کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 11

کہ اس کے علاوہ اور عورتیں تم پر حلال ہیں اس کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌

یعنی عفت قائم رکھنا مقصود ہو اورشہوت رانی کی نیت نہ ہو تو ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اس سے پہلے انہیں حق مہر ادا کردو۔
یعنی پھر کہا جا رہا ہے کہ باقی عورتیں حلال ہیں آپ کے لئے اور نکاح کرنے کے بعد فائدہ اٹھانے سے پہلے مہر کا دینا لازم کردیا گیا پھر آپ آیت 25 کو دیکھیں کہ وہ بھی آیت 24 کا تسلسل ہے کیوں کہ اس میں ذکر ہے کہ اگر آپ کو آزاد عورت سے نکاح کی طاقت نہیں تو لونڈیوں سے نکاح کر لو۔یعنی آیت 24 اور 25 ہی اصل میں نکاح دائمی کے لئے ہیں یہاں شعیہ موصوف کی قیاس آرائی نہیں چلنے والے۔
سورۃالنساء آیت 25

وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ‌ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ‌

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے۔
اب اگر اوپر والی آیت متعہ کے لئے ہوتی تو پھر اللہ تعالیٰ آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے طاقت نہ رکھنے پر ایمان والی لونڈی سے  نکاح کا کیوں کہ رہے ہیں ۔اور نکاح پہ کیوں زور دیا جا رہا ہے ۔
اگر نکاح کی طاقت یعنی مہر ادا کرنی کی طاقت نہیں ہے تو پھر متعہ تو آسان ہے نہ نفقہ کی فکر نہ طلاق و دوسری جھنجھٹ تو وہ آزاد عورتوں سے متعہ تو کر سکتے تھے نہ ایک بار متعہ کیا بس عورت جانے اس کا کام گھر والی تو پھر بھی خرچہ لیتی ہیں متعہ والی تو تھوڑی سی چیز اور بس ۔

اللہ تعالیٰ فرما دیتے کہ نکاح نہیں کر سکتے تو تمہارے لیے دوسری آسان صورت ہے یعنی متعہ اسے کر لو ۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر ایمان والی لونڈی سے نکاح کر لو کیوں کہ اس میں مہر کم لگے گا۔
اس  سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ یہاں کسی بھی صورت میں کہیں بھی متعہ مطلب نہیں ہے بلکہ نکاح مراد ہے۔
سورہ نساء کی 24 میں استعمال کئے گئے الفاظ محصنین و غیر مسافحین۔

لفظ محصنین و غیر مسافحین
محصنین
لفظ محصنین کی اصطلاحی معنیٰ ہیں حصار نکاح میں محفوظ رکھنے والے ۔ جس کا مطلب ہے کہ کسی عورت کو نکاح میں محفوظ رکھنا یا پھر احصان عفت کے ساتھ نکاح میں رکھنا اور احصان تب ہی ممکن ہے جب آپ کسی عورت کو عقد دائمی میں رکھیں نہ کہ چند گھنٹوں کے لئے کرایہ پر لیں۔ ایک ایسی عورت جو بہت سے مردوں کے ساتھ متعہ کر چکی ہے اسے آپ عفیفہ ہر گز نہیں کہ سکتے ۔اور خود شیعہ مذہب میں بھی متعہ والی عورت کو عار یتہ الفرج کرائی پر مانگی گئی شرمگاہ یا پھر ٹھیکہ پہ لی گئی چیز کہا گیا ہے
ملاحظہ ہو:

الاستبصار شیخ طوسی :جلد 3 صفحہ  141

فأما ما رواه الحسين بن سعيد عن فضالة بن أيوب عن أبان بن عثمان عن الحسن العطار قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن عارية الفرج قال: لا بأس به،

