Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تحریف آیات قرآن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اگرچہ پچھلی روایات سے بوضاحت ثابت ہو گیا ہے کہ روافض کا اس قرآن پر ایمان نہیں ہے اور وہ اس کو محرف سمجھتے ہیں لیکن عوام کی تسلی کے لیے ہم ذیل میں چند آیات اصول کافی سے لکھتے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اصل آیت یوں تھی اور قرآن میں اس کے خلاف یوں درج ہے۔

1: عَنْ أَبِیْ جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ قُلْتُ لَهُ لِمَ سُمِّیَ أَمِير الْمُؤْمِنِيْنَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاهُ و هٰكَذَا أُنزِلَ فِی كِتَابِهٖ وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ‌ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ‌ وَ إِنَّ مُحَمَّدََ ارْسُولِیَ وَأَنَّ عَلِيًّا أَمِير الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَيْهِ السَّلام

(اصول کافی: صفحہ 241 میں ہے)

ترجمہ: جابر نے امام محمد باقر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت علیؓ کو امیر المؤمنین کیوں کہتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ نام ان کا خدا نے رکھا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھ دی جس میں "إِنَّ مُحَمَّدََ" الخ کا اضافہ کیا گیا اور کہا کہ یہ آیت یوں ہی نازل ہوئی ہے۔

2: عَنْ أَبِیْ بَصِيْرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِیْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فِی وَلَايَةِ عَلِیّ وَ الْاَئِمَة مِنْ بَعْدِهٖ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا. هَكَذَا أُنْزِلَتْ 

(اصول کافی: صفحہ 242)

ترجمہ: ابنِ بصیر امام جعفر صادق سے راوی ہے کہ آپ نے آیت "وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ" میں عبارت "وَلَایَةِ عَلِی" کا اضافہ کر کے کہا ہے کہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔

3: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِن سَنَانٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی قَوْلِهٖ وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ كَلِمَاتٍ فِیْ مُحَمَّدٍ وَ عَلِىٍّ وَ فَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ ذُرِّيَّتِهِمْ فَنَسِیَ هٰكَذَا وَ اللَّه أُنزِلتْ عَلىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمْ 

(اصول کافی: صفحہ 243)

ترجمہ: عبد اللہ بن سنان امام جعفر سے روایت کرتا ہے کہ آپ نے آیت "وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ " میں " فِیْ مُحَمَّدٍ" الخ ایزاد کر کے کہا کہ بخدا آیت رسول اللہﷺ پر اسی طرح نازل ہوئی۔

4: عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِیْ جَعْفَر عَلَيْهِ السَّلام قَالَ نَزَلَ جِبْرَائِيْل بِهٰذِهِ الْآيَةِ عَلىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِیْ عَلِىٍّ بَغۡيًا 

(اصول کافی: صفحہ 243)

ترجمہ: جابر نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے آیت میں "فِیْ عَلِیٍّ" کی ایزادی کر کے کہا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اسی طرح رسول اللہﷺ پر نازل کی  اصول کافی: صفحہ 264 میں ہے

5: عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَزَلَ جِبْرِيْل بِهٰذَهِ الآيَةِ عَلىٰ محمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هٰكَذَا اِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فِیْ عَلِیٍّ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ 

جابر راوی ہے کہ آیت اِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ میں بھی "فِیْ عَلِیِّ" کی ایزادی ہے اور جبرائیلؑ نے اسی طرح رسول اللہﷺ پر نازل کی۔

6: عَنْ مُنحَلٍ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ نَزَلَ جِبْرَائِيلُ عَلىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمُ بِهٰذَا الْآيَةِ هٰكَذَا يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا فِی عَلِى نُورً مُبِيْناً 

(اصول کافی: صفحہ 264) 

منحل امام جعفر سے راوی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آیت يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ میں بھی نُورً مُبِيْناً سے پہلے "فِیْ عَلِیٍّ" ہے۔ اور ایسا ہی جبرائیلؑ نے آیت نبیﷺ پر نازل کی۔

