کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 11

ابن ابی حاتم نے ابن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں متعہ کی اجازت تھی ایک آدمی شہر میں آتا اس کے پاس کوئی آدمی نہیں ہوتا جو اس کے معاملات و سامان کی حفاظت کرے وہ اتنے عرصے کے لئے ایک عورت سے متعہ جس میں وہ خیال کرلیتا جس سے وہ خیال کرتا وہ اپنے کام سے فارغ ہوجائے گا وہ عورت اس کے معاملات کی حفاظت کرتی وہ اس آیت کو یوں قرأت کرتے فما استمتعتم بہ منھن الی اجل المسمی پھر اسے محصنین غیر مسافحین نے منسوخ کردیا احصان مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے جب چاہے رکھے جب چاہے چھوڑے۔
شیعہ کہتا ہے 

صحابی ابو سعید خدریؓ کہہ رہے ہیں کہ جنگ کے بعد چند خوبصورت عرب عورتیں ان کے قبضے میں آئیں اور صحابہؓ کو ان کی طلب ہوئی کیونکہ وہ اپنی بیویوں سے دور تھے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں صحابہ چاہتے تھے کہ وہ ان کنیز عورتوں کو بیچ کر فدیہ بھی حاصل کریں۔ چنانچہ صحابہ نے عزل سے کام لیا [یعنی سفاح کرتے وقت اپنے عضو تناسل باہر نکال کرمنی خارج کی تاکہ وہ عورتیں حاملہ نہ ہو سکیں اور ان کی اچھی قیمت مل سکے]۔ پھر انہوں نے اللہ کے رسولﷺ  سے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم چاہو یا نہ چاہو مگر اگر کسی روح کو پیدا ہوناہے تو وہ پیدا ہو کر رہے گی 

لنک 

لنک

عزل کے متعلق یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی طریقے سے روایت ہوئی ہے۔
اب یہ آج کے چند علماء جواب دیں کہ کیا آپ کو اس حدیث میں منی گرانا، شہوت رانی اور مستی جھاڑنا نظر آ رہا ہے؟ تو کیا اب بھی آپ منکر حدیث حضرات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے پھریں گے اور تضاد کے اس گرداب میں مزید ڈوبتے چلے جائیں گے یا پھر اپنے مؤقف سے رجوع کریں گے اور منکر حدیث حضرات کی جگہ دوبارہ صحابہ و تابعین و سلف کی پیروی اختیار کریں گے؟
ہمارا جواب
رافضی  نے اس حدیث سے قارئین کو زبر دست دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے اور پھر یہ حدیث اس ٹاپک سے میچ نہیں ہے لیکن میرے لیے پھر بھی فائدہ مند ہے اور شیعہ کے دعویٰ کو رد کرتی ہے۔
پوری حدیث اس طرح ہے

وحدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر قالوا حدثنا إسمعيل بن جعفر أخبرني ربيعة عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز أنه قال دخلت أنا وأبو صرمة على أبي سعيد الخدري فسأله أبو صرمة فقال يا أبا سعيد هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر العزل فقال نعم غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة بلمصطلق فسبينا كرائم العرب فطالت علينا العزبة ورغبنا في الفداء فأردنا أن نستمتع ونعزل فقلنا نفعل ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين أظهرنا لا نسأله فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لا عليكم أن لا تفعلوا ما كتب الله خلق نسمة هي كائنة إلى يوم القيامة إلا ستكون

حضرت ابو سعید خدری ؓنے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا بنی مصطلق میں اور عرب کی بڑی بڑی عمدہ عورتین کو ہم نے قید کیا اور ہم کو مدت تک عورتوں سے جدا رہنا پڑا اور خواہش کی کہ ہم نے ان عورتوں کے بدلے میں کفار سے کچھ مال لیں اور ارادہ کیا ہم ان سے نفع بھی اٹھائیں اقر عزل کریں تاکہ حمل نہ ہو پھر ہم نے کہا کہ ہم عزل کرتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیاں موجود ہیں ہم ان سے پوچھیں کیا بات ہے پھر ہم نے پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تم اگر نہ کرو تو بھی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ جس روح کو پیدا کرنا قیامت تک لکھا ہے وہ تو ضرور پیدا ہوگی۔(صحیح مسلم کتاب النکاح باب حکم عزل)

