فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 20

سوال نمبر 896: مہر باندھنے کی ممانعت کے بارے میں ایک عورت نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ خلیفہ ہو کر قرآن سے ناواقف ہے تو سیدنا عمرؓ نے جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سب کا علم زیادہ ہے کیا یہ کسر نفسی تھی یا حقیقت؟ 

جواب: دروغ گوئی آپ پر ختم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مہر کی ممانعت نہ کر رہے تھے۔ گرانی مہر کے خلاف تقریر کر رہے تھے۔ ایک عورت نے اٹھ کر کہا۔ خدا تو فرماتا ہے: وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا (کہ تم نے کسی بیوی کو ایک ڈھیر خزانہ مہر دیا ہو) تو ان سے کچھ نہ لو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس عورت کی جرأت اور قرآن دانی کی قدر و ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت بھی قرآن کا علم زیادہ جانتی ہے۔ یہ کسر نفسی ہے۔ اور دوسروں کو قرآن فہمی پر ابھارنا ہے ورنہ حقیقت تو وہ تھی جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیان کرتے ہیں۔

1: سیدنا ابنِ مسعودؓ کہتے ہیں اگر حضرت عمرؓ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور زمین کے تمام لوگوں کا علم دوسرے پلڑے میں تو یقیناً سیدنا عمرؓ کا علم ان کے علم سے بڑھ جائے گا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ علم کے 9/10 حصے سیدنا عمرؓ کی وفات سے رخصت ہو گئے۔ (طبرانی فی الکبیر والحاکم)

2: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ سب لوگوں کا علم حضرت عمرؓ کی گود میں پڑا ہوا تھا۔ 

3: حضرت علیؓ فرماتے ہیں پختگی اور عزم میں ہوشیاری اور علم میں اور بہادری میں حضرت عمرؓ کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ (طیوریات، تاریخ الخلفاء: صفحہ، 95) 

سب سے آخری بات یہ ہے کہ اس خاتون کا حضرت عمر فاروقؓ سے مناقشہ بے محل تھا۔ کیونکہ آپؓ زیادتی مہر کو معاشرہ کے لیے نقصان دہ خیال کر کے کم کرنا اور قانون بنانا چاہتے تھے۔ نفسِ جواز کے منکر نہ تھے۔ جو قرآن میں مذکور اتفاقی صورت سے عورت بتانا چاہتی تھی۔ 

نوٹ: سوال 897 سے 919 تک غیر مسلموں کی عبارات سے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلافصل پر بے سروپا خیالی استدلالات کیے ہیں۔ جھوٹے مذہب کے لیے محنت تو واقعی قابلِ داد ہے مگر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ کا مصداق نتیجہ صفر اور ناکامی ہے۔ بھلا مسلمانوں کی کتاب قرآن شریف میں ان اماموں کا یا ان کی جعلی خلافت و امامت کا ایک لفظ تک نہ ہو، تو غیر مسلموں سے امداد وہی لے گا جو خود انہی کا نمائندہ ہو اور ان کے مذاہب میں ترمیم کر کے مجموعہ معجونِ مرکب اسلام کے لیبل سے تیار کر دکھائے۔ شیعہ مذہب کے سب عقائد و اعمال تمام ادیانِ باطلہ وغیرہ سے لے کر مرتب کیے گئے ہیں۔

سوال نمبر 897: بائیبل میں ایلیا سے مراد کون ہے؟ 

جواب: اللہ کی ذات مراد ہے۔

سوال نمبر 898: اے نوٹ بک آف اولڈ آف بائیبل جلد 1 میں لکھا ہے کہ لفظ ایلیا یا ایلی اللہ کے معنیٰ میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ مستقبل کی یا آخری وقت کی کوئی ایلیاء ایلی نامی ہستی مراد ہے؟ 

جواب: جب بائیبل خود محرف ہے تو اس پر کسی کے نوٹ بک کیا حجت ہو سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں عبرانی لفظ اسرائیل بارہا استعمال ہوا ہے تمام مفسرینِ اسلام اسے حضرت یعقوب علیہ اسلام کا لقب قرار دے کر اسر بمعنیٰ بندہ اور ایل بمعنیٰ اللہ یعنی اللہ کا بندہ ترجمہ کرتے ہیں ایلیاء اور ایلی اس کے بدلی ہوئی شکل ہے حضرت علیؓ مراد نہیں ہیں۔ 

