کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟ - سنی شیعہ مناظرے |…

کیا قرآن کریم نے متعہ کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 10 از 11

جو عورت نکاح متعہ میں ہے وہ زوجہ نہیں ہے اور باندی تو ظاہر ہے نہیں ہے اس کے زوجہ نہ ہونے پر دلیل یہ ہے کہ یہ زوجہ کے تمام لوازمات سے محروم ہے نہ اس کے لیے میراث ہے نہ عدت ، نہ طلاق ، اورنہ نفقہ
اس کے علاوہ بہت ساری تفاسیر میں سورہ مومنون کی اس آیت کی تفسیر یہی آئی ہے طوالت کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں ۔ لیکن یہاں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ زوجہ بنص قرآن کریم مستقل بیوی کو کہتے ہیں اور آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مفسرین نے زوجہ اس منکوحہ عورت کو کہا ہے جس کے لئے طلاق ، عدت ، نفقہ ، میراث لازم ہو اور قرآن کریم نے بھی زوجہ کو وارث کہا ہے چناچہ یہ بات ظاہر ہے کہ ممتوعہ زواج اربع میں سے نہیں ہے۔ اور اس سورۃکی آیت 7 میں واضع حکم ہے کہ بیوی اور باندی کے  علاوہ کوئی بھی اگر کسی اور کا طالب ہے تو وہ حدو د اللہ سے نکل جانے والا ہے۔

ممتوعہ زوجہ نہیں ہے

طوسی تحذیب الحکام : جلد 7  صفحہ  258 میں کہتا ہے

محمد بن أحمد بن يحيى عن العباس بن معروف عن القاسم بن عروة عن عبد الحميد الطائي عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام في المتعة قال: ليست من الأربع لأنها لا تطلق ولا ترث ولا تورث وإنما هي مستأجرة

یعنی امام باقر کہتے ہیں کہ وہ چار میں سے نہیں ہے کیوں کہ وہ وارث نہیں اس کی طلاق نہیں اور پھر وہ تو ٹھیکہ پر لی گئی عورت ہے
پھر امام صادق سے بھی یہ مروی ہےجو کہ  طوسی نے الاستبصار جلد 3 صفحہ 143 پر نقل کیا

وعنه عن الحسين بن محمد عن معلى بن محمد عن الحسن بن علي عن حماد ابن عثمان عن أبي بصير قال: سئل أبو عبد الله عليه السلام عن المتعة أهي من الأربع؟

قال: لا ولا من السبعين.

عنه عن الحسين بن محمد عن أحمد بن إسحاق عن سعدان بن مسلم عن عبيد بن زرارة عن أبيه عن أبي عبد الله عليه السلام قال: ذكر له المتعة أهي من الأربع؟

قال: تزوج منهن ألفا فإنهن مستأجرات.

یعنی امام صادق کہتے ہیں کہ یہ چار (یعنی منکوحہ عورتیں جنھیں قرآن نے زوجہ ٹھہرایا ہے) نہیں ہیں ان میں ہزار سے متعہ کر لو کیونکہ وہ تو ٹھیکہ پر لی گئی شرمگاہیں ہیں۔
یعنی وہ زوجات میں سے نہیں ہے یہاں اربع سے مراد مستقل بیویاں ہیں جو کہ صرف چار ہی ایک وقت میں نکاح میں رہ سکتی ہیں اور قرآن کریم نے مستقل بیویوں کو زوجہ کہا ہے لیکن آپ دیکھ لیں امام بھی کہتے ہیں یہ زوجات میں سے نہیں ہے بلکہ یہ کرایہ یا ٹھیکہ پر لی گئی شرمگاہ ہے۔ روایات سے یہ بات صاف ہو گئی کہ شیعہ کی فقہ میں بھی اسی قرآن کریم کی بتائی گئی بیویوں میں سے نہیں ہیں ۔ اور ہو بھی کیسے سکتی ہیں کیوں کہ بیویاں تو ٹھیکہ پر نہیں لیتا کوئی۔ اور جو ٹھیکہ پر لی جاتی ہیں وہ بیویاں نہیں ۔
مشرکہ مجوسیہ سے بھی متعہ کر سکتے ہیں

الاستبصار : الشيخ الطوسي : جلد 3  صفحہ 144 

رواه أحمد بن محمد بن عيسى عن محمد بن سنان عن الرضا عليه السلام قال:سألته عن نكاح اليهودية والنصرانية فقال: لا بأس به فقلت المجوسية فقال: لا بأس به يعني المتعة

امام رضا سے پوچھا گیا کہ یہودیہ اور نصرانیہ سے نکاح کرلیں تو فرماتے ہیں کوئی حرج نہیں پھر پوچھا کہ مجوسیہ سے تو فرمایا کہ ان سے متعہ کرلو۔
اس بات سے یہ ثابت ہوا کہ متعہ نکاح نہیں ہے

عنه عن أبي عبد الله البرقي عن ابن سنان عن منصور الصيقل عن أبي عبد الله عليه السلام قال: لا بأس بالرجل أن يتمتع بالمجوسية

امام ابی عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجوسیہ سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ان اب مجوسیہ سے نکاح تو ہو نہیں سکتا اور وہ بیوی بھی نہیں بن سکتی اس لئے شیعوں نے اس وقت کی ایرانی عورتوں سے مزہ لینے کے لئے اس سے متعہ جائز کر لیا جس یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ مذہب میں بھی ممتوعہ عملی زوجہ نہیں ۔صدق ابن عباس رضی اللہ عنہ متعہ لا نکاح ، یہ بس جنسی لذت پوری کرنے کا نام ہے ۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ممتوعہ عورت زوجہ نہیں ہوسکتی۔ ۔ کیوں کہ ایک مشرکہ سے نکاح حرام ہے اس بات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ متعہ صرف اور صرف شہوت پوری کرنےکا نام ہے اور اس میں عورتوں کی شرمگاہیں پیسوں پر خرید کر جماع کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے ،۔یہ نہیں دیکھا جاتا کہ مشرکہ مجوسیہ  ہے یا مومنہ ہے یا پھر کوئی اور ۔صرف مزہ ہی تو لینا ہے۔
کیا اب بھی شیعہ کہتے ہیں کہ متعہ محصنین کی  قید کو پورا کرتا ہے اور غیر مسافحین یعنی شہوت رانی بھی نہیں ہے۔۔۔ مجوسیہ سے متعہ پھر کیا ہے کیا ہمیں شیعہ سمجھا سکتے ہیں

مکی سورۃسے استدلال کی وجہ

سورۃمومنون چونکہ مکی سورہ ہے اوراس میں اختلاف موجود ہے لیکن جمہور نے اسے تسلیم کیا ہے کہ یہ مکی سورہ ہے اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس سے مراد حرمت متعہ ہے تو پھر ان احادیث کا کیا جائے جو صحیحین میں موجود ہیں۔
اس کا جواب دینے سے پہلے صحیح بخاری سے ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 5075

حدثنا قتيبة بن سعيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا جرير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عنإسماعيل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن قيس،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال قال عبد الله كنا نغزو مع رسول الله صلىالله عليه وسلم وليس لنا شىء فقلنا ألا نستخصي فنهانا عن ذلك ثم رخص لنا أن ننكحالمرأة بالثوب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم قرأ علينا ‏ {‏ يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ماأحل الله لكم ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين‏

صفحہ 10 از 11