شیعہ قرآن کو نہیں مانتے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ قرآن کو نہیں مانتے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

لو سنو! آج کل شیعہ حضرات کے بڑے مجتہد و مسلم پیشوا جناب مولوی سید علی الحائری لاہوری ہیں۔ ان کے نفس ناطقہ مرزا احمد علی امرتسری نے ایک رسالہ اردو موسومہ "الانصاف فی الاستخلاف" تصنیف کر کے شائع کیا ہے۔ اس کے ٹائٹیل کے دوسرے صفحہ پر مولوی حائری نے تقریظ لکھی ہے، جس میں مصنفِ رسالہ کی تعریف اور رسالہ کی تصدیق و توثیق کر کے آخر میں اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ اس رسالہ کے صفحہ 45 میں مرزا موصوف نے قرآن موجودہ کے متعلق اپنا عقیدہ صاف الفاظ میں لکھ دیا ہے۔ کہ قرآن موجودہ غلط اور ناقص، غیر صحیح الترتیب ہے اور اس طرح کا قرآن (معاذ اللہ) مرزا احمد علی بھی بنا سکتا ہے۔ عبارت یوں ہے

حضرت عثمانؓ کا قرآن کی نقلوں کو پھیلانا مُسَلَّم لیکن یہی ترتیبِ قرآن ان کی غفلت از اسلام کو طشت از بام کرتی ہے۔ اگر وہ حضرت علیؓ کے جمع شدہ قرآن کو رائج کرتے تو ان پر کوئی الزام عائد نہ ہوتا۔ ہم نمونہ کے طور پر اس ترتیب کی چند غلطیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ باتفاق اہلِ اسلام سورہ اقراء سب سے اول نازل ہوئی لیکن قرآن مترتب میں اس کو اخیر پارہ میں جگہ دی گئی ہے۔ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ اخیر میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کو بیچ میں جگہ ملی ہے۔ دیکھیے اس آیت کو چھٹے پارہ سورہ مائدہ میں یوں درج کیا ہے۔

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕفَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ 

(سورۃالمائدة آیت: 3)

ترجمہ: حرام کیے گئے تم پر مردار، خون، گوشت، سور اور جو بانگ دیا جائے واسطے غیر خدا کے ساتھ اس کے اور جو گلا گھونٹ کر مرا ہو یا مار سے مرا ہو اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور ضربِ شاخ سے مرا ہو اور جس کو کھایا ہو درندوں نے مگر جس کو تم نے ذبح کیا اور جو ذبح کیا جائے اوپر بتوں کے اور یہ کہ طلب قسمت کرو ساتھ تیروں کے، یہ فسق ہے۔ آج کافر تمہارے دین سے نا امید ہو گئے ہیں ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمام کر دی تم پر نعمت اپنی اور راضی ہوا تمہارے لیے اسلام دین سے، پس جو مضطر ہو جائے بھوک میں لیکن اس گناہ کے اعادہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ہر ایک عاقلِ بصیر پر ادنیٰ تدبر سے واضح ہو گا کہ ان دونوں اَلۡيَوۡمَ کو اصل آیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ محرمات کے حرام ہو جانے سے کافر ناامید نہیں ہو جاتے اور نہ اس سے کمال دین ہوتا ہے اور اگر اسی سے تمام دین ہوا تو چاہیے تھا کہ اس کے بعد کوئی اور حکم نازل نہ ہوتا، حالانکہ بالاتفاق ثابت ہے کہ اس کے بعد بہت سے حکم نازل ہوئے۔ پھر یہ حکم مکمل دین کیسے ہو سکتا ہے اور دیکھیے پارہ سورۃالنساء میں ہے۔

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً 

(سورۃالنساء آیت: 3)

یعنی اگر تم ڈرو کہ یتامیٰ میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح کرو جو پاک ہیں تمہارے لیے عورتوں سے دو، تین اور چار۔ پس اگر ڈرو کہ عدل نہ کرو گے تو ایک ہی۔

فرمایئے کہ خوف عدمِ انصاف یتامیٰ کی تعداد ازواج سے کیا تعلق؟ اگر قسط یتامیٰ تین چار عورات کو نکاح میں لانے سے ہی قائم ہوتا ہے؟ تو اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً کی قید بے فائدہ۔ یہ تو نمونہ مشتے از خروار ترتیب کی فروگزاشتیں ہیں اب اعراب کی سن لیجیے۔ 

اِنَّ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ یعنی بہ تحقیق یہ راستہ ہے اوپر میرے سیدھا۔ مہربانی کر کے اس "عَلَیَّ" کو ذرا سمجھا دیجیے، خدا کے اوپر کونسی راہ سیدھی ہے۔ یہ علیٰ یا فوق کے معنیٰ رکھتا ہے۔ لیکن خدا سے کوئی فائق نہیں ہے اور یا نقصان کے معنیٰ جیسے عَلَيۡكُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ‌ لیکن خدا کے لیے کوئی نقصان نہیں۔ پھر یہ "عَلَیَّ" ہے کیا چیز؟ 

اور لیجیے اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ موجودہ صرف ونحو کے لحاظ سے غلط ہے، آپ کے مسیح نے حقیقۃ الوحی: صفحہ 204 میں لکھا ہے کہ خدا کسی محاورہ کا پابند نہیں۔ یہ پرانا متروک محاوہ ہے لیکن اس پر یہ سوال ہے کہ قرآن مِنْ حَیْثِ فصاحت معجزہ ہے۔ اگر متروک محاوروں کو بھی معجزہ کہا جائے تو بس خیر، پھر تو میں بھی ایک ایسی کتاب لکھ سکتا ہوں جو پرانے محاورات کو شامل ہو اور وہ معجزہ ہوگا۔ پس حضور یہی آپ کے حضرت عثمانؓ کی کاروائی ہے۔ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ میں ذکرِ رسولﷺ مراد ہیں۔

(دیکھو 67 تفسیر نور الدین صاحب)

اس عبارت سے حسبِ ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ 

اول یہ کہ حضرت علیؓ کا جمع کردہ قرآن اصلی تھا، جس کو رائج نہیں کیا گیا اور موجودہ قرآن کی ترتیب مسلمانوں کی ہدایت کا باعث نہیں بلکہ اس سے غفلت از اسلام کا راز فاش ہوتا ہے۔ 

دوم مرزا احمد علی اس قرآن کو سراسر غلط سمجھتا ہے۔ چنانچہ نمونہ کے طور پر پہلے اس کی ترتیب کی غلطیاں ظاہر کرتا ہے، ایک غلطی یہ کہ سورہ اقرا پہلے نازل ہوئی تھی، قرآن موجودہ میں آخری پارہ میں درج ہے۔ 

دوسری یہ کہ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ اخیر میں نازل ہوئی اس کو چھٹے پارہ میں لکھا گیا ہے۔ 

تیسری آیت وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى کے ساتھ فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ بے معنیٰ ہے۔

اس کے بعد مرزا موجودہ قرآن کی صرف ونحو کی غلطیاں بیان کرتا ہے۔ 

پہلی یہ آیت هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ 

دوسری آیت اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ بھی قاعدہ نحو کی رو سے غلط ہے۔ اِنۡ هَذَيْنِ چاہیے تھا۔ 

صفحہ 2 از 3