7: عَنْ جَابِرٍ عَنْ جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ فِیْ عَلِیٍّ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ 

(اصول کافی: 264)

"جابر کہتا ہے امام محمد باقر نے آیت وَلَوۡ اَنَّهُمۡ میں لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ سے پہلے "فِیْ عَلِیٍّ" ايزاد فرمایا۔"

8: عَنْ أَبِی بَصِير أَبِیْ عَبْدِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَام فِیْ قَوْلِهٖ تَعَالىٰ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ يَا مَعْشَرَ الْمُكَذِّبِيْنَ حَيْثُ أَنْهَاتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ فِیْ وَلَايَة عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالْاَئِمَةِ مِنْ بَعْدِهٖ مَنۡ هُو فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ كَذَا اُنْزِلَتْ) 

(اصول کافی: صفحہ 266) 

ابو بصیر راوی ہے کہ امام جعفر نے آیت فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مِیں "فِی وَلَايَة عَلِىٍّ" کا اضافہ کر کے کہا کہ آیت یوں ہی نازل ہوئی ہے۔ 

9: عَنْ أَبِیْ بَصِيرٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ فِیْ قَوْلِهٖ تَعَالىٰ سَاَلَ سَآئِلٌ ۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ فِیْ وَلَايَةِ عَلِىٍّ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌ ثُمَّ هٰكَذَا وَاللَّهُ نَزَلَ بِهَا جبْرَائِيْل عَلىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمُ 

(اصول کافی: صفحہ 266)

ترجمہ: بصیر امام جعفر سے روایت کرتا ہے کہ آپ نے آیت سَاَلَ سَآئِلٌ میں بھی "وَلَايَةِ عَلِیٍّ" کی ایزادی کی ہے اور کہا کہ خدا کی قسم جبرائیل یہ آیت اسی طرح رسول پر لایا ہے۔

10: عَنْ جَابِرٍ عَنْ جَعْفِر عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ نَزَلَ جِبْرَائِيل بِهَذِهِ الْآيَةِ هَكَذَا فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ بِوَلايَةِ عَلِىٍّ اِلَّا كُفُوۡرًا) (اصول کافی: صفحہ 268)

امام جعفر علیہ السلام سے روایت ہے کہ "فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ" کے بعد "بِوَلَايَةِ عَلِیٍّ" کا لفظ جبرائیل لے کر آیا۔

11: عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ بِنْ أَبِیْ نَصْرٍ قَالَ رَفَعَ إِلَیَّ ابُو الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَام مُصْحَفًا وَقَالَ لَا تَنْظُرُ فِيهِ فَفَتَحْتُهٗ وَقَرَاْتُ فِیْهِ لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَوَجَدتُّ فِيْهَا اسْمَ سَبْعِينَ رَجُلاً مِنْ قُرَيْشٍ بِأَسْمَائِهِمْ وَاسْمَاءِ آبَاءِ هِمْ قَالَ فَبَعَثَ إِلىَّ البعثُ إِلَىَّ بِالْمُصْحَفِ (اصول کافی: صفحہ 270) 

احمد بن محمد بن نصیر سے روایت ہے کہ امام علیہ السلام نے مجھے ایک قرآن دیا اور فرمایا کہ اس میں نظر نہ کرنا۔ پس میں نے جو اس میں سورۃ لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا پڑھی تو اس میں ستر شخصوں کے نام بقید ولدیت پائے۔ راوی نے کہا کہ امام نے مجھے کہلا بھیجا ہے کہ وہ قرآن میرے پاس بھیج دو۔

12: عَنْ أَبِیْ جَعْفَر عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ الْقُرْآنُ أَرْبَعَةَ أَرْبَاءٍ رُبُعٌ فِيْنَا وَرُبُعٌ فِیْ عَدُوِّنَا وَ رُبُعٌ سُنَنٌ وَ أَمْثَالٌ وَ رُبُعٌ فَرَائِضٌ وَ أَحْكَامٌ 