حضرات خلفاء ثلاثہؓ کے خلفاء نبی آخر الزماںﷺ ہونے پر خود قرآن شاہد ہے۔ 

محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں آپﷺ‏ کے ساتھی کافروں پر سخت آپس میں مہربان ہیں ان کی یہ صفت تورات میں اور انجیل میں ہے۔ جیسے کھیتی اپنا پودا نکالے اور پھر اسے مضبوط کریں۔ پھر وہ موٹا ہو جائے اور ٹہنی پر کھڑا ہو جائے۔ کسانوں کو اچھا لگتا ہے تاکہ خدا کافروں کو ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے ذریعے جلائے۔ (پارہ 26 رکوع 12) یہ خلفاء ثلاثہؓ کی شوکت و قوت اور فتوحات کی ہی بحوالہ بائیبل ترجمانی ہے۔

سوال نمبر 899: کرشن مہاراج کی دعا سے استدلال (رسالہ کرشن بنتی) تجھے اس کا واسطہ جو اہلی ہے جو سنسار کے سب سے بڑے مندر میں کالے پتھر کے نزدیک اپنا چمکار دکھلائے گا تو میری بنتی سن۔ الخ؟ 

جواب: کرشن مہاراج تو کافر ہو کر خدا کو پکارے اور اس سے دعا مانگے مگر آج کا شیعہ علی، سب پکار و دعا حضرت علیؓ سے کرے یہ کرشن 5 ہزار برس پہلے ہو گزرا ہے اور سومنات کے بڑے مندر میں پوجے جانے والے اہلی بت کے واسطے سے دعا مانگتا ہے جب کہ بیت اللہ بھی آباد نہ ہوا تھا۔ کیونکہ اسے تو آج سے 3500 برس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے آباد کیا اور وہ مندر نہیں کہلاتا۔ کعبۃ اللہ اور بیت اللہ کہلاتا ہے۔ اسے بت خانہ تو حال کے بعض ہندی شاعروں نے اس لیے کہا عہدِ نبوت سے کچھ پہلے اس میں اپنے خیال میں نیک بزرگوں کی یادگاریں اور بت بنا کر رکھ دیے گئے تھے۔ آہلی بت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ بنا لینا اور اسے باعثِ تکوین ارض و سما قرار دینا۔ بلی کو خواب میں چھچھڑے نظر آنے والی بات ہے۔ ہندو پیشوا اپنے خیال کے کسی بزرگ کو باعثِ تکوین کائنات قرار دیتا اور دعا مانگتا ہے۔

سوال نمبر 900: پھر کرشن جی کس پیارے کے پیارے کے نام کی قسم پکار رہے ہیں آہلی یہ نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے یا خلفائے ثلاثہؓ میں کسی کا؟ 

جواب: یہ ہندوں کا پیشوا کیا نبی تھا کہ اسے بذریعہ وحی ہزاروں سال قبل حضرت محمد رسول اللہﷺ اور حضرت علیؓ کے خدا کے پیارے ہونے کی اطلاع دی گئی؟ 

اگر نبی نہیں تھا تو اسے اسلامی شخصیت کا علم کیسے ہوا؟ اور اس کی بات کتنی معتبر ہے جو بغیر کسی صراحت کے محض آخری لفظ ی دیکھ کر آھلی بت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بنا لیا اور اسے پیاروں کا پیارا کہہ کر اپنا مطلب نکال لیا۔ خوش فہمی یا بدیانتی کی انتہاء ہو گئی ہے۔

سوال نمبر 901: دنیا کے سب سے بڑے عبادت خانے میں کالے پتھر کے نزدیک کس کی پیدائش ہوئی؟

جواب: شیعہ مشہور کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی ہوئی۔ مگر تاہنوز 1984ء ہم نے کسی معتبر تاریخ میں یہ نہیں پڑھا دیکھا پھر یہ اشکال سے خالی نہیں ہے۔ شیعہ کعبہ کو بت خانہ اور مندر کہہ رہے ہیں۔ کیا آپؓ کی والدہ کسی بت کی نذر و منت میں بچہ جنم دینے وہاں چلی گئیں؟

صفحہ 4 از 20