فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 20

جواب: ان الفاظ کی بھی سنداً وہی حیثیت ہے جو پہلے جملے کی ہے مگر شہر کی چھت ہوتی ہے سورۃ حج میں ہے: کتنے شہروں کو ہم نے تباہ کیا جو ظالم تھے وہ اپنے چھتوں پر گر پڑے ہیں۔ مکہ اور مدینہ بھی چھتے ہوئے شہر تھے چھت سے مکان کی حفاظت ہوتی ہے جب حضرت عثمانؓ کو شہید کر کے چھت گرا دی گئی تو پھر تھوڑے ہی عرصہ میں شہر مدینہ مرکزِ خلافت سے محروم اور ویران ہو گیا بلکہ لاکھ بھر مسلمان کٹ گئے۔ اور حضرت علیؓ بھی چھت گرنے سے محفوظ نہ رہے۔

سوال نمبر 888: تاریخ تذکرۃ الکرام صفحہ 239 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ میں قوت فصیح فیصلہ تو مطلق تھی ہی نہیں۔ یہ خاصیت حاکم کی خوبی ہے یا نہیں؟ 

جواب: یہ کتاب ہم نے نہیں دیکھی۔ سیاق و سباق سے کٹے ہوئے یہ الفاظ معتبر نہیں قوتِ فیصلہ یقیناً تھی تبھی تو سب خلفاء راشدینؓ سے زائد 12 سال تک خلافت کی۔ نہ کسی مسلمان کا خون بہا نہ فتوحات میں کمی آئی اور نہ کوئی باغی تا شہادت کسی شہر پر قابض ہو سکا بعد کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔

سوال نمبر 889: تاریخِ خلفاء کرام صفحہ 268 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ نے بیت المال کی دولت اپنے اقرباء میں تقسیم کی۔ شریعت کے مطابق ہونے کی معقول وجہ بتائیں؟ 

جواب: آپ نے مخالفوں کا سوال لے کر طعن بنا ڈالا جواب نہیں دیکھا ورنہ ہر تاریخ میں لکھا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دولت اپنی ذاتی کمائی سے دی تھی بیت المال سے تو خود بھی بحیثیتِ خلیفہ ایک درہم نہ لیا رشتہ داروں سے مروت و سلوک سنتِ نبویﷺ ہے یہی معقول وجہ خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتائی ہے۔ (تاریخِ اسلام ندوی و نجیب آبادی، طبری وغیرہ)

سوال نمبر 890: دخائر العقبیٰ میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو دھمکی دے کر اقرارِ جرم کرایا اور قصاص جاری کیا۔ حدیثِ رسولﷺ‏ سے ثابت کریں کہ دھمکا کر اقرارِ جرم کرانا جائز ہے؟ 

جواب: قصاص حق العباد میں سے ہے۔ جب کامل گواہ نہ ملیں قرائن سے جرم ثابت ہو رہا ہو مجرم ڈھیٹ بن کر اقرار نہ کرے تو کیا اسے چھوڑ دیا جائے گا؟ اور عہدِ نبوت و حدیثِ نبویﷺ‏ سے بھی اس کی مثال ثابت ہے۔ جب حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ کو حضور اکرمﷺ‏ نے اس عورت کے تعاقب میں بھیجا تھا جو حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا خط (فتح مکہ کی اطلاع) لے کر مینڈھیوں میں گوندھ کر قریش کے پاس لے جا رہی تھی اور تلاشی کے باوجود اقرار نہ کرتی تھی تو سیدنا علیؓ نے دھمکی دی تھی خط نکالو ورنہ کپڑے اتار دیں گے۔ تب اس نے ڈر کر مینڈھیوں سے خط نکالا۔ یہ واقعہ تمام کتبِ تاریخ و سیر میں موجود ہے اور حضورﷺ‏ نے اسے پسند فرمایا۔ حدیث تقریری ہوئی۔

سوال نمبر 891: سیرتِ فاروقؓ صفحہ 73 پر حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ کل جو میں نے بولا تھا وہ صحیح نہ تھا۔ الخ۔ کیا سیدنا عمرؓ نے عمداً جھوٹ بولا یا تقیہ کیا تھا؟ 

