اعتراضات مرزا کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراضات مرزا کا جواب

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2
گویند علی بمعنیٰ الی است یعنی اخلاص راه راست بسوی من۔ سو اس کے معنیٰ یہ ہے کہ یہ راستہ سیدھا میری طرف ہے۔ اس میں کون سی غلطی ہے؟ یہ "عَلَیَّ" کی جگہ علیٰ صحیح سمجھ کر اس کو بھی علیؓ کی فضیلت کا ثبوت قرار دیتے ہیں، حالانکہ "صِرَاطٌ عَلَىَّ" کو علیؓ کا راستہ قرار دینا کمال حماقت ہے۔ قرآن میں صراط کی اضافت یا تو حق تعالیٰ کی طرف ہے جیسا
اِنَّ هٰذَا صِرَاطِىۡ مُسۡتَقِيۡمًا ہے، یا عام مقربینِ حق کی طرف جيسا صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ 
سارا قرآن مطالعہ کرو اس کے خلاف کسی ایک شخص نبی یا ولی کی طرف ہرگز اضافت نہیں ہے۔ "صِرَاطٌ عَلَىَّ" علیؓ کا راستہ کیا مسلمانوں کے راستہ سے الگ تھا کہ ان کی طرف خصوصیت سے اضافت کی جاتی؟ سوچو اور غور کرو نیز قرآن کی ایک اور آیت ہے وَعَلَى اللّٰهِ قَصۡدُ السَّبِيۡلِ یعنی سیدھا راستہ خدا کی طرف ہے۔  
یہاں تو "عَلیٰ" کا معنیٰ الیٰ کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیا شیعہ صاحبان یہاں بھی کہیں گے کہ "عَلَى اللّٰهِ" ہے، یعنی علی خدا ہے۔
بریں فہم و ادراک باید گریست
4: چوتھا اعتراض اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ پر ہے۔ معترض کا اعتراض یہ ہے کہ "اِنۡ" کا اسم منصوب ہوتا ہے "اِن هٰذَيْنِ" چاہیے۔ سو اس اعتراض نے تو شیعہ حضرات کی علمیت کا سارا پردہ فاش کر دیا ہے۔ شیعہ اس اعتراض اور ہمچو قسم کے دیگر اعتراض کو ایسا لا ینحل کہتے ہیں کہ اس کا جواب باب العلم حضرت علیؓ سے بھی معاذ اللہ نہ بن سکا۔ ہر ایک شخص جس نے نحو کی ادنیٰ کتاب عبدالرسول وغیرہ ہی پڑھی ہو، جانتا ہے کہ "ان مخففۃ" اکثر اوقات معنیٰ (بے عمل) ہو جاتا ہے اور اس صورت میں خبر پر لام آیا کرتا ہے۔
نحو کی مستند کتاب شرح ملا جامی بحث حروف مشبہ بالفعل: صفحہ 469 میں ہے۔
وَ تُخَفَّفُ إِنَّ الْمَكْسُورَةُ لِثِقْلِ التَّشْدِيدِ وَكَثْرَةِ الْاِسْتِعْمَالِ فَيَلِزُمُهَا بَعْدَ التَّخْفِيْفِ اللَّامُ فَحِيْنَذٍ يَجُوْزُ الْغَاءُهَا أَى ابْطَالُ عَمَلِهَا وَ هُوَ الْغَالِبُ لِفَوَاتٍ بَعْضِ وُجُوهِ مُشَابِهَتِهَا مَعَ الْفِعْلِ كَفَتْحِ الاَخِرِ وَ كُوْنِهَا عَلىٰ ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ 
"اِنَّ مکسورہ مخفف (اِن) بھی ہو جاتا ہے کیونکہ تشدید میں ثقالت ہے اور یہ کثیر الاستعمال ہے اس وقت لام ضروری ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ مشابہتِ فعل کی بعض وجوہ مثلاً مفتوح الآخر ہونا یا تین حروف کا ہونا معدوم ہو جاتی ہیں۔"
چونکہ آیت میں اِنْ مخفف ہے اس لیے قاعدہ نحو کی رو سے اس کا ابطالِ عمل جائز، بلکہ اغلب ہونے کی وجہ سے ھٰذَانِ کو اس نے عمل نہیں دیا۔ 
افسوس اس مسئلہ سے ایک ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہو سکتا ہے لیکن شیعہ کے علامہ حائری اور ان کے یلمعی اور عوعی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں ہے۔
شرح جامی تو ان کی بلا جانے مگر یہ مسئلہ تو ماتہ عامل عبدالرسول میں بھی درج ہے۔ اس علمی بضاعت پر جرأت یہ کہ قرآن پاک کتاب اللہ پر اعتراض کرنے لگے ہیں۔
كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏ 



صفحہ 2 از 2