یہ ہے وہ حدیث جس کے لئے شیعہ نے لکھا ہے کہ ” چنانچہ صحابہ نے عزل سے کام لیا [یعنی سفاح کرتے وقت اپنے عضو تناسل باہر نکال کرمنی خارج کی تاکہ وہ عورتیں حاملہ نہ ہو سکیں اور انکی اچھی قیمت مل سکے]۔” لیکن رافضی یہ بھول گئے کہ یہاں سفاح کا نہ تو ذکر ہے اور نہ ان کے اس عمل کو سفاح کہیں گے کیونکہ لونڈیاں ان پر حلال تھیں وہ ان سے جماع کر سکتے تھے اور یہ حدیث عزل کی لیے ہے اور عزل کہتے ہیں منی باہر گرانے کو ۔۔۔ یہ کسی بھی صورت میں سفاح نہیں ہے آپ نے صحابی ابو سعیدؓ پر بے بنیاد زنا کا الزام لگایا۔ اور پھر اس میں لفظ استمتع بھی موجود ہے جس کی معنیٰ متعہ آپ ہر گز نہیں کر سکتے کیونکہ  جو عورت پہلےسے جماع کے لئے حلال ہے اس سے متعہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اور آپ کے اس دعویٰ کا رد ہے جس میں آپ نے کہا تھا اہل سنت کے محدثین نے جہاں بھی لفظ استمتع استعمال کیا ہے وہان مراد متعہ لیا ہے لیکن دیکھیں یہاں اس کی معنیٰ سواۓفائدہ اٹھانے کے اور کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔

شیعہ کہتا ہے

زرا جواب دیجیے! حضور کیا شادی میں اولاد پیدا کرنا فرض ہے؟

شادی میں بھی مرد کو عورت کی طلب تب ہوتی ہے جب اس کی شہوت بڑھے نہ کہ وہ 24 گھنٹے اپنی بیوی کے پاس ہوتا ہے ۔۔

آپ کے مطابق اس کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی حرام ٹھہرا کیونکہ وہ شہوت پوری کر رہا۔
ہمارا جواب
معاشرتی اصولوں کے تحت کوئی بھی شادی کرتا اس لیے ہے کہ اسے اولاد ہو اور اس کا وارث ہو ۔۔۔ فرض واجب کی کیا بات ہے اب یہ الگ بات ہے ہوسکتا ہے کہ شیعہ کے ہاں شادی صرف مستی کے لیے کی جاتی ہے اور اولاد مقصود نہیں ہوتی تو اس کا مجھے پتا نہیں باقی دنیا فطرتاًشادی کا یہی مطلب لیتے ہے۔ میں لفظ غیر مسافحین کا مطلب ہے کہ اس استمعتا سے مراد صرف شہوت رانی یا بقول آپ کے منی گرانا مقصود نہ ہو بلکہ اور فوائد بھی مقصود ہوں جس میں سب سے پہلے اولاد ہی آتی ہے کیوں ازواج یا عورت اور مرد کا فطرتاً میلاپ ہوتا ہی نسل چلانے کے لئے ہے ۔میں نے یہ تو نہیں کہا مراد شہوت پوری کرنا نہ ہو بلکہ مرد بیوی سے بھی یہ ضرورت پوری کرتا ہے میرامقصد تھا کہ صرف شہوت پوری کرنا مقصود نہ اور نہ چاہتے ہوئے بھی رافضی کو ماننا پڑے گا کہ متعہ صرف شہوت پوری کرنے کو کہتے ہیں۔
قرآن کریم نے کن عورتوں سے مباشرت کی اجازت دی ؟
قرآن میں عورت سے جماع کے صرف دو طریقے ہیں
ایک اپنی زوجہ سے دوسراباندیوں سے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرح کا جماع زنا ہے اور اس کی سزا موجود ہے
قرآن کریم فرماتا ہے

صفحہ 7 از 11