فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 20

جواب: عقلاً و نسلاً بلکل غلط بات ہے۔ خلفائے ثلاثہؓ کے انتخاب پر اور عہدِ حکومت میں کوئی جھگڑا اور خونریزی ہوئی ہیں نہیں۔ حضرت علیؓ کے دور میں قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کی سازش سے سب کچھ ہوا۔ شیعہ جب تمام مسلمانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حاسد و دشمن مانتے ہیں؟ تو بالفرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ برسرِ اقتدار آ ہی جاتے تو کیا ضمانت ہے کہ مسلمانوں پر لشکر کشی نہ کرتے یا ان کا مخالف کوئی نہ اٹھتا؟ (ہم یہ شیعہ اصول سے انگریز مؤرخ کا خیال غلط ثابت کر رہے ہیں۔ ورنہ سنَّی اصول اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مؤمنانہ کردار و سلوک حضرت علی المرتضیٰؓ کی حکومت کو بھی اسی طرح کامیاب بناتا جیسے خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زریں دور کو کامیاب کر چکا۔)

سوال نمبر 918: جنرل ہسٹری از فریزر ٹیلر صفحہ 229 پر ہے:

حضرت محمدﷺ نے اپنے داماد سیدنا علیؓ کو اپنا ولی عہد بنایا تھا مگر آپﷺ‏ کے خسر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر خلافت پر قبضہ کر لیا۔ کیا شیعوں نے اسے رشوت دی تھی؟ 

جواب: بکواس محض اور بلکل خلاف عقل و نقل ہے مسلمانوں کی متضاد آراء کو معلوم کر چکنے کے بعد دشمن بغیر رشوت لیے بھی اپنی لگائی بجھائی سے مسلمانوں کو لڑانا چاہتا ہے۔ خصوصاً جبکہ خلفائے ثلاثہؓ نے ان کے رومی ممالک فتح کر کے اسلامی قلمرو میں داخل کر دئیے تو انہوں نے ان کے خلاف غصہ نکالا مگر غضب اور تعجب تو یہ ہے کہ شیعہ نے ان کی بات مان لی اور خدا و رسول اللہﷺ اور 100 فیصد سب مسلمانوں کی بات رد کر دی۔

سوال نمبر 919: مسٹر ایڈورڈ گبن، عروج و زوال سلطنت روم کے صفحہ 938 پر لکھتے ہیں: اگر سیدنا علیؓ جو مستحق خلافت تھے بعد از رسول اللہﷺ مقرر کر دیئے جاتے تو اسلام اپنے خون میں نہ نہاتا۔

جواب: محض وہم و خیال ہے۔ تردید سوال 917 میں ہو چکی ہے۔ کتاب کا نام ہی بتاتا ہے کہ فاتحِ روم مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد سے جل کر لکھی ہے۔ لہٰذا ان کی کوئی بات مسلمانوں پر حجت نہیں ہو سکتی۔ مناسب ہے کہ دشمن کی گواہی سے خلفاء راشدینؓ کی عظمت بتائی جائے۔

خلفائے ثلاثہؓ کو غیر مسلموں کا خراجِ تحسین

عیسائی فاضل گاؤفری ہینگس اپنی کتاب ایالوجی فرام محمدﷺ میں لکھتا ہے:

1: بخلاف محمدﷺ کے اول مریدوں کے کہ بجز اس کے غلام کے سب لوگ بڑے ذی وجاہت تھے اور جب وہ خلیفہ اور افسر فوجِ اسلام مقرر ہوئے تو اس زمانے میں جو کچھ انہوں نے کام کیے ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں اول درجے کی لیاقتیں تھیں اور غالباً ایسے نہ تھے کہ بآسانی دھوکہ کھا جاتے۔ الخ

یہ ذی وجاہت مریدانِ اوّل خلفائے ثلاثہؓ کو ہی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

2: مشہور انگریز مؤرخ گبن نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ:

پہلے چاروں خلیفوں کے اطوار یکساں اور ضرب المثل تھے اور ان کی سرگرمی اور دل دہی اخلاص کے ساتھ تھی اور ثروت و اختیار پا کر بھی انہوں نے اپنی عمریں ادائے فرائض اخلاقی و مذہبی میں صرف کیں۔ پس یہی لوگ محمدﷺ کے ابتدائی جلسہ میں شریک تھے جو بیشتر اس سے کہ اس نے اقتدار حاصل کیا یعنی تلوار پکڑی اس کے جانب وار ہو گئے۔ یعنی ایسے وقت میں کہ وہ ہدف آزار ہوا اور جان بچا کر اپنے ملک سے چلا گیا۔ اور ان کے اوّل ہی اوّل تبدیل مذہب کرنے سے ان کی سچائی ثابت ہوتی ہے اور دنیا کی سلطنتوں کو فتح کرنے سے ان کی لیاقت کی قوت معلوم ہوتی ہے۔

