فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 20

جواب: نیک و بد کا امتیاز یہاں موجود ہے کہ سب سے بڑی نیکی رسولِ خداﷺ پر ایمان اور آپﷺ‏ کی زیارت ہے۔ اس نیکی والا صحابی ہو کر اتنا بڑا درجہ پا لیتا ہے کہ بعد کی کوئی ہستی یہ درجہ نہیں پا سکتی تو مذہبِ سنّیہ کسی بعد والے کو حق نہیں دیتا کہ وہ ان عظیم نیکوں پر تنقید کرے جب یہ پابندی عام مسلمان کے حق میں ہے اپنے والدین، اساتذہ و مربی کے حق میں اخلاقاً بھی ہے تو بعد از انبیاء علیہم السلام تمام لوگوں سے افضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ حق کیوں شرعاً حاصل نہ ہو کہ کوئی ان پر تنقید نہ کر سکے اور ان کا بدگو ذلیل و خوار ہو۔ ہاں شیعہ عقیدہ میں نیک و بد اور سابق و لاحق کا فرق نہیں ہے۔ وہ معاذ اللہ اپنے غیر صحابی اماموں کو سیدۃ النساء فاطمہؓ سے بھی افضل کہتے ہیں بلکہ ان کو انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بڑھا دیتے ہیں۔ برائے نام شیعہ کہلانے والے فاسقوں کو قطعی جنتی اور اولیاء کبارؒ سے بھی افضل مانتے ہیں اور محرم کے ماتمی کو سال بھر کے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے پاک اعتقاد کرتے ہیں۔

سول نمبر 921: جب دین کا مشن حق و باطل میں تفریق ہے تو تنقید کے بغیر فرق کیسے معلوم ہوا؟

جواب: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غیبت و بدگوئی، ان پر اتہام بازی اور دشنام طرازی ہی حق و باطل میں فرق کرنے کا معیار ہے؟ جھوٹے صرف اصحابِ محمدﷺ ہی ہیں؟ (معاذ اللہ) اور سچے صرف دروغ گو بدعمل علانیہ فاسق و عیاش نام نہاد شیعانِ علی ہیں؟ کیا حق و باطل میں تفریق کا یہ مشن اپنے شیعوں میں بھی چلایا ہے؟ اور ان کا سچ جھوٹ بھی کبھی علیحدہ علیحدہ کیا ہے؟ اگر اپنی قوم کے بارے میں تمہاری زبانیں گنگ ہیں تو اصحابِ محمدﷺ کے بارے میں تمہاری تبرّا باز زبانوں پر تالے ہم لگائیں گے۔ کاش کہ بااثر سنِّی مسلمان یہ فرض ادا کریں تو تبرّائی فتنہ ختم ہو جائے۔

سوال نمبر 922: سورت فاتحہ میں ہے سیدھی راہ پر چلا گمراہوں اور مغضوب علیہم سے بچا جب نقد و جرح پر پابندی ہے تو صراطِ مستقیم کیسے متعین ہو گا؟

جواب: باتفاق مفسرین ضالین سے مراد عیسائی ہیں جو عقیدت میں غالی ہو گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نور من نور اللہ، جزوِ خدا اور ابن اللہ اور خدائی صفات والا مان لیا۔ مغضوب علیہم سے مراد باتفاق مفسرین یہودی ہیں جو دشمنی اور نفرت میں حد سے بڑھے ہوتے تھے کہ حضرت موسیٰ و حضرت عزیر علیہما السلام کے حق میں تو مشرکانہ عقائد بنا لیے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی تو کجا حال زارہ بھی تسلیم نہیں کیا۔ اب صراطِ مستقیم وہی ہو گا۔ جو رسولِ خداﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیتؓ سے متعلق افراط و تفریط سے پاک ہو گا۔ سب کو علی فرق المراتب، نیک حلال زادہ اور اپنا محبوب پیشوا جانے لگا۔ اور یہ صراطِ مستقیم مذہبِ اہلِ سنت ہی ہے۔ اس کے برخلاف یہود و نصاریٰ کی عادتیں رکھنے والا خارجی یا شیعہ صراطِ مستقیم سے محروم ہو گا اور یہ وضاحت خود حضرت علی المرتضیٰؓ نے خطبہ نہج البلاغہ سیھلک فی صنفان میں کر دی، دشمن کی مخالفانہ گواہی اور سگے کی بناء بر قربت صفائی کسی قانون میں معتبر نہیں ہے۔