جواب: دونوں باتیں شیعوں کو مبارک ہوں جو ان کا فرضِ منصبی ہیں اب خود ان کی تحریر سے پتہ چلا کہ جھوٹ اور تقیہ ایک جیسے ہیں اور کسی شخص کو الزام کسی ایک سے بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ قول اپنی ایک رائے اور سوچ کا پہلی رائے کے خلاف بتانا ہے کے خلاف بتانا ہے اور مدبر و دانش ور لوگ صواب سے صواب ترین کی تلاش میں عمدہ رائے پا کر پہلی رائے یہی کہہ کر ختم کرتے ہیں۔ سنتِ نبویﷺ‏ تک میں اس کی مثال موجود ہے جب مسلمان حدیبیہ کے موقع پر عمرہ سے روک دیئے گئے اور قربانی کے جانور ذبح کر کے احرام کھولنا شاق گزرتا تھا۔ تب حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا: 

ولو استقبلت ما استدبرت ما سقت الهدى (صحیحین)

ترجمہ: جو رائے بعد میں ہوئی اگر پہلے یہی آ جاتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ 

اور قرآن شریف میں ہے: تم کہو اگر میں آئندہ (غیب) کی بات جان لیتا تو یقیناً بہت سی بھلائی جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ چھوتی۔ (سورۃ الاعراف: رکوع 23)

سوال نمبر 892: عدالتِ سیدنا عمرؓ کے تحت شبلی نے ابو شحمہ کا واقعہ کیوں ذکر نہ کیا؟ 

جواب: کچھ مؤرخین اسے درست نہیں جانتے چنانچہ ابن الجوزی نے سیرت العمرین میں اسے غیر صحیح کہا ہے۔ کچھ زیبِ داستان بناتے ہیں جیسے ابن ابی الحدید شیعی معتزلی نے نہج البلاغہ کی شرح میں حضرت عمرؓ کے حالات میں لکھا ہے۔ 

تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 170 پر ہے: اپنے بیٹے ابو شحمہ کو شراب پینے کے جرم میں اسی (80) کوڑے مارے۔ اس کے چند دنوں کے بعد وہ قضا کر گئے۔ (کتاب الخراج: صفحہ 66) حد میں مضروب مر بھی جائے تو ضارب پر تاوان نہیں۔ (مشکوٰۃ)

سوال نمبر 893: اسلامی شریعت میں شراب کب حرام کی گئی؟ 

جواب: 4 ہجری میں۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ 40)

سوال نمبر 894: حضرت عمرؓ نے اپنے فرزند کو کس جرم میں ہلاک کیا؟ 

جواب: بعض مؤرخین کے نزدیک شراب نوشی کی شرعی حد 80 درّے لگائی تو اسی سے وہ بیمار ہو کر چند دن بعد انتقال کر گئے۔ عمداً ہلاکت کا ارادہ نہ تھا۔ بحکم قرآنی، اقرب ترین پر بھی حد جاری کر کے عدل و انصاف کا ریکارڈ قائم کیا۔ اولاد کا گناہ باپ کی شان نہیں گھٹاتا جب کہ محدود پاک ہو جاتا ہے۔

سوال نمبر 895: حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے ازالۃ الخفاء میں سیدنا عمرؓ کی طرف ان گنت غلطیاں منسوب کی ہیں۔ کیا قلتِ علم کی وجہ سے ہوئیں یا کسی اور وجہ سے؟ 

جواب: بات کا بتنگڑ ہے۔ حوالہ مجہول ہے۔ ہم نے ازالۃ الخلفاء عربی و فارسی کا حضرت عمرؓ کے متعلق سارا طویل باب پڑھا۔ قضاء یا حدود، وراثت، قصاص، علم تصوف، فقہ و قانون میں لا تعداد مسائل اور جزئیات جمع کی گئی ہیں کسی کو بھی غلط نہیں کہا۔ اسی مطالعہ کے دوران یہ دلچپ کرامت ملی کہ ایک دفعہ حضرت علی المرتضیٰؓ کو خواب میں حضور اکرمﷺ‏ نے یکے بعد دیگرے تین کھجوریں دیں جو بڑی لذیذ تھیں۔ صبح کو حضرت عمرؓ کے پیچھے آ کر نماز پڑھی۔ اس سے پہلے کہ حضرت علیؓ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب سناتے۔ ایک خاتون کھجوروں کا تھال لائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نمازیوں کو تقسیم کیں اور اور تین حضرت علیؓ کو دیں بڑی لذیذ تھیں۔ سیدنا علیؓ نے زیادہ خواہش کی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا اگر ﷺ‏ خدا تم کو آج رات زیادہ دیتے تو میں بھی دیتا۔ (ازالۃ الخلفاء: مقصد دوم)

صفحہ 3 از 20