فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 20 از 20

2: حضرت عمر فاروقؓ نے انصار رضی اللہ عنہم کے افسروں پر خدا کو بنا کر کہا: میں نے ان کو اس لیے مقرر کیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں اور ان کو اپنی نبی کریمﷺ‏ کی سنت کھول کر بیان کریں جن باتوں کو وہ نہ جانتے ہوں تو میری طرف لکھیں۔ اس سے مقولہ سیدنا علیؓ سلونی کا جواب بھی ہو گیا کہ سیدنا عمرؓ بھی لوگوں کو اپنے سے پوچھنے کا حکم دیتے تھے۔ (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 15)

سوال نمبر 1000: مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 337 پر ہے: 

عن ابن عباس قال تمتع النبی صلى الله عليه وسلم فقال عروة ابنِ زبير نهى ابوبكر و عمر عن المتعة 

سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا رسول اللہﷺ نے تمتع (حج) کیا تھا۔ حضرت عروہ بن زبیرؓ نے کہا حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے تو (عارضی طور پر) منع کیا تھا۔ 

اگر آپ متعہ کو زنا کہتے ہیں توحضور اکرمﷺ‏ کی سیرتِ طیبہ پر ایسا الزام لگا کر توہینِ خلقِ عظیم کے مرتکب ہوئے یا نہیں؟ 

جواب: اس کی سند یوں ہے حدثنا عبدالله حدثنا ابى حدثنا حجاج حدثنا شريك عن الاعمش عن الفضل عن عمر وقال اراه عن سعيد بن جبير عن ابنِ عباس قال تمتع النبیﷺ‏ الخ 

اس کے دو راوی کمزور ہیں۔ 1: حجاج۔ یا تو حجاج بن ارطاۃ ہیں۔ ان کو ابنِ حجرؒ نے صدوق کثیر الخطاء و التدلیس لکھا ہے۔ یا حجاج بن محمد مصیفی ہیں جو اگرچہ ثقہ و ثبت تھے لیکن آخر عمر میں بغداد آنے کے بعد حافظہ بگڑ گیا تھا۔ (تقریب: صفحہ، 64، 65) 

2: شریک: یہ ابنِ عبد اللہ نخعی کوفی ہیں جو صدوق کثیر الخطاء تھے کوفہ کے قاضی بنے تو حافظہ خراب ہو گیا تھا۔ یا شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر ہیں جو صدوق اور غلطیاں کرنے والا تھا۔ پانچویں طبقہ میں 140ھ میں فوت ہوا۔ (تقریب: صفحہ، 145) 

اس حدیث میں حج کا تمتع (ایک سفر میں حج و عمرہ دونوں عبادتیں بجا لانا) مراد ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت ہے مگر آپ کی حبّ متعہ و زنا نے اسے بھی متعہ زنا بنا ڈالا اور عفیف ترین پیغمبر پاکﷺ‏ پر بھی گندگی پھینک دی۔ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) ہر جھوٹا اور خائن آخر میں تو سچ کہہ ہی دیتا ہے مگر آپ جھوٹے مذہب شیعہ کے ایسے مبلغ ہیں کہ دس نمبری اور چار سو بیس نمبری دھوکہ بازی سے بڑھ کر ہزارویں نمبر پر بھی تقیہ اور فراڈ اور جھوٹ و خیانت اپنا کر رسولﷺ‏ خدا کی عزت کو بھی مجروح کر دیا۔ 

متعہ حج مراد ہونے پر دلائل ملاحظہ فرمائیں: 

1: حضرت ابنِ عباسؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

هذه عمرة استمتعنا بها (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 407)

اس عمرہ سے ہم نے فائدہ اٹھایا 

2: حج و عمرہ کرنے والے شخص سے سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا اللہ اکبر، اللہ اکبر! 

