کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 11

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌‏۞(سورہ المومنون آیت 5، 6)

ترجمہ:اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں

اس میں اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی عورتیں حلال کیں ہیں ایک وہ جو آپ کے نکاح مستقل میں ہو دوسری آپ کی باندیاں ۔ یہاں ازواجھم سے مراد نکاح مستقل والی بیویاں ہیں جس کا ثبوت خود قرآن کریم میں موجود ہے کہ اس پاک کتاب میں جہاں پر بھی ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں مراد مستقل بیوی ہے ۔ چناچہ ملاحظہ ہو

قرآن کریم میں لفظ زوجہ 

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ(سورۃ اعراف آیت 19)

اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ۔

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞( سورۃ الأحزاب آیت 28)

ترجمہ: اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِىۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ مَا اللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ وَتَخۡشَى النَّاسَ ‌وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰٮهُ فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞

ترجمہ: اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا (32) یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور اللہ سے ڈرو، (33) اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا (34) اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِىۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ مَا اللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ وَتَخۡشَى النَّاسَ ‌ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰٮهُ فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ۞( سورۃ الأحزاب آیت 37)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

لَا يَحِلُّ لَـكَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَلَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكَ حُسۡنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ‌ ۞( سورۃ الأحزاب آیت 52)

ترجمہ: اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے۔

اس آیت میں پھر سے سورہ مومنون والی آیت دہرائی گئی ہے یعنی حضور علیہ السلام کو بھی دو قسم کی عورتیں حلال تھیں ایک جو ان کی ازواج تھیں دوسرا باندیاں۔(آپﷺ  کے پاس متعہ والی کوئی عورت نہیں تھی اس لئے یہاں لفظ زوج مستقل بیویوں کے لئے ہے) یہاں یہ بات بھی قابل ِغور ہے ان کو چھوڑنے سے بھی منع کیا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے زوجہ سے مراد متعہ والی ٹھیکہ پر لی گئی عورت نہیں ہے کیونکہ اس چھوڑنے (یعنی طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہوتی)۔ اور نہ ہی اسے مستقل روکے سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم حضور علیہ السلام کو اپنی ازواج کو چھوڑنے سے منع کر رہا ہے ۔ اس لئے ثابت ہوا کہ زوجہ وہ ہوتی ہے جو مستقل نکاح میں آپ کے ساتھ ہو۔

فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ وَوَهَبۡنَا لَهٗ يَحۡيٰى وَاَصۡلَحۡنَا لَهٗ زَوۡجَهٗ ‌اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَ يَدۡعُوۡنَـنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا ‌ وَكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ ۞(سورۃ 21 الأنبياءآیت 90)

ترجمہ: تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔
چنانچہ از قرآن یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی زوجہ کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں مراد مستقل نکاح میں عورت ہے۔قرآن کریم کیوں کہ اپنے انداز میں یکتا ہے اس لئے ہم یہ دعویٰ کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ سورہ مومنون کی آیت میں ازواجھم سے مراد منکوحہ بیوی ہے جو طلاق کے علاوہ جدا نہیں ہوسکتی۔ نہ کہ چند دنوں کے لیے ٹھیکہ پر لی گئی عورت۔
سورہ مومنون اور حرمتِ متعہ

صفحہ 8 از 11