کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 11

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ 
اور اگر تمہیں انہیں طلاق دو اس سے پہلےکہ انہیں ہاتھ لگاؤ حالانکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کر چکے ہو تو نصف اس کا جو تم نے مقرر کیا تھا : (  سورۃ  البقرة  آیت  237)
اور اس آیت میں فرمایا کہ جن عورتوں ( یعنی بیوی یا لونڈی) سے نکاح کرنے بعد فائدہ نہیں اٹھایا
(یعنی  جماع اور صحبت نہیں کی ) تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہر نکاح کے بعد میں یا حقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد بھی ادا کیا جا سکتا ہے ۔
اب سورۃ النساء آیت 24 میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر فائدہ اٹھا چکے یعنی حق زوجیت ادا کرچکے تو اب پورا مہر دے دو۔
ایک جگہ پر آدھا مہر ذکر کیا گیا اور اور دوسری جگہ پر پورا مہر ذکر کیا گیا سو معلوم ہوا قران پاک یہاں نکاح صحیحہ کا ہی ذکر کر رہا ہے ۔
پھر شیعہ کہتا ہے
ان لوگوں نے اپنے قیاس کا یہ گولا تو داغ دیا کہ شہوت رانی یا مستی جھاڑنےکی وجہ سے یہ آیت عقد المتعہ کو حرام ٹھہراتی ہے، لیکن ان حضرت کو یہ عقل نہ آ سکی کہ وہ اس قیاس آرائی کی وجہ سے پیدا ہونے والے تضادات کو دیکھ سکتے کہ  مادہ گرانا  اور مستی جھاڑنا  اور شہوت رانی فقط عقد متعہ سے محدود نہیں ہے بلکہ نکاح دائمی ہو یا کنیز عورتوں سے تعلقات، ہر صورت میں یہ لفظی معنوں میں مادہ گرانا، اور مستی جھاڑنا ہے ان تینوں طریقوں میں ایک ہی طرح سے موجود اور مشترک ہیں اور اگر انہوں نے یہ مستی جھاڑنے کا شوشہ چھوڑا تو اس بنیاد پر فقط عقد متعہ ہی نہیں بلکہ عقد دائمی اور کنیز عورتوں سے تعلقات بھی حرام ہو جائیں گے۔
ہماراجواب
بالکل بھی نہیں آپ میری بات کو غلط رنگ دے رہے ہیں میرا مقصد ہے کہ نکاح کرنے کا مقصد صرف جنسی ضرورت پوری کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی فوائد حاصل کرنا ہیں جیسے نسل چلانا ، عورت کا گھر سنبھالنا وغیرہ اور بھی بہت سے معاشرتی فوائد ہیں ان سب چیزوں کو احصان کہتے ہیں جسے قرآن کریم نے محصنین کے لفظ میں سمو دیا ۔
لیکن اس کے بر عکس متعہ صرف اور صرف جنسی ضرورت پوری کرنے کے لئے کیا جاتا ہے جسے قرآن کریم نے غیر مسافحین کہ کر رد کر دیا کیوں زنا میں بھی وہی چیز ہے صرف جنسی لذت اور متعہ میں بھی وہی چیز ہے جنسی لذت کا پڑاؤ۔
اگر متعہ جنسی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ اور ضروریات پوری کرتا ہے تو شیعہ ہمیں وہ فوائد بتا دیں ۔
شیعہ کہتا ہے
اسلام فطرت کے خلاف نہیں بلکہ دین فطرت ہے۔ اور اسلام فطرت میں موجود شہوت رانی یا مستی جھاڑنے کے تقاضے کے خلاف ہے۔ بلکہ اسلام فقط یہ چاہتا ہے کہ یہ جنسی عمل  محصننین کی قید کے تحت ہو اور عقد متعہ عدت اور محارم وغیرہ کی شرط لگا کر اس محصنین کی قید کو مکمل پورا کرتا ہے۔
ہمارا جواب
اسلام دین فطرت ہے اس لیے ہی اس نے فطرت کے خلاف کام کو منع کردیا ہے اور متعہ کسی بھی صورت میں محصنین کی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔ کیوں اس میں نہ احصان ہے اور نہ ہی عفت ۔۔۔ ایک عورت دن میں پتا نہیں کتنے مردوں کی ضرورت پوری کرتی ہے بلکہ کہیں پر تو صرف ایک جماع کا وقت بھی مقرر کر لیتے ہیں ایک عورت اپنی فرج کو پیسوں کے عوض ایک دن میں مختلف لوگوں کی بیچتی ہے کیا آپ اس کو عفت و احصان کہتے ہیں یہ ہر گز عفت و احصان نہیں ہے۔
شیعہ کہتا ہے
صحابہ اور تابعین اور سلف نے کبھی اس آیت میں  پانی گرانے اور مستی جھاڑنے جیسے لولے لنگڑے عذر پیش کر کے انہیں عقد متعہ حرام قرار دینے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ تو کم عقل یہ صحابہ و تابعین و سلف نہیں ہیں، بلکہ بے وقوف و بے عقل وہ لوگ ہیں جو آج اس تضاد کو دیکھنے و سمجھنے کے قابل نہیں اور اندھی تقلید میں مبتلا ہو کر ہر قسم کے لنگڑے لولے بہانے و عذر پیش کر کے اس آیت سے عقد متعہ کو حرام ثابت کرنا چاہتے ہیں
ہماراجواب
جنھوں نے بھی عقد متعہ کی حلت کا کہا اس کے ساتھ انہوں نے اجل مسمی کے الفاظ بیان کئے شیعہ اور سنی دونوں جانتے ہیں کہ یہ الفاظ قرآن کریم میں موجود نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ تفسیر طبری سے چند روایات پیش کئے دیتا ہوں۔ جہاں پر اس آیت سے نکاح مراد لیا گیا ہے۔

