ہی ازواج میں سے باندیوں میں سے تو ظاہر ہے نہیں ہے زواج میں اس لئے نہیں ہے کہ یہ وارث نہیں بنتی اور اس پر اجماع ہے کہ زوجہ وارث ہوتی ہے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا

(ولكم تصف ما ترك أزواجكم)(النساء: 12)

اضواء البيان :  الشنقيطي :  جلد 5   صفحہ 318

وأن المرأة المستمتع بها في نكاح المتعة، ليستزوجة، ولا مملوكة. أما كونها غير مملوكة فواضح. وأما الدليل على كونها غيرزوجة، فهو انتفاء لوازمالزوجيةعنها كالميرث والعدة والطلاق والنفقة،

صفحہ 9 از 11