فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 20

جواب: ایسی ہستی کو خدا کا شریک فی الصفات بنانا، قرآن کا سارق بتانا اور اس کے تمام ظاہری اعمال و عقائد میں مخالفت کرنا جو شیعہ، سبائیہ، غالیہ، اثناء عشریہ کا اصل مذہب ہے یقیناً جہنم میں پہنچنا ہے۔ شیعوں کے سوا سیدنا علیؓ کا دشمن کوئی نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 878، 879: یقین اور شک میں سے کون سی چیز بہتر ہے اگر شک بہتر ہے تو قرآن و حدیث سے ثابت کریں؟ 

جواب: یقین بہتر ہے تبھی تو مسلمانوں کا کلمہ شہادتین جو قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے یقیناً ثابت ہے پڑھنا ہی یقیناً مسلمانی ہے اور شیعہ کا گھڑنتو کلمہ ولایت مشکوک ہے جسے پڑھنے ماننے سے یقینی محمدی اسلام حاصل نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 880: اگر یقین بہتر ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت یقیناً مشترک و مسلّم ہے غیروں کو یہ شرف حاصل نہیں؟ 

جواب: اہلِ سنتِ نبی و اہلِ جماعتِ نبی مسلمانوں میں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت مسلم ہے مگر شیعہ کے ہاں ہرگز مسلم نہیں۔ ورنہ وہ آپ کی تمام زندگی والا مذہب اپناتے اور خارجیوں کے ہاں بھی نہیں۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دین قرآن سے اور سنتِ نبیﷺ سے اور مجموعہ جماعتِ نبی سے حاصل کیا جائے جن پر سب کو یقین ہے اور کوئی سب کا منکر نہیں اور خلفائے راشدینؓ پر حضرت علیؓ سمیت سب کو اعتماد تھا۔

سوال نمبر 881: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ذکرِ علی عبادت ہے کیا حضراتِ ثلاثہؓ کے ذکر کو رسول اللہﷺ نے عبادت قرار دیا ہے؟ 

جواب: پتہ چلا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عقیدت مند تھیں۔ آپ سے بغض رکھنے والے کا منہ کالا ہو۔ عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اور بار بار نام لینا اور ورد و کثرت کرنا بھی اللہ کا حق ہے سینکڑوں مرتبہ قرآن میں آیا اے ایمان والو اللہ کا بہت ذکر کیا کرو صبح بھی شام بھی اور اس کی پاکی بیان کرو۔ اول حدیث تو بے سند اور غیر ثابت ہے۔ بفرضِ تسلیم قابلِ تاویل ہے کہ ذکر سے مراد تذکرہ ہے اور عبادت سے مراد کارِ ثواب ہے یعنی حضرت علیؓ کا حال بیان کرنا کارِ ثواب ہے۔ تو اب یہ سیدنا علیؓ کی خصوصیت اور حصر والی بات نہ رہی۔ کہ بھنگی، چرسی، ملنگ، کلمہ نماز تک نہ جاننے والے علی علی کے ورد کرتے پھریں۔ کیونکہ خدا نے خلفاء ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کا بشمول سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن میں عموماً ذکر فرمایا حضور اکرمﷺ‏ نے مناقب میں ان کا بار بار ذکر فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارہا ان کا تذکرہ خیر فرمایا اور سب کے تذکرے کارِ خیر ہیں۔

سوال نمبر 882: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور کرم اللہ وجہہ آپ حضرات بھی جنابِ امیر کے ساتھ تحریر کرتے ہیں حضراتِ ثلاثہؓ کے نام کے ساتھ یہ کیوں نہیں لکھا جاتا؟

