کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 11

سورہ نساء کی آیت 24 کے الفاظ کتاب اللہ علیکم پر غور کریں

اس کی تفسیر مفسرین نے اس کی مراد چار بیویوں کی حد یا اس سے مراد وہ عورتیں جو کہ چار کے عدد تک مستقل نکاح میں رہیں مراد لیا ہے۔

جامع البيان : إبن جرير الطبري : جلد 5    صفحہ 3

حدثنا القاسم، قال: حدثنا الحسين، قال: ثنى حجاج، عن ابن جريج، قال: سألت عطاء عنها فقال:  (كتاب الله عليكم)  قال: هو الذي كتب عليكم الأربع أن لا تزيدو

عطاء کہتے ہیں کتاب اللہ علیکم سے مراد چار ہیں اس سے زیادہ نہیں۔

تفسير الثعلبی

قال الباقر ويمان: معناه والمحصنات من النساء عليكم حرام ما فوق الأربع،

یعنی پاکدامن عورتوں میں سے چار کے اوپر حرام ہیں۔تفسیر قرطبی جلد 5 صفحہ 120

وقال عبيدة السلمانيوغيره: قوله (كتاب الله عليكم) إشارة إلى ما ثبت فيالقرآنمن قوله تعالى: (مثنى وثلاث ورباع) ۔

السلمانی کہتے ہیں کہ کتاب اللہ علیکم سے مراد قرآن کریم کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

(مثنى وثلاث ورباع)

بالکل اسی طرح کا مضمون تفسير ابن كثير، تفسير الثعالبي ، فتح القدیر لشوکانی وغیرہ میں موجود ہے چناچہ اس آیت 24 میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عورتیں جو تم پر حلال ہیں مال (مہر) خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو لیکن چار سے زیادہ نہ ہو یعنی اس پر جو حد مقرر ہے(کتاب اللہ علیکم مقصد جو کتاب اللہ میں لکھ دیا گیا ہے یعنی سورہ نسا کی آیت 3) اس میں رہ کر (یعنی چار سے زیادہ نہیں) مقصود احصان و عفت داری ہو نہ کہ صرف شہوت پوری کرنا تو جب ان سے فائدہ اٹھاؤ تو ان کو پورا مہر ادا کردو۔
کیا متعہ میں بھی چار عورتوں کی قید ہے کیا ممتوعہ عورت بھی زوجہ ہے
جواب ہے نہیں ملاحظہ ہو شیعہ روایات
شیخ مفید رسالہ متعہ میں لکھتے ہیں

 وعن أبي بصير أنه ذكر للصادق  عليه السلام  المتعة هل هي من الأربع؟ فقال: تزوج منهن ألفا.

یعنی امام جعفر نے کہا وہ چار زوج میں سے نہیں ہے بلکہ تم ان میں سے ہزاروں سے شادی کر لو۔

پھر طوسی الاستبصار میں لکھتے ہیں

عنه عن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن ابن محبوب عن ابن رئاب عن زرارة بن أعين قال: قلت ما يحل من المتعة؟ قال: كم شئت.

یعنی زراہ نے کہا کہ جتنی عورتوں سے چاہو متعہ کر لو۔

چنانچہ شیعہ نے دیکھ لیا کہ یہاں تو ہزار تک کی اجازت ہے مطلب یہ کہ آیت 24 کے ضد میں ہے اور پھر شیعہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زوجہ بنص قرآن کریم وارث بنتی ہے اور ان کی حد چار تک ہے یعنی زوجہ وہ ہوتی ہے جو چار والی شرائط پورے کرے اور ان کو عام لغت میں چار کہتے ہیں اور پھر شیعہ کے پاس تو ممتوعہ چار میں سے بھی نہیں ہے۔
شیخ مفید رسالہ المتعہ صفحہ 9 پہ لکھتے ہیں

وعن ابن قولويه، عن أبيه، عن سعد، عن ابن عيسى، عن محمد ابن خالد، عن القاسم بن عروة، عن عبد الحميد، عن محمد بن مسلم في المتعة قال: ليس من الأربع لأنها لا تطلق ولا ترث.