(اصول کافی: صفحہ 669)

امام محمد باقر نے فرمایا۔ قرآن چار حصوں میں نازل ہوا۔ ایک چوتھائی ہمارے فضائل میں نازل ہوا اور ایک چوتھائی ہمارے دشمنوں کے بارے میں اور ایک چوتھائی سنن اور امثال میں اور ایک چوتھائی فرائض و احکام ہیں۔

(بلکہ مولوی سید الفت حسین شیعی شکار پوری نے اس قرآن جمع کردہ علیؓ کی طباعت کا بھی ذکر کر دیا چنانچہ اپنے رسالے منع تبرا (مطبوعہ مطبع یوسفی واقع کوچہ فولاد خاں لاہور) کے صفحہ پر لکھا ہے۔ کیا سورة على و ولایت سورة فاطمی بعض مطبوع و بعض قلمی غالی شیعوں کے گھر میں نہیں؟ کیا لکھنو میں حاجی حسن علی نے یہ سورتیں نہیں چھاپیں مگر ایک دو ہی سورتیں چھپنی پائی تھیں کہ تنبیہ کی گئی، باقی غیر مطبوع رہیں۔

علاوه ازیں تفسیر صافی میں تو بالکل تصریح کر دی گئی ہے کہ یہ قرآن جو ہمارے پاس موجود ہے، نا مکمل اور ناقص ہے عبارت یوں ہے۔ المستقاد من مجموعٍ هَذِهِ الْأَخْبَارٍ وَغَيْرَهَا مِنَ الرَّوا مِن طَرِيقِ أَهْلَ الْبَيْتِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ أَنَّ الْقُرْآنَ الَّذِی بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَيْسَ بِتِمَامِهِ كَمَا أُنزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بَلْ مِنْهُ مَا هُوَ خِلَافٌ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنْهُ مَا هُوَ مُغَيَّرٌ مُحرَّفٌ أَنَّهُ قَدْ حُذِفَ عَنْهُ أَشْيَاءَ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا اسْمُ عَلِی عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی كَثِيرٍ مِنْ الْوَاضِعِ وَ مِنْهَا خَيْرٌ ذَالِكَ وَإِنَّهُ لَيْسَ ايضاً عَلَى التَّرْتِيبِ ..... عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ وَ بِهِ قَالَ عَلِى بَنْ إِبْرَاهِيمَ۔ تفسیر صافی: صفحہ 14)

اگرچہ اور بھی بہت سی آیات اصولِ کافی میں لکھی ہیں جن میں تحریف صریح ہے لیکن ہم نے بطور مشتے نمونہ از خروارے بارہ آیات پر اکتفا کیا ہے، اب ادھر ائمہ اہلِ بیت امام محمد باقر و امام جعفر صادق حلفاً بیان کرتے ہیں کہ جبرئیلؑ آیت نبیﷺ پر یوں لایا اور یہ کہ سورۃ لم یکن میں قرآن جمع کردہ علیؓ میں ستر قریش کے نام تھے اور یہ کہ اس قرآن کے چار حصے تھے۔ ایک چوتھائی میں اہلِ بیت کے فضائل اور دوسری چوتھائی میں ان کے دشمنوں کے مصائب بیان کے گئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ

ادھر ناظرین قرآن کریم کھول کر دیکھیں کہ الفاظ خط کشیدہ آیت میں پائے جاتے ہیں یا یہ ایجاد بندہ ہے اور قرآن موجود میں ستر قریش کے نام ہیں یا نہ؟ اور اہلِ بیت کے فضائل اور ان کے دشمنوں کے مصائب پائے جاتے ہیں یا نہ؟ جب ایسا نہیں ہے تو اس میں کیا شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ شیعہ صریح تحریفِ قرآن کے قائل ہیں اور قرآن موجود پر ان کا ایمان نہیں ہے۔