حدثني المثنى، قال: ثنا عبد الله بن صالح، قال: ثنى معاوية بن صالح، عن علي بن أي طلحة، عن ابن عباس، قوله:  (فما استمتعتم به منهن فآتوهن أجورهن فريضة)  يقول: إذا تزوج الرجل منكم المرأة ثم نكحها مرة واحدة فقد وجب صداقها كله.والاستمتاع هو النكاح، وهو قوله:  (وآتوا النساء صدقاتهن نحلة)

حدثنا الحسن بن يحيى، قال: أخبرنا عبد الرزاق، قال: أخبرنا معمر، عن الحسن، في قوله: * (فما استمتعتم به منهن) * قال: هو النكاح.

حدثني المثنى، قال: ثنا أبو حذيفة، قال: ثنا شبل، عن ابن أبي نجيح ، عن مجاهد: (فما استمتعتم به منهن): النكاح.

حدثنا القاسم، قال: ثنا الحسين، قال: ثنى حجاج، عن ابن جريج، عن مجاهد، قوله: (فما استمتعتم به منهن) قال: النكاح أراد

حدثني يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: قال ابن زيد في قوله: * (فما استمتعتم به منهن فآتوهن أجورهن فريضة) *… الآية، قال: هذا النكاح، وما في القرآن الانكاح إذا أخذتها واستمتعت بها، فأعطها أجرها الصداق، فإن وضعت لك منه شيئا فهو لك سائغ فرض الله عليها العدة وفرض لها الميراث. قال: والاستمتاع هو النكاح ههنا إذا دخل بها

قرأت اجل مسمی

شیعہ وسنی دونوں جانتے ہیں یہ الفاظ اس وقت قرآن کریم میں نہیں ہے۔ اور اگر تھے بھی تو و منسوخ ہوگئے جیسے ابن عباس ؓفرماتے ہیں

وأخرج ابن أبي حاتم عن ابن عباس قال كان متعة النساء في أول الاسلام كان الرجل يقدم البلدة ليس معه من يصلح له ضيعته ولا يحفظ متاعه فيتزوج المرأة إلى قدر ما يرى أنه يفرغ من حاجته فتنظر له متاعه وتصلح له ضيعته وكان يقرأ فما استمتعتم به منهن إلى أجل مسمى نسختها محصنين غير مسافحين وكان الاحصان بيد الرجل يمسك متى شاء ويطلق متى شاء

صفحہ 6 از 11