ستر گز کا قرآن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاصول کافی: صفحہ 46 میں ہے۔
قَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا الْجَامِعَةَ وَمَا يُدْرِيْهِمُ مَا الْجَامِعَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَمَا الْجَامِعَةُ قَالَ صَحِيْفَةٌ طُولِهَا لَهَا سَبْعُونَ ذراعًا
ترجمہ: امام جعفر نے فرمایا اے ابو محمد! ہمارے پاس ایک جامعہ ہے ان کو کیا معلوم کہ وہ جامعہ کیا ہے؟ میں نے کہا میں آپ پر قربان، فرمائیں وہ جامعہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا قرآن ہے جو ستر گز لمبا ہے۔
خوب، ستر گز لمبا قرآن! وہ کاہے کو بھلا اتنے لمبے قرآن کی سطروں کو کوئی پڑھے تو کیونکر ایک سرے سے چل کر دوسرے تک جائے اور پھر واپس لوٹ آنے کا تانا بانا دن بھر لگا رہے گا۔
پڑھنے والے کی جان عذاب میں پھنس گئی، گھنٹہ بھر کی رفتار میں بمشکل دو سطریں ختم ہو سکیں گی، علاوہ ازیں اتنا لمبا قرآن اُٹھائے تو کیوں کر۔ اونٹ ہاتھی بھی ستر گز لمبے نہیں ہوتے جو قرآن کو اُٹھا سکیں پھر یہ قرآن کہاں رکھا جائے۔ اتنا اونچا مکان کہاں سے لائیں۔
(یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ستر گز لمبا قرآن ضخامت میں بھی کم نہیں بلکہ اونٹ کی ران کے برابر موٹا بھی ہے۔ جیسا کہ اصول کافی: صفحہ 147 میں اس کی تشریح کی گئی ہے پھر کوئی انسان اتنے لمبے موٹے قرآن کو اُٹھانے کی طاقت ہی نہیں رکھتا)
خدا تعالیٰ فرماتے ہیں يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ
(خدا دین کے بارے میں تمہیں سہولت دینا چاہتا ہے۔ تکلیف میں تمہیں ڈالنا منظور نہیں)