اسلام کی تصویر جو رافضی پیش کرتا ہے - ردِ رافضیت | دفاع…

اسلام کی تصویر جو رافضی پیش کرتا ہے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

"اے نبیﷺ ہم نے جو ولائیت علیؓ کی نسبت آپﷺ کے پاس وحی بھیجی ہے وہ ظاہر کر دیجیے۔ ایسا نہ کیا تو تم نے حقِ رسالت ادا نہیں کیا"

اس پر بھی آنحضرتﷺ کو علانیہ طور پر ولایتِ علیؓ اور اپنے بعد ان کی جانشینی کے متعلق صاف اعلان کر دینے کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ کچھ ایسے گول مول الفاظ کہے جن سے مدعا حاصل نہ ہو سکتا تھا وہ یہ تھے۔ مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِىٌّ مَوْلَاهُ اللهُمَّ وَالٍ مَنْ وَالاهُ وَعَادٍ مَنْ عَادَاهُ

"جس کا میں دوست علیؓ بھی اس کا دوست ہو گا اے خدا علیؓ کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن"

اس سے تو یہی ظاہر ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوستی رکھنا چاہیے، دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں ولائیت یا خلافت کی طرف تو مطلقاً اشارہ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول روافض بوقتِ وفات حضورﷺ نے قلم، دوات طلب فرمائی تاکہ علیؓ کی خلافت کے متعلق کچھ وصیت کریں، مگر وہ وقت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ کہہ کر ٹال دیا۔ عمرؓ تو دشمن ہی تھے، اہلِ بیت جن میں علی المرتضیٰؓ بھی تھے، یہ حوصلہ نہ کر سکے کہ کہیں سے قلم دوات لا کر اپنے حق میں وصیت لکھوا لیتے اور یوں رسول اللہﷺ نے آیت بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک ضروری حکم وصیت خلافتِ علیؓ عمرؓ کے خوف سے چھپا دیا۔ حضورﷺ تو فوت ہو گئے، سیدنا علیؓ کے ساتھ سوائے معدودے چند حضرات مقداد، ابوذر، سلمان رضوان اللہ علیھم اجمعین وغیرہ کے کوئی تھا ہی نہیں، تمام مسلمانوں نے اتفاق کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تختِ خلافت پر بٹھا ہی دیا۔ علی المرتضیٰؓ گوشہ نشین ہو کر قرآن جمع کرنے میں مصروف ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے دروازہ کھٹکھٹایا، شیرِ خدا خود تو دروازہ تک نہ آئے خاتونِ جنت کو بھیجا اُنہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کو ڈانٹ پلائی کہ ہمیں کیوں چھیڑتے ہو؟ حضرت عمرؓ نے غضب ناک ہو کر ان پر دروازہ گرا دیا۔ یا بقول روافض (نعوذ باللہ) خاتونِ جنت کے بطن مبارک پر لات مار کر حمل گرا دیا (محسن کو شہید کر دیا) علی المرتضیٰؓ پرلے درجہ کے بہادر اور جری تھے۔ آپ کی شجاعت کا کیا کہنا۔ ساتوں آسمان ایک انگلی پر رکھ کر اُٹھا لینا ان کی بہادری کا ادنیٰ کرشمہ تھا۔ آپ کی ذوالفقار بھی غضب ڈھاتی تھی۔ عمرو مرحب جیسے کوہ پیکر پہلوان کافر کو ایک اشارہ سے دو ٹکڑے کردیا۔ شیرِ خدا نے خیبر کا دروازہ ایک ہاتھ سے توڑ کر کہیں کا کہیں پھنک دیا، مگر بایں ہمہ اپنی زوجہ محترمہ کی یوں بے عزتی دیکھ کر نہ ذوالفقار نیام سے نکالی نہ اپنی خداداد شجاعت کے کچھ جوہر دکھلائے، الٹا حضرت عمر اور حضرت خالد رضی اللہ عنہما نے شیرِ خدا کی گردن میں (معاذ اللہ) رسی ڈال لی اور گھسیٹتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ کے پاس لے گئے اور بزور بیعت کرائی۔ پھر ایامِ خلافتِ ابوبکرؓ میں شیرِ خدا تقیہ سے کام لیتے رہے، ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور ہر ایک کام میں اُن کے مشیر کار بنے رہے۔ ایسا ہی ایامِ خلافتِ عمر و عثمان رضی اللہ عنہما میں، اندر سے دشمن لیکن مصلحتاً بظاہر دوست بنے رہے اور اس طرح خلقِ خدا گمراہ ہوتی رہی۔ آخر شہادتِ عثمانؓ کے بعد آپؓ کو منصبِ خلافت نصیب ہوا، لیکن ثلاثہؓ کا خوف دل پر کچھ ایسا غالب تھا کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی مخالفت کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ نہ فدک ورثاءِ فاطمہؓ کو واپس دے سکے، نہ متعہ جیسے کار ثواب کی ترویج کر سکے، نہ بدعت عمر تراویح کو موقوف فرما سکے۔ غرض منحوس تقیہ آپ کے لیے ایسی بلائے بے درمان تھی کہ جس نے مرتے دم تک پیچھا نہ چھوڑا اور طرفہ یہ کہ خدا کے کلام پاک قرآن کریم کو بھی ثلاثہؓ نے بگاڑ کر کچھ کا کچھ کر دیا۔ سورتوں کی سورتیں اور آیتوں کی آیتیں نکال ڈالیں۔ سترہ ہزار آیات کا قرآن جبرئیلؑ رسولِ پاکﷺ کے پاس لایا تھا۔ ثلاثہؓ نے صرف 6666 آیات رہنے دیں، باقی سب نکال دیں۔ اصلی قرآن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا جو ثلاثہؓ کو پیش کیا اُنہوں نے قبول نہ کیا، تو قسم اٹھائی کہ اب اس قرآن کو ظہورِ مہدی سے پہلے کوئی دیکھ نہ سکے گا۔ یہ مسئلہ بالتفصیل آگے درج ہو گا۔ 

صفحہ 2 از 3