جواب: پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام سنی مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند ہیں۔ خدا ان کے دشمنوں کو رسوا کرے عبادت کا مفہوم گزشتہ روایت میں بیان ہو چکا۔ کرم اللہ وجہہ کی شہرت اہلِ سنت نے یوں کی کہ بگڑے ہوئے شیعہ (خارجیوں) نے جب آپ کو سود اللہ وجہہ اللہ سیدنا علیؓ کا چہرہ سیاہ کرے (معاذ اللہ) کہنا شروع کیا تو سنی مسلمانوں نے کرم اللہ وجہہ اللہ حضرت علیؓ کے چہرے کو معزز بنائے۔ کہنا اپنا لیا اور اب تک کہتے ہیں۔ حضراتِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے نہ کسی مسلمان نے دشمنی کی نہ ایسا بد دعائیہ کلمہ کہا تو ایسا جوابی لفظ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہاں خدا کا دیا ہوا تمغہ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی اب بھی ہم فخریہ استعمال کرتے ہیں۔ 

یہ حدیث النظر الى وجه على عبادة۔ بے اعتبار ہے کیونکہ اس میں حسن بن علی عدوی ہے جو کذاب اور دجال ہے۔ (تذکرہ الموضوعات للحافظ طاہر بن علی المقدسی المتوفی 507 ھ)

تنزیہ الشریعہ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ صفحہ 383 پر ہے: کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دو سندوں کے ساتھ مروی ہے ایک میں قاضی محمد جعفی اور اس کا شیخ محمد بن احمد بن مخزم ہے۔ ایک ان میں سے آفت (چھوٹی بلا) ہے اور دوسری سند میں ابو سعید عدوی (کذاب) ہے۔ حدیثِ حضرت عثمانؓ میں راوی مجہول ہے۔ حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما میں حمانی کی سند میں یزید بن ابی زیاد متروک ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو ابو سعید علوی سے مروی ہے چھ کتب میں تخریج ہے اور ہر سند ضعیف ہے۔

سوال نمبر 883: آپ حضرات کا اتنا عقیدہ ضرور ظاہر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔ جب عالم الغیب ذاتِ خدا ہے کچھ لوگوں کی عداوت حضرتِ امیرؓ سے مشہور ہے تو پھر ظاہر چھوڑ کر محض قیاس سے دشمنانِ سیدنا علیؓ کی محبت کا اظہار کیوں کرتے اور اجتہاد کے تنکے کے کا سہارا دیتے ہو؟ 

جواب: شکر ہے ہمارا محبتِ حضرت علیؓ کرنا بھی مان لیا۔ ہمارے ہاں عداوت میں مشہور شیعانِ علی اور خارجی ہیں۔ ہم ان سے نہ محبت کرتے ہیں نہ اجتہادی تنکا سہارا بناتے ہیں۔

سوال نمبر 884: انا مدينة العلم و على بابها۔ مسلکِ اہلِ حدیث کے چند ناصبی ذہنوں میں موضوع ہے تو پھر شیخینؓ کو علم کی دیواریں کیوں کہا جاتا ہے؟ 

جواب: تذکرہ الموضوعات مع موضوعاتِ کبیر صفحہ 40 پر ہے اسے ترمذی نے جامع میں روایت کیا ہے اور خود منکر کہا ہے اور سخاوی نے بھی ایسا کہا ہے کہ اس کی وجہ صحت کوئی نہیں ابنِ معین اسے جھوٹ اور بے اصل کہتے ہیں۔ اسی طرح ابو حاتم اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ ابنِ جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ ابن دقیق العید نے کہا۔ اسے محدثین نے ثابت نہیں کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ باطل ہے۔ اور دار قطنی کہتے ہیں ثابت نہیں۔ حافظ عسقلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا صحیح نہیں ہے جیسے حاکم نے کہا حسن ہے موضوع نہیں ہے۔ جیسے ابنِ جوزی نے کہا ہے۔

سوال نمبر 885، 886، 887: کیا شہر کی چھت ہوتی ہے عہدِ نبویﷺ‏ میں ایسے شہر کا نام بتائیں۔ پھر سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ کے شہر کی چھت ہیں۔ کا کیا مطلب ہے؟ 

صفحہ 2 از 20