فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 20

جواب: اخبار آحاد میں یہ مطالبۂ صحت کیا جاتا ہے متواترہ میں نہیں۔ ارتداد والی روایات کو آپ کے ثقہ ترین علماء نے متواتر (لفظاً و معناً) کہا ہے۔ علامہ مامقانی تنقیح المقال جلد 1، صفحہ 216 میں کہتے ہیں:

على ان اخبارنا قد تواترت بانه ارتد بعد النبیﷺ جمیع الناس بنقض البیعة الا ثلثة او اربعة او خمسة (معاذ اللہ)

علاوہ ازیں ہم شیعوں کی روایات اس بات پر متواتر ہیں کہ حضورﷺ کے بعد حضرت علیؓ کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوا باقی سب مرتد ہو گئے۔ (معاذ اللہ)

پھر آپ کا یہی عقیدہ بھی ہے کہ صرف چار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ناخوشی سے کی۔ یہ ارتداد سے بچ گئے اور باقی سب برضاء و رغبت بیعت کرنے سے معاذ اللہ مرتد ہو گئے۔

احتجاجِ طبرسی جلد 1، صفحہ 84 میں ہے۔

ما من الامة احد بايع مكرھا غير على و اربعتنا۔

سیدنا علیؓ اور ہمارے چار مخلص صحابیوں کے سوا ایک بھی نہیں جس نے سیدنا ابوبکرؓ کی بیعت خوشی سے نہ کی ہو۔

کافی باب قلتہ المومنين، باب التقیہ، رجال کشی، حیات القلوب، حق الیقین بحار الانوار وغیرہا سب کتابوں میں یہ روایات ہیں۔ علماء شیعہ نے ان کو کبھی ضعیف یا غیر معتبر نیں کہا بلکہ صحیح کہا ہے تو ہم یہ الزام لگانے میں سچے ہیں کہ شیعہ تمام اصحابِؓ رسولﷺ کے دشمن ہیں۔ جن کو وہ مؤمن کہتے ہیں وہ صحابی رسولﷺ کی حیثیت سے نہیں بلکہ بعد ارتداد دوبارہ امامتِ حضرت علیؓ پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کو مؤمن و مسلمان جانتے ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شاگرد مانتے ہیں۔

سوال نمبر 927: کیا ان کا مطلب بطور محاورہ، قلت کا اظہار نہ لیا جائے گا؟

جواب: جب آپ کا عقیدہ ہی اس تعداد پر ہے تو محاورہ سے معنیٰ اخذ نہ ہو گا۔ لفظ اپنے لغوی معنیٰ پر حقیقتہً دال ہو گا۔

سوال نمبر 928: کیا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بدگمانی ان کو محبوبِ رسولﷺ اور دوستِ سیدنا علیؓ سمجھ کر رکھتے ہیں یا نافرمانِ رسولﷺ اور دشمنِ امیر جان کر؟

جواب: نصوصِ قطعیہ کے مقابل یہ شیعوں کا گمان و اعتقاد حجت نہیں۔ دشمنِ اسلام و خدا ابوجہل بھی حضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے دشمنی ان کو خدا اور دینِ ابراہیم کا دشمن سمجھ کر رکھتا تھا، اور اپنے عقیدہ کی حقانیت پر یقین کی وجہ سے ہی اس نے کعبہ شریف کا غلاف پکڑ کر آہ و زاری سے یہ دعا کی تھی:

اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ (پارہ: 9 رکوع 18)

ترجمہ: اے اللہ اگر یہ پیغمبر تیری طرف سے سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا یا کوئی درد ناک عذاب لے آ۔

نیز قرآن میں ایسے مخلص بلا اعتقادوں کو مردود کہا گیا ہے:

اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏ (پارہ: 16 رکوع 3)

ترجمہ: وہ لوگ جن کی کمائی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ دل سے سمجھتے ہیں کہ وہ اچھےکام کر رہے ہیں۔

