کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 11

اور پھر خود شیعہ مذہب میں متعہ عفت باقی نہیں رکتا چنانچہ جب امام جعفر سے پوچھا گیا کہ باکرہ کے ساتھ متعہ کر لیں تو انہوں نے کہا کہ
أحمد بن يحيى عن يعقوب بن يزيد عن ابن أبي عمير عن حفص بن البختري عن أبي عبد الله عليه السلام في الرجل يتزوج البكر متعة قال:يكره للعيب على أهلها.
یعنی کہ باکرہ سے متعہ کرنا اس کے خاندان کے لئے بدنامی کا باعث ہے ۔ چناچہ معلوم ہوا کہ متعہ سے عورت عفت دار نہیں رہتی ،اور پھر طوسی نے امام جعفر صادق کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مومنہ سے متعہ نہ کرو اس میں اس کی تذلیل ہے ، قال: لا تمتع بالمؤمنة فتذلها پھر طوسی نے کہا کہ اس سے مراد اہل بیت کی عورتیں ہو سکتی ہیں ۔ بہرحا ل کہنے کا مقصد یہ ہے کہ متعہ عفت داری ہر گز نہیں ہے۔ اور پھر خود شیعہ مذہب میں سب سے بڑی نیکی بدن کی عفت بچانا ہے ملاحظہ ہو:
کافی میں باب عفت ہے اس میں کچھ روایات ہیں اس میں سے ایک پیش کر دیتا ہوں 

محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن إسماعيل، عن حنان بن سدير، عن أبيه قال: قال أبو جعفر (عليه السلام): إن أفضل العبادة عفة البطن والفرج ۔

یعنی سب بڑی عبادت اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ ٹھیکہ پر یا کرایہ پر دینا ۔ اس کے علاوہ اور پھر امام باقر نے ممتوعہ عورت کو زوجہ نہیں کہا ملاحظہ ہو
امام باقر سے جس کے آخری الفاظ یہ ہیں : امام باقر نے فرمایا یہ ممتوعہ عورت زوجہ منکوحہ نہیں بلکہ یہ اجرت پر خریدی گئی ہے کہ اس سے جماع کیا جائے (فروع کافی)
متعہ کا مقصد ہی صرف جنسی لذت پوری کرنا ہے تو اولاد کہاں سے آسکتی ہے لیکن متعہ میراث ہے نہیں تو بالفرض اگر اولاد ہو بھی جائے تو وہ اس مرد کی وارث نہیں ہوسکتی۔۔۔ متعہ شیعہ کی تو محبوب چیز ہے تو پھر شیعہ لوگ اسے علانیہ کیوں نہیں کرتے کیا شرم آتی ہے یا عفت داری داغدار ہوتی ہے یا پھر کیا شیعہ بتا سکتے ہیں کہ کتنے شیعہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم متعہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ جو اپنے متعہ والے باپ کے وارث بنے ہیں۔ ایک مثال۔ کیوں کہ شیعہ کے مذہب کے مطابق جو متعہ نہیں کرتا قیامت میں ناک کٹا اٹھے گا
اور نہ ہی متعہ میں شرعی اصولوں کے پاسداری ممکن ہے کیوں کہ متعہ اور زنا میں صرف ایک فرق ہے کہ اسے متعہ کہتے ہیں اسے زنا کہتے ہیں باقی کوئی فرق نہیں۔۔۔
متعہ اگر بقول شیعہ کے نکاح ہے تو اس میں نکاح والی شرعی شرطیں لازمی ہونی چاہیے کم سے کم کچھ تو ہونے چاہئے۔ جیسے والی کی مرضی ، گواہوں کی لازمی موجودگی ، میراث وغیرہ لیکن ان میں سے ایک بھی متعہ کے لئے ضروری نہیں اور کم سے کم قرآن کریم نے نکاح کی اس کے کچھ احکام ہی بیان کر دیے ہوتے کم سے کم یہ اس میں طلاق خود ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے

متعہ اور زنا کا موازنہ کر لیں

زنا 

اس میں زانیہ کو اجرت دی جاتی ہے اس کا کوئی تعین نہیں ہے ، کچھ وقت مقرر کر لیتے ہیں ، زنا میں تنہائی ضروری ہے ۔ زنا میں عورتوں کی قید نہیں ہے جتنی عورتوں سے چاہو زنا کر لو ۔زنا صرف جنسی لذت کے لئے ہوتا ہے ۔زنا میں جب مقرر وقت کے بعد علیحدگی ہو تو کوئی طلاق نہیں زانیہ وارث نہیں ہوسکتی ، نہ ہی نان نفقہ زانی کے زمہ ہے ۔
اب آپ یہاں لفظ زنا نکال دیں اور متعہ ڈال دیں بالکل ایک ہی چیز ہے فرق یہ ہے کہ اسے زنا کہا جائے گا اسے متعہ۔
بلکل یہی چیزیں متعہ میں پائی جاتی ہیں اس میں گواہوں کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ متعہ ایک ایسی  چیز ہے جو سفاح سے ہے اور قرآن نے لفظ غیر مسافحین سے اس کی ممانعت کردی ہے۔
پھر شیعہ مناظر کہتا ہے

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌

پھر جس طرح تم نے ان عورتوں سے متعہ کیا، سو ان کو ان کے مہر دے دو

یہاں پر متعہ کرنے کا ذکر پہلے اور مہر کا ذکر بعد میں آیا ہے مطلب یہ کہہ جب تم عورتوں سے متعہ کرو اور تم پر فرض ہے کہ تم مہر جومقرر کر چکے ہو ادا کرو ۔جبکہ دائمی نکاح میں ایسا بلکل بھی نہیں ہے وہاں پر جب آپ عقد کر لیتے ہو تو مہر ادا کرنا آپ پر واجب ہو جاتا ہے چاہے آپ نے اسے چھوابھی   نہ  ہو۔

ہماراجواب
مہر کا آخر میں آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ اور پھر یہاں پورا مہر دینے کا ذکر ہے کیونکہ فائدہ اٹھانے کے بعد مقررہ پورا مہر دینا واجب ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے

صفحہ 5 از 11