سوال نمبر 923: آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کو صحبتِ پیغمبرﷺ پر اعتراض جانتے ہیں تو پھر آغوشِ رسولﷺ کی تربیت کا کیا مقام و درجہ ہو گا؟

جواب: واقعی جیسے اولاد کی بدگوئی باپ کو دکھ دیتی ہے اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید رسولِ خداﷺ کی مجلس و تربیت پر اعتراض ہے۔ ہم آغوشِ نبوت میں تربیت کو بھی بڑا اونچا مقام دیتے ہیں۔ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپﷺ کی آغوش میں ہی تربیت پائی اور وہی روحانی اولاد تھی تو ان پر طعن گویا براہِ راست ذاتِ نبوت پر طعن ہے۔ جو شیعوں کا مشن ہے۔

سوال نمبر 924: قرآن کی وہ آیت بتائیں کہ ہر صحابی سے نیک گمان ضروری ہے۔

جواب: اجْتَنِبُوْا کَثِیْراً مِنَ الظَّنِّ (ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو یقیناً کچھ گمان گناہ ہیں۔ کسی کے خفیہ عیب تلاش نہ کرو اور پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو) (پارہ 26) ہم بتا چکے ہیں جب بدظنی ممنوع اور بدگوئی حرام ہے تو نہی کا خلاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نیک گمان اور نیکیوں کا پرچار ضروری ہوا۔

سوال نمبر 925: مخلصین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل سے کتابِ خدا بھری ہوئی ہے، احادیث میں ان کے مناقب درج ہیں ہم شیعوں کا عقیدہ ہے جو اصحابِ صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مراتب کا انکار کرے، وہ موذی خدا و رسولﷺ‏ ہے مردود اور احسان فراموش ہے پھر ہم پر اصحاب دشمنی کا الزام کیوں لگایا جاتا ہے؟

جواب: آپ کے والد مرحوم کو آفرین! اب ایک تو سچی اور مسلمانوں والی بات کہی، یہی کچھ ہم کہتے ہیں اور آپ سے کہلوانا چاہتے ہیں۔ اپنی بات کو مخلص مؤمن کی طرح سچ کر دکھائیے اور بدگوئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سینکڑوں صفحات کا اپنا اور دیگر مؤلفین شیعہ کا لٹریچر دریا بُرد کرائیے۔ ورنہ یہ بات منافقت اور مکاری ہو گی آپ پر صحابہؓ دشمنی کا الزام اسی وجہ سے لگتا ہے کہ آپ لفظ مخلص کی آڑ میں صرف چار یا پانچ اصحابِ سیدنا علیؓ کو بزعمِ خود اچھا جانتے، باقی سوا لاکھ سب اصحابِؓ رسولﷺ کو برا بھلا کہتے اور لکھتے رہتے ہیں۔ جب ہم معلوم النفاق لوگوں کو صحابی مانتے ہی نہیں آپ کو بھی پورا پورا اختیار دیتے ہیں کہ دو سنّی دو شیعہ معتبر مفسروں کی صراحت سے منافقوں کی فہرست الگ نکال لیں۔ باقی سب کو مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مان کر مسلمانوں سے جنگ و جدال چھوڑ دیں۔ مگر آپ ہماری معقول پیش کش کو ٹھکرا دیتے ہیں اور بدستور چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ سب کی بدگوئی اور غیبت میں رطب اللسان رہتے ہیں تو ہم آپ پر صحابہ کرامؓ دشمنی کا الزام نہ لگائیں تو کیا کریں؟

سوال نمبر 926: ہمارے خلاف الزام ہے کہ شیعوں کی کتابوں میں ہے کہ سوائے تین چار اصحابؓ کے باقی سارے مرتد ہو گئے۔ وہ تمام روایات شیعہ اصول کے مطابق صحیح ثابت کی جائیں؟ 

صفحہ 8 از 20