غصہ کا نتیجہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کی شامت سے پہلے حضرت امیر کو صرف اس تھوڑی سی بات پر غصہ آ گیا کہ لوگوں نے کہہ دیا، ہمیں آپ کے قرآن کی حاجت نہیں ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ غصہ میں آ کر اس قرآن کی ایسی اشاعت کی جاتی کہ دوسرے قرآن (سنیوں کے قرآن) کی وقعت ہی نہ رہتی، لیکن غصہ کا نتیجہ الٹا یہ ہوا کہ بیگانے تو بیگانے اپنے شیعہ سے بھی قرآن چھپا دیا گیا۔ جس کا کہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کو کہیں غار میں پڑے ہوئے دیمک نہ کھا گئی ہو؟ پھر خدا کو غصہ آیا تو امام غائب کے ظہور میں اس قدر توقف ڈال دیا کہ 70ھ تو کجا اب 1343ھ ہو گیا ہے، ابھی تک امام والا مقام کی آمد کا پتہ تک نہیں ہے، امام تو آنے سے رہے کہیں قرآن ہی بھیج دیتے تب بھی شیعہ کی سرخروئی ہو جاتی مگر ایسا بھی نہ ہوا۔ بہرحال بقول شخصےــــ
ہر بلائے کز آسماں خیزد
خانہ انوری تلاش کند
غصہ کا جب کبھی نتیجہ ہوتا ہے شیعہ ہی کے خلاف نکلتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں من گھڑت اور یار لوگوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ اگر حضرت علیؓ نے کوئی علیحدہ قرآن جمع کیا ہوتا تو ناممکن تھا کہ اس کو چھپا رکھتے۔ خدا کے پاک بندے ایسے کوہِ وقار ہوتے ہیں کہ ان کو کسی ایسی ویسی بات پر غصہ نہیں آجایا کرتا اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ غصہ میں آ کر خدا کی کتاب (قرآن) کو جو محض ہدایتِ خلق کے لیے ہو اتنی تکلیف برداشت کر کے کئی روز کا چلہ کاٹ کر تیار کریں اور پھر اس کو کسی ایک شخص کے کہہ دینے سے، کہ اس کی ہمیں حاجت نہیں ہے ہمیشہ کے لیے چھپا دیں۔
این خیال است و محال است و جنوں