یعنی ابی عبداللہ سے پوچھا گیا کہ کیا شرمگاہ کرایہ پر لے سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اب ایسی عورت جو اپنی شرمگاہ ٹھیکے پر دے اسے کیسے عفیفہ کہا جاسکتا ہے ؟
یہ صحیح ہے کہ لفظ سفاح کا مطلب زنا بھی ہے پر زنا شہوت رانی کے لئے ہی کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس لفظ کا معنیٰ شہوت رانی کیا جائے۔ اور پھر یہ بھی صحیح ہے جب اس کے ساتھ قرآن کریم نے محصنین جیسا لفظ استعمال کیا ہے جہاں اس کا مطلب ہے جو عورتیں تمھارے لئے حلال ہوں ان سے احصان (یعنی عقد دائمی ) کے ساتھ نکاح صرف شہوت رانی مقصود نہ ہو یہ بالکل صاف بیان جس میں کسی بھی قسم کی ڈنڈی مارنے کی ضرورت نہیں ہے ان دونوں لفظوں کی موجودگی ہی یہ بتا رہی کہ یہ آیت عقد دائمی پر دلالت کرتی ہے۔
اور پھر اس آیت میں دو قسم کے تعلقات کو بیان کیا گیا ہے ایک احصان دوسرہ مسافحت
متعہ ان دونوں میں سے ایک میں ہے احصان میں تو ہو نہیں سکتا کیوں کہ احصان میں تعلق مستقل ہوتا ہے اور متعہ میں وقتی احصان میں عورت کے مرد پر حقوق ہوتے ہیں متعہ میں ایسا نہیں احصان میں اولاد کی ذمہ داری  باپ پر ہے متعہ میں ایسا نہیں ہے مزید آپ ہی فیصلہ کریں کہ متعہ کس میں آتا ہے۔
اور پھر نکاح اور سفاح میں یہی تو فرق ہے کہ نکاح سے مقصود جنسی ضرورت کو پورا کرنا کے علاوہ اولاد پیدا کرنا اور دوسرے سے فائدہ لینا ہوتا ہے جبکہ سفاح صرف اور صرف جنسی فائدہ مراد ہوتا ہے ۔ اور متعہ میں یہی چیز ہے وہ صرف اور صرف جنسی لذت کو پورا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے شیعہ کتب میں اسے عاریتہ الفرج یعنی مانگی ہوئی شرمگاہ کہا گیا اور یہی الفاظ محصنین و غیر مسافحین ہی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ متعہ حرام ہے۔
اس کی گواہی آپ کو سلف کے روایت سے دے دیتا ہوں:(تفسیر ابن ابی حاتم سورہ نساء آیت 24)

حدثنا أبو سعيد الأشج، ثنا إسحاق بن سليمان، عن موسى بن عبيدة قال: سمعت محمد بن كعب القرظي، عن ابن عباس قال: كانت متعة النساء في أول الاسلام ، كان الرجل يقدم البلدة، ليس معه من يصلح له ضيعته ولا يصلح بحفظ متاعه، فيتزوج المراة إلى قدر ما يرى أنه يفرغ من حاجته، فتنظر له متاعه وتصلح له ضيعته، وكان يقول: فما استمتعتم به منهن نسختها محصنين غير مسافحين وكان الاحصان بيد الرجل، مسك متى شاء ويطلق متى شاء.

ابن ابی حاتم نے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ابتدائے اسلام میں متعہ کی اجازت تھی ایک آدمی شہر میں آتا اس کے پاس کوئی آدمی نہیں ہوتا جو اس کے معاملات و سامان کی حفاظت کرے وہ اتنے عرصے کے لئے ایک عورت سے متعہ جس میں وہ خیال کرلیتا جس سے وہ خیال کرتا وہ اپنے کام سے فارغ ہو جائے گا وہ عورت اس کے معاملات کی حفاظت کرتی وہ اس آیت کو یوں قرأت کرتے فما استمتعتم بہ منھن الی اجل المسمی پھر اسے محصنین غیر مسافحین نے منسوخ کردیا احصان مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے جب چاہے رکھے جب چاہے چھوڑے۔

صفحہ 3 از 11