یعنی ممتوعہ چار میں سے نہیں ہے کیوں کہ اس کے لئے نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی وراثت

یہاں آپ نے دیکھ لیا کہ شیخ مفید بھی زوجہ اسے کہتے ہیں کو وارث بنتی ہو۔
پھر طوسی بھی الاستبصار میں یہی کچھ لکھتے ہیں

محمد بن يعقوب عن الحسين بن محمد عن أحمد بن إسحاق الأشعري عن بكر بن محمد الأزدي قال: سألت أبا الحسن عليه السلام عن المتعة أهي من الأربع؟ قال: لا

یعنی امام ابی الحسن نے کہا کہ وہ چار میں سے نہیں ہے

محمد بن أحمد بن يحيى عن العباس بن معروف عن القاسم بن عروة عن عبد الحميد الطائي عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام في المتعة قال: ليست من الأربع لأنها لا تطلق ولا ترث ولا تورث وإنما هي مستأجرة

یعنی امام باقر کہتے ہیں کہ وہ چار میں سے نہیں ہے کیوں کہ وہ وارث نہیں اس کی طلاق نہیں اور پھر وہ تو ٹھیکہ پر لی گئی عورت ہے
امام نے بات صاف کردی کہ وہ زوجہ کیسے ہو سکتی ہے وہ تو ٹھیکہ پر لی جانے والی عورت ہے ۔ (یہ روایت کافی میں بھی موجود ہے)
پھر امام صادق سے بھی یہ مروی ہے

عنه عن الحسين بن محمد عن أحمد بن إسحاق عن سعدان بن مسلم عن عبيد بن زرارة عن أبيه عن أبي عبد الله عليه السلام قال: ذكر له المتعة أهي من الأربع؟ قال: تزوج منهن ألفا فإنهن مستأجرات.

یعنی امام صادق کہتے ہیں کہ یہ چار (یعنی منکوحہ عورتیں جنھیں قرآن نے زوجہ ٹھرایا ہے) نہیں ہیں ان میں ہزار سے متعہ کر لو کیوں کہ وہ تو ٹھیکہ پر لی گئی شرمگاہیں ہیں۔
ان روایات سے ثابت ہوا کہ ممتوعہ چار عورتوں یعنی بیویوں میں سے نہیں ملکہ کرایہ پر لی گئی شرمگاہ ہے یعنی رنڈی۔
شیعہ موصوف فرماتا ہے 
عقد متعہ میں محصنین اور غیر مسافحین کی یہ شرائط مکمل پوری ہوتی ہیں کیونکہ عقد متعہ میں عورت ایک مرد کے ہی حصار میں ہونے کی وجہ سے عفیفہ و پاکدامن ہوتی ہے، اور یہ سفاح کاری (زناکاری و بدکاری)اس لیے بھی نہیں کہ کہ عقد متعہ میں شریعت کے تمام اصول و شرائط کی پاسداری کی جا رہی ہوتی ہے جیسا کہ زناکاری کے برعکس عقد متعہ میں محارم عورتوں سے بدکاری نہیں ہو سکتی، اولاد کی تمام تر ذمہ داری مرد پر عائد ہے، عقد متعہ اُسی عورت سے ہو سکتا ہے جو عدت گزار کر پاک ہو چکی ہو، اور عقد متعہ ختم ہونے کے بعد بھی وہ عدت گزار کر ہی کسی اور شخص کے ساتھ نکاح یا متعہ کر سکتی ہے۔ الغرض عقد متعہ میں وہ تمام شرائط موجود ہیں جو کہ نکاح میں موجود ہیں سوائے اس شرط کے کہ ایک مدت کے بعد خود بخود طلاق ہو جاتی ہے۔

ہمارا جواب

یہ بات بعید از قیاس ہے کہ متعہ والی عورت عفیفہ رہتی ہے کیوں کہ متعہ میں ٹائم کی کوئی قید نہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ ایک عورت ایک دن میں 5 سے زائد مردوں سے متعہ کر لے یا ایک مرد 5 سے سے زائد عورتوں سے متعہ کرلے ۔ اس کو ہرگز عفت داری نہیں کہ سکتے اور نہ ہی ایسی عورت و مرد عفیفہ ہوسکتے ہیں ۔ٹھیکہ پر شرمگاہ دینا کسی بھی طرح عفت داری نہیں ہے استبصار میں طوسی نے اسے کرائی پر لی گئے شرمگاہ کہا ہے اور پھر کافی میں اسے مستاجرہ یعنی ٹھیکہ پر لی گئی شرمگاہ کہا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عفیفہ شیعہ مذہب میں بھی نہیں ہے اور پھر محصنین کے مطابق عفیفہ تب کہلائے گی جب اسے بیوی مانا جائے جب کہ خود شیعہ مذہب میں اسے بیوی نہیں کہا گیا۔

صفحہ 4 از 11