مصحف فاطمہ رضی اللہ عنہا
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہایک دوسری روایت میں ہے کہ شیعہ کا ایک اور قرآن مصحفِ فاطمہ بھی ہے، چنانچہ اصول کافی: صفحہ 146 میں ہے۔
وَإِنَّ عِنْدَنَا لَمُصْحَفَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامَ وَمَا يُدْرِيْهِمُ ما مُصْحَفُ فَاطِمَةَ قَالَ مُصْحَفٌ فِيْهِ مِثْلُ قَرَائِكُمْ هٰذَا ثَلَاتُ مَرَّاتِ وَاللَّهِ مَا فِيْهِ مِنْ قَرَانِكُمُ هٰذَا حَرْفٌ وَاحِدٌ۔
ترجمہ: امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے پاس ایک مصحفِ فاطمہؓ بھی ہے اور تم جانتے ہو مصحفِ فاطمہؓ کیا ہے؟ فرمایا وہ ایک قرآن ہے جس میں تمہارے قرآن سے سہ گنا زیادتی ہے اور خدا کی قسم اس میں تمہارے اس قرآن کا حرف بھی نہیں ہے۔
پھر تعجب ہے کہ اس اتنے بڑے قرآن میں جب ہمارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے تو وہ کس زبان میں ہے۔ عربی، فارسی ہو تب تو یہی حروفِ تہجی اس میں پائے جائیں جو اس قرآن میں ہیں غالبا سنسکرت میں ہو یا جنوں کی زبان میں یا جاپانی، انگریزی وغیرہ میں بہر حال یہ ایسی روایات ہیں جن کی سمجھ نہیں آسکتی۔