کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 11 از 11

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سےجریر نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیااور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہﷺ  کے ساتھ جہاد کو جایا کرتے تھے اورہمارے پاس روپیہ نہ تھا (کہ ہم شادی کر لیتے) اس لئے ہم نے عرض کیا ہم اپنے کو خصیکیوں نہ کرالیں لیکن آنحضرتﷺ  نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔ پھر ہمیں اس کی اجازت دے دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے پر (ایک مدت تک کے لیے) نکاح کر لیں۔ آپ نے ہمیں قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر سنا ئی کہ”ایمان لانے والو! وہ پاکیزہ چیزیں مت حرام کرو جو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے آگے بڑھنےوالوں کو پسند نہیں کرتا“۔

اس حدیث سے ایک بات جو کہ طے ہے کہ سورہ مومنون کی آیت 5-6 کے بعد متعہ منع ہوچکا تھا جو کہ شروع میں عرب میں عام تھا اور پھر تمام مفسرین اسے نے کہا کہ المراد نكاح المتعة الذي كان في صدر الاسلام یعنی اسلام کے شروعاتی دور میں (جس سے یقین مراد دور مکہ ہی ہے) اس لئے سیدنا عبداللہ بن مسعود نے آپ  ﷺسے خصی ہونے کا کہ رہے تھے اگر متعہ اس وقت جائز ہوتا تو ظاہر ہے خصی ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس لئے کہ متعہ وہ آسانی سے کرسکتے تھے جو کہ صرف تھوڑا سا مہر دے کہ اپنی جنسی ضرورت پوری کردیتے لیکن یہاں یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ متعہ پہلے منع تھا۔ اس لئے بہت سے غریب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ  سے کہا ہمیں خصی ہونے کی اجازت دے دیں۔
دوم: اس حدیث میں سے مراد نکاح مستقل بھی لیا جاسکتا ہے کیوں کہ غریب صحابہ جہاد کے جذبے کے تحت جو مال ان کے پاس ہوتا تھا جہاد کے سامان میں خرچ کردیتے تھے اس لئے ان کے پاس نکاح اور بیوی کی دیکھہ بحال نان نفقہ کے لئے ان کے پاس وسائل کم تھے تو آپ ﷺنے انہیں تھوڑی مہر(کپڑے کی قیمت جتنی) کے بدولت نکاح کی اجازت دے دی کیوں کہ ایسے حالات میں ایسی گنجائش موجود تھی تاکہ صحابہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
سوم: حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح میں لکہا ہے کہ

قوله ( أن ننكح المرأة بالثوب ) أي إلى أجل في نكاح المتعة

یعنی اس سے مراد نکاح متعہ ہے پھر بعد میں لکھتے ہیں کہ اس کی حضور ﷺنے حالات کی وجہ سے اجازت دی اور پھر اس سے منع کردیا۔
جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سورہ مومنون کی یہ آیات بالکل متعہ کی حرمت ثابت کرتی ہیں اور یہ احادیث کے مطابق پھر سخت حالات میں حضور علیہ السلام نے اس کی اجازت دی کچھ وقت کے لئے اور پھر اس سے منع کردیا ۔ بلکل اسی بات کو ابن جوزی نے پیش کیا ہے
ابن جوزی زادالمسیر :جلد 2صفحہ 126 پر لکھتے ہیں کہ

ثم رجع عن ذلك وقد تكلف قوم من مفسري القراء، فقالوا: المراد بهذه الآية نكاح المتعة، ثم نسخت بما روي عنالنبي صلى الله عليه وسلمأنه نهى عن متعة النساء، وهذا تكلف لا يحتاج إليه، لأنالنبي صلى الله عليه وسلمأجاز المتعة، ثممنعمنها، فكان قوله منسوخا بقوله. وأما الآية، فإنها لم تتضمنجوازالمتعة. لأنه تعالى قال فيها: (أن تبتغوا بأموالكم محصنين غير مسافحين) فدل ذلك على النكاح الصحيح۔

ابن جوزی فرماتے ہیں کہ بعض مفسرین اکرام نے کھینچ تان کر کہ اس آیت سے متعہ مراد لیا اور بعد میں نبی کریمﷺ کے  منع کرنے پر اس آیت منسوخ قرار دیا ۔ حالانکہ یہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے سیدھی سی بات ہے کیوں کہ نبی کریمﷺ نے پہلے متعہ کی اجازت دی تھی اور بعد میں منع کردیا ۔ لہٰذا آپﷺ کا قول خود آپﷺ کے قول سے منسوخ ہے اس آیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس آیت کریمہ میں متعہ کا جواز کی دلیل ہے اگر کوئی ایسی تاویل کہتا ہے تو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ اسی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ ( ان تبتغو باموالکم محصنین او غیر مسافحین ) اپنے مال سے تم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہو (یعنی نکاح کرسکتے ہو ) مہر ادا کر کہ اور برائی سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت پوری کرنے کے لیے۔
چناچہ جن صحابہ سے حلت متعہ کی کچھ روایات مروی ہیں انہیں حضور علیہ السلام کا حلت کا حکم تو پھنچا تھا لیکن حرمت کا نہیں پہنچ سکا اس کا سبب یہ ہے متعہ کی حضور علیہ السلام نے حالات کی وجہ سے متعدد بار اجازت دی اور پھر متعدد بار اس سے منع کردیا اور پھر آخری بار خیبر میں ہمیشہ کے لیے منع کردیا لیکن ہوسکتا ہے متعدد بار حلت کی وجہ سے کچھ صحابہ ؓتک حرمت کی بات نہ پہنچی  ہو وہ اسے جائز سمجھتے ہوں پھر حضرت امیر المؤمنین عمر ؓنے حضور علیہ السلام کے خیبر کے فرمان کے مطابق حکومت کی سطح پر اسے نافذ کردیا اور سختی سے اس کو منع کردیا۔


صفحہ 11 از 11