ایک غیر مسلم تو خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کمالات و صفات سے اسلام کی سچائی ثابت کر رہا ہے مگر مسلمانوں کا گھریلو دشمن ان کی کردار کشی کر کے اسلام کو جھٹلاتا رہتا ہے۔

3: سرولیم میور اپنی کتاب ازلی خلافت میں لکھتے ہیں:

آخر دم تک حضرت ابوبکرؓ کے دل و دماغ کی صفائی اور طاقت کا مطلع مکدر نہ ہونے پایا۔ 

سیدنا ابوبکرؓ میں عزیمت اور استقلال کی کچھ کمی نہیں ہوتی تھی۔ حضرت اسامہؓ کے زیرِ کمان فوج روانہ کرنا اور مشرک قوموں کے برخلاف مدینہ میں محفوظ رکھنا اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ آپؓ تن تنہا تھے اور چاروں طرف گویا ایک کالی گھٹا چھا رہی تھی۔ اس جرأت اور عزم کا شاہد ہے جو فتنہ و فساد کی آگ بجھانے میں اور زیادہ کار آمد ثابت ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی قوت کا راز وہ ایمانِ راسخ تھا جو آپؓ حضرت محمدﷺ پر لائے تھے۔ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے خلیفہ خدا نے کہو میں رسولِﷺ‏ خدا کا خلیفہ ہوں۔ آپؓ کو ہمیشہ یہی سوال مدِّنظر رہتا تھا کہ حضرت محمدﷺ کا کیا حکم تھا اس وقت وہ ہوتے تو کیا کرتے۔ اس سوال کے جواب پر عمل کرتے وقت آپؓ سرمو تجاوز نہ کرتے تھے اور اس طرح پر آپؓ نے شرک اور بت پرستی کو پامال کر دیا اور اسلام کی بنیاد استوار قائم فرمائی آپؓ کا عہد مختصر تھا مگر رسول اللہﷺ کے بعد اور کوئی ایسا نہیں ہوا جس کا اسلام کو ان سے زیادہ ممنون اور مرہونِ احسان ہونا چاہیے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول اکرمﷺ کا اعتقاد نہایت راسخ طور پر متمکن ہوا اور یہی عقیدہ خود رسول اکرمﷺ سے خلوص اور سچائی کی ایک زبردست شہادت ہے۔ الخ۔ یہی مؤرخ حضرت عمرؓ کے متعلق لکھتا ہے:

رسول اللہﷺ کے بعد سلطنتِ اسلام میں سب سے بڑے شخص سیدنا عمرؓ تھے کیونکہ یہ انہی کی دانائی اور استقلال کا ثمرہ تھا کہ ان دس سال کے عرصے میں شام اور مصر اور فارس کے علاقے جن پر اس وقت سے اسلام کا قبضہ آ رہا ہے تسخیر ہو گئے۔ آپؓ نے ہی جنگِ بدر کے خاتمہ پر یہ صلاح دی تھی کہ تمام قیدیوں کو تَہ تیغ کیا جائے لیکن عمر اور رتبہ نے ان کے مزاج کی تندی اور درشتی کو مبدل بہ حلم کر دیا تھا۔ عدل و انصاف ان میں بحدّ کمال تھا۔ فوج کے سرداروں اور گورنروں کا انتخاب آپؓ نے بِلا رُو و رعایت کیا اور سیدنا مغیرہؓ و سیدنا عمّارؓ کو چھوڑ کر سب کا تقرر نہایت مناسب اور موزوں ہوا۔ یہ تین متعصب مگر ذی علم عیسائی مؤرخوں کے حوالہ جات کا خلاصہ ہم نے آیات بینات از مولانا نواب مہدی علی خاں سے لیا ہے۔ (بحوالہ مباحثہ مکیریاں امام اہلِ سنتؒ)

سوال نمبر 920: مذہب صحیح وہی ہو سکتا ہے جس میں نیک و بد کا امتیاز ہو، مگر مذہب سنّیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی پابندی ہے تو یہ عقلاً قابلِ قبول نہیں۔

صفحہ 7 از 20