هذه سنة ابى القاسم صلى اللہ علیہ وسلم (مسلم: جلد، 1 صفحہ، 407 ومثلہ فی البخاری: جلد، 1 صفحہ، 213)

یہ حج تمتع ابو القاسمﷺ‏ کی سنت ہے۔ 

3: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے متعہ حج کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا مہاجرینؓ، انصارؓ اور ازواجِؓ النبیﷺ‏ نے حجتہ الوداع کا احرام باندھا اور ہم نے بھی باندھا۔ جب مکہ آئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اپنے حج والے احرام کو عمرہ سے بدل دو۔ ہاں جو قربانی ساتھ لائے ہیں وہ نہ بدلیں۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 213)

4: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اور پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانِ غنیؓ نے حج ولا تمتع کیا۔ امام ترمذیؒ کہتے ہیں۔ سیدنا ابنِ عباسؓ کی حدیث حسن ہے۔ صحابہؓ رسولﷺ‏ کی اہلِ علم جماعت نے متعہ عمرہ کو پسند کیا ہے۔ (ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 132) 

5: حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو۔ یہ گناہوں اور افلاس کو دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی گندگی دور کر دیتی ہے۔ (نسائی: جلد، 2 صفحہ، 3)

مسند احمد میں متعتہ النساء کا تو لفظ نہیں صرف تمتع رسول اللہﷺ کا لفظ ہے۔ اس کی مراد و وضاحت ہم نے سیدنا ابنِ عباسؓ کی روایت سے ہی صحاحِ ستہ سے کر دی۔ 

باقی راوی بھی متعہ حج ہی مراد لیتے ہیں۔ دنیا کی کسی روایت میں حضور اکرمﷺ‏ کا متعہ با زنان مذکور نہیں ہے۔ 

سیدنا عکرمہؓ کا بیان ہے میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کو یہ فرماتے سنا کہ مجھ سے حضرت عمرؓ بن خطاب نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا: ایک آنے والا (حضرت جبریل علیہ السلام) میرے رب کی طرف سے میرے پاس وادی عقیق میں آیا اور کہا اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، نیز کہا عمرة فی حجة (ابو داؤد: جلد، 1 صفحہ، 250 ابنِ ماجہ: صفحہ، 219) کہ عمرہ حج کے ساتھ ادا ہو گا۔ 

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حجتہ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور قربانی کا جانور بھی ساتھ لیا۔ (ابو داؤد: جلد، 1 صفحہ، 251) 

رہی یہ بات کہ جب حج و عمرہ کو ملا کر تمتع کرنا سنتِ نبویﷺ‏ ہے تو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ نے منع کیوں کیا تو جواب یہ ہے کہ اولاً وہ روایت کثیر الخطایا راویوں سے مروی ہونے کی وجہ سے قابلِ اعتبار نہیں ثانیاً قابلِ تاویل ہے کہ ان کی ممانعت کسی خاص گروہ کو خاص موقعہ و حالت پر ہو گی۔ جیسے مسافروں کے قافلہ میں چند روزہ داروں پر پابندی لگائی جائے تاکہ کھانا وغیرہ کی تیاری میں باقی قافلے پر بار نہ ہوں۔ ورنہ متعہ حج کے یہ تمام اکابر قائل تھے۔ ترمذی کی روایت میں حضرت خلفاء ثلاثہؓ کے تمتع حج کرنے کی صراحت ہے اور ابو داؤد و ابنِ ماجہ کی بروایتِ سیدنا عمر مرفوع حدیث اسی بات پر دال ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ان ہزار سوالات کا جواب 28 رمضان 1404 ہجری بروز جمعرات بحالتِ اعتکاف 28 جون 1984 ء کو الحمدللہ ورطہ تحریر میں قلم بند اور اختام پذیر ہوا۔ 

خادم اہلِ سنّت مہر محمد عفى عنہ القادر المنتصر 

فقطع دابر القوم الذين ظلموا والحمد لله رب العلمين۔ والصلوٰة والسلام على حبيبه محمد نبی المسلمين وعلى اله واصحابه وخلفاءه الراشدين و ازواجه و اتباعه و جميع امته الصّٰلحين اجمعين۔


صفحہ 20 از 20