سوال نمبر 929: کیا شیعوں نے رسول اللہﷺ و آلِ رسولﷺ کی محبت معیارِ عقیدت بنا کر غلطی کی ہے؟

جواب: حضرت رسولﷺ سے شیعوں کی محبت؟ اس سے بڑا دنیا میں کوئی جھوٹ نہیں۔ ورنہ ازواجِ مطہراتِؓ رسولﷺ‏ اور بناتِ طاہراتِؓ رسولﷺ، خلفاء و اصحابِؓ رسولﷺ کو یہ نام نہاد شیعانِ علی گالیاں نہ بکا کرتے۔ آلِ رسولﷺ سے محبت کا دعویٰ ضرور ہے مگر معیارِ عقیدت سمجھنے میں زبردست غلطی کی ہے۔ تمام اصحابِؓ رسولﷺ کو تو آلِ رسولﷺ کا دشمن مان لیا۔ حالانکہ انہوں نے اہلِ بیتؓ کو گود میں پالا، وظائف دیئے، ہر لحاظ سے ناز برداری کی، ان کے خلاف انگلی تک نہ ہلائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمن ان مصری، کوفی، بصری سبائیوں کو اشتر نخعی جیسے ان کے لیڈروں کو محبِ آلِ رسولﷺ مان لیا جنہوں نے اہلِ بیتؓ کے خون سے بلا واسطہ یا بالواسطہ ہاتھ رنگے مسلسل نافرمانی کی اور اہلِ ببیت رضی اللہ عنہم کو بدنام کر کے چھوڑا۔ شیعوں کی تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ انہوں نے اہلِ بیتؓ کشی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کردار کشی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

سوال نمبر 930: سیدنا ابوبکرؓ نے عاملِ صدقات نبویﷺ مالک بن نویرہ کے قتل کا قصاص نہ لیا اور مرتدوں کے خلاف جنگ کی شیعہ پر اعتراض کیوں؟

جواب: یہاں حضرت ابوبکرؓ دشمنی اور بد دیانتی سے طعن کیا گیا ہے۔ ورنہ مالک بن نویرہ نے حضور اکرمﷺ‏ کی وفات پر خوشی منائی اور کہا اچھا ہوا اس سے جان چھوٹ گئی اور جمع کردہ زکوٰۃ و صدقات اپنے پاس رکھ لی۔ سجاح نامی مرتدہ کے ساتھ ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہونے لگا۔ پھر عورت سے تو الگ ہو گیا مگر حضرت خالد بن ولیدؓ سے مقابلہ ہو گیا۔ گرفتار ہوا تو بار بار یہ کہتا تھا تمہارے صاحب نے یوں کہا، پیغمبرﷺ‏ کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا تھا۔ حضرت خالدؓ کو غصہ آیا کہ حضورﷺ‏ تمہارے کچھ نہیں لگتے؟ اسی دوران حضرت ضرار بن الازور نے ان کو قتل کر دیا۔ کیونکہ یہ سب علامات و قرائن ارتداد کی ہی تھیں مگر حضرت ابو قتادہؓ کو یہ قتل اس لیے ناپسند آیا کہ ان کے خیال میں مالک کی بستی سے اذان کی آواز آئی تھی جب کہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی نفی کی۔ جب حضرت ابو قتادہؓ نے حضرت صدیقِ اکبر کو جا کر شکایت کی تو آپؓ نے ڈانٹا کہ بلا اجازت امیر آ گئے اور وہ بھی ان کے خلاف شکایت کرنے، بعد میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تحقیق کی تو مالک کا ارتداد ثابت ہو گیا۔ تو حضرت خالدؓ سے قصاص نہ لیا۔ بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو سیدنا خالدؓ نے قتل نہیں کرایا۔ بلکہ وہ تحقیقِ مال کے لیے سیدنا ضرار بن ازورؓ کی حراست میں تھے کہ دھوکے سے رات کے وقت حضرت ضرارؓ کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ سب تفصیل تاریخِ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی صفحہ 239 تا 242 پر دیکھی جا سکتی ہے۔

صفحہ 9 از 20