اسلام کی تصویر جو رافضی پیش کرتا ہے - ردِ رافضیت | دفاع…

اسلام کی تصویر جو رافضی پیش کرتا ہے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

اب جائے غور ہے کہ یہ اسلام جو اہل السنت پیش کرتے ہیں اس کے متعلق کسی مخالف کو کسی قسم کا طعن کرنے کا کوئی موقعہ مل سکتا ہے (ہرگز نہیں) لیکن اسلام کا جو نقشہ روافض کھینچ کر دکھاتے ہیں یہ مخالفین کے اعتراضات سے ہرگز بچ نہیں سکتا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے رسولِ پاک نبی آخر الزمانﷺ نے اپنی پاک تعلیم سے جو شاگرد (اصحابؓ) پیدا کئے وہ ایسے کامل مکمل تھے کہ کسی قسم کی ترغیب و ترہیب ان کے راسخ عقیدہ اسلام سے ان کو متزلزل نہ کر سکتی تھی۔ اپنی جانیں، اپنے مال وہ اپنے آقا رسولِ پاکﷺ پر قربان کر چکے۔ ہر مشکل وقت میں اپنے پیارے رسولﷺ کا ساتھ دیا۔ وطن مالوف کو خیر بار کہا۔ خویش و اقارب کو چھوڑ کر نبی اکرمﷺ (فداہ ابی وامی) کے ہمراہ ہجرت اختیار کی۔ جان جوکھوں کے وقت صدیقِ اکبرؓ نے خدا کے حبیب حضرت رسولِ پاکﷺ کو اپنے کندھے پر اٹھا کر میلوں کا سفر قطع کر کے غارِثور میں پہنچایا۔ اپنی جان معرض خطر میں ڈالی۔ غار کے اندر جا کر پہلے سارے سوراخ بند کئے پھر رسولِ پاکﷺ کو اندر داخل ہونے دیا تاکہ حضورﷺ گزند مور و مار سے محفوظ رہیں۔ حضورﷺ کا سر اپنی گود میں رکھ کر سلا دیا اور خود پاسبانی کرتا رہا۔ عاشقِ نبیﷺ (صدیق اکبرؓ) کو جب کہ اس نے ایک سوراخ میں اپنے پاؤں کی ایڑی رکھی ہوئی تھی، سانپ نے ڈسا، آنکھوں سے شدتِ درد سے آنسو تو گرے لیکن منہ سے فریاد نہ نکلی تاکہ پیارے رسولﷺ کی نیند میں خلل نہ پڑے (یہ واقعات حملہ حیدری وغیره کتب معتبره شیعہ میں مذکور ہیں جن کو ہم اپنے کسی موقع پر نقل کریں گے) حضورﷺ کی زندگی ہی میں نہیں بلکہ آپﷺ کے یارانِ غار نے بعد وفاتِ رسولﷺ بھی خدمتِ اسلام میں اپنی جانیں وقف کر دیں اور انہی کی برکت سے اسلام دنیا میں پھیلا اور خدا کا پاک صحیفہ (قرآن کریم) جیسا کہ نازل ہوا تھا، ان ہی کی طفیل اب تک ہم میں موجود و محفوظ ہے۔ اس کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں (حواریوں) کی طرف دیکھا جائے تو پتہ ملتا ہے کہ اس مشکل وقت میں جو یہودیوں کی شرارت سے مسیح کی جان پر آ بنی تھی، کسی شاگرد نے ساتھ نہ دیا بلکہ یہودہ نے تیس روپے لے کر ان کو گرفتار کرا دیا۔ (متی باب 26، درس 15) شمعون پترس نے تین مرتبہ تعلق سے انکار کیا اور قسمیں کھائی ہیں اور لعنت بھی بھیجی (متی باب 26، درس 69، لغائت 74) ایسا ہی حضرت موسیٰؑ کو قوم نے جب ان کو جہاد کے لیے بلایا گیا تو صاف کہہ دیا کہ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوۡنَ (یعنی تم اور تمہارا رب مل کر دشمن کا مقابلہ کرو ہم تو الگ بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے) لیکن روافض کا اسلام وہ ہے کہ جو لوگ ہادی اسلام سے خاص الخاص تعلق رکھتے تھے، جن کی تعلیم پر آپﷺ نے سارا زور خرچ کیا اور ان کو عمر بھر اپنی صحبت سے مستفید فرمایا اور سفر و حضر میں وہ آپﷺ کے رفیق، شام و صباح اور ہمدم رہے، اپنی بیٹیاں ان کو نکاح کر دیں، اُن کی اپنی زوجیت میں لے لیں۔ ان کا اسلام ہی منافقانہ تھا، وہ زبانی مسلمان تھے اور دل میں رسولﷺ اور اس کی اولاد کے دشمن تھے۔ ہادی اسلام کے رخصت ہونے (فوت ہونے) کی دیر تھی کہ سارا نقشہ ہی بدل گیا، نہ مسلمان رہے نہ مسلمانی۔ صرف تین یا چار اشخاص اسلام پر ثابت قدم رہے باقی سب مرتد ہو گئے۔ (العیاذ باللہ) اب بتائیے کہ ایک مخالفِ اسلام کے دل میں اسلام اور ہادی اسلام کی کیا وقعت رہ جائے گی؟ اور مسلمان صداقتِ اسلام کے لیے کونسی دلیل پیش کر سکے گا۔ علاوہ ازیں شیعہ قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں


صفحہ 3 از 3