کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 11

حضرت ابو سعید خدریؓ نے کہا ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد کیا بنی مصطلق میں اور عرب کی بڑی بڑی عمدہ عورتوں کو ہم نے قید کیا اور ہم کو مدت تک عورتوں سے جدا رہنا پڑا اور خواہش کی کہ ہم نے ان عورتوں کے بدلے میں کفار سے کچھ مال ےلیں اور ارادہ کیا ہم ان سے نفع بھی اٹھائیں اقر عزل کریں تاکہ حمل نہ ہو پھر ہم نے کہا کہ ہم عزل کرتے ہیں اور جناب رسول اللہﷺ ہمارے درمیاں موجود ہیں ہم ان سے پوچھیں کیا بات ہے پھر ہم نے پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تم اگر نہ کرو تو بھی حرج نہیں اور اللہ تعالیٰ جس روح کو پیدا کرنا قیامت تک لکھا ہے وہ تو ضرور پیدا ہوگی۔(صحیح مسلم کتاب النکاح باب حکم عزل)
یہ عزل کی روایت ہے یہاں پر بھی لفظ استمتاع استعمال ہوا ہے لیکن یہاں اس کا معنیٰ فائدہ اٹھا نے کےہیں نہ کہ نکاح متعہ کے کیونکہ جنگ ہاتھ آئی عورتیں جو کہ لونڈیاں تھیں اور پہلے سے ان کے لئے حلال تھیں وہاں عقد متعہ کی کیا ضرورت ہے ۔
اور پھر نکاح دائمی میں بھی عورت سے فائدہ ہی اٹھایا جاتا ہے جیسے نسل کا چلنا ، گھر کا خیال کرنا وغیرہ یہ دائمی فوائد ہیں اس لئے اس لفظ کا یہاں ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اور پھر متعہ میں بھی عورت سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن وہ صرف اور صرف جنسی ہوتا ہے کیوں کہ متعہ سواء شہوت پوری کرنے کے اور کوئی فائدہ نہیں دیتا اس لئے یہ چیز بعید از قیاس ہے کہ قرآن کریم کا فائدہ اٹھانے کا مقصد صرف شہوت پوری کرنا ہوگا۔ بلکہ قرآن کریم نے استمتعتم یعنی فائدہ اٹھانے سے پہلے محصنین  اور مسافحین جیسے الفاظ استعمال کر کہ اس چیز کو بالکل ختم کر دیا کہ یہاں فائدہ اٹھانے سے مراد صرف شہوت پوری کرنا ہے۔

اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌(سورۃ النساء آیت 24)

بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو۔
یہاں دیکھیں صاف الفاظ میں شہوت رانی سے منع کیا جا رہا یعنی فائدہ اٹھاؤ لیکن مقصود شہوت رانی نہ ہو مطلب اس فائدے سے مراد نسل کا چلنا ، گھر کا خیال کرنا وغیرہ۔ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
پھر شیعہ موصوف فرماتے ہیں سورہ نساءمیں جب اس آیت سے پہلے والی آیت میں نکاح دائمی کا ذکر ہے تو پھر اس کے بعد والی آیت میں دوبارہ اس کا ذکر کیوں کیا گیا۔
یہ بالکل غلط ہے کیونکہ آیت 23 مین کن عورتوں سے نکاح حرام ہے اس کا ذکر ہے جو کہ 24 کا مضمون ایک ہی ہے۔اس کی تفصیل اس طرح ہے ۔
آیت :  23

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ وَعَمّٰتُكُمۡ وَخٰلٰتُكُمۡ وَبَنٰتُ الۡاٰخِ وَبَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرۡضَعۡنَكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِىۡ فِىۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِىۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَاِنۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَاۤئِلُ اَبۡنَآئِكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡ وَاَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَيۡنَ الۡاُخۡتَيۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞

ترجمہ: تم پر حرام کردی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، اور بھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہوگیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہوچکا وہ ہوچکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

سورۃالنساء آیت  24

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آجائیں (وہ مستثنی ہیں) اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کردیئے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کردیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔ چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہوجاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

اب دیکھیں کہ آیت 23 کا اختتام دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے پہ ختم ہوتی ہے اور پھر آیت 24 شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں سے شروع ہوتی ہے مطلب آیت 24 کی شروعات آیت 23 کا تسلسل ہے ۔یعنی آیت 24 میں وہی مضمون چل رہا ہے کن سے نکاح حرام ہے اس کے بعد اسی آیت میں کہا جا رہا ہے کہ  : وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ

صفحہ 2 از 11