فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 14 از 20

جواب: خدا نے پیغمبرﷺ پر کتاب اتاری تو معلم بھی اسے بنایا۔ وہ يُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ کے تحت کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے۔ پھر ہزاروں اپنے جانشین استاد بنا کر چھوڑ گئے۔ جنہوں نے سب دنیا کو کتاب و سنت کی تعلیم دی اور تاقیامت وہ رہے گی۔ مگر صد افسوس ایک شیعہ فرقہ ایسا بھی دنیا میں پیدا ہوا جس نے معلم کی تعلیمِ سنت کا انکار کر دیا واجب الاتباع ثقلین سے خارج کر دیا۔ تمام تربیت یافتہ تلامذہ نبوت کو گمراہ و مرتد مان لیا۔ صرف عرب علاقہ کے لیے ڈھائی صدیوں تک 12 استاد مانے جنہوں نے صاحبِ کتاب پیغمبرﷺ‏ سے تعلیم پائی ہی نہیں نہ وہ محتاج تعلیم تھے کہ عالم لدنی تھے۔ پھر وہ بھی تقیہ میں روپوش ہو گئے آخری استاد (مہدی) غار میں چھپ گئے۔ آج کوئی شیعہ ان بارہ خیالی استادوں کے تین تین ثقہ حلقہ تعلیم و تدریس والے شاگرد بھی ہرگز نہیں بتا سکتا۔

سوال نمبر 958: اس صحابیؓ کا نام بتائیں جس نے حضورﷺ کے ساتھ سب سے پہلے نماز ادا کی؟

جواب: ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 238 میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ (اور سب سے پہلے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی) حضرت علیؓ اسلام لائے تو آٹھ سال کے تھے۔ عورتوں میں سے سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ مسلمان ہوئیں دوسری روایت میں حضرت زید بن ارقمؓ کی روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اوّل اسلام لانے کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم نخعیؒ کو یہ روایت بتائی گئی تو انہوں نے اسے انوکھا جانا اور کہا سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ مسلمان ہوئے تھے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

بعض تاریخی کتابوں میں ہے کہ سیدنا علیؓ نے بھی پڑھی مگر اس وقت آپؓ آٹھ یا دس سال کے بچے تھے۔ بالغ کی نماز اور عمل و نصرت زیادہ وزنی ہے۔

سوال نمبر 959: یہ شرف کس صحابی کو حاصل ہے کہ جنگوں میں محافظِ عَلَمِ رسولﷺ ہو اور روزِ اُحد اپنے مقام پر ڈٹا رہا؟

جواب: متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علَم بردار ہوتے تھے۔ سیدنا مصعب بن عمیرؓ جو اُحد میں علَم بردار تھے۔ (تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 142)

سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ، سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ، سیدنا جعفر طیار، سیدنا خالد بن ولید غیرہم رضی اللہ عنہم روزِ اُحد حضرت علیؓ بھی درجن بھر خواص اور بیسیوں عوام کے ساتھ ثابت قدم رہے، بھاگے نہیں۔

سوال نمبر 960: کس بزرگ صحابیؓ نے حضورﷺ کو غسل دے کر قبر میں اتارا؟

جواب: تاریخوں میں ہے۔ غسل وغیرہ کی سعادت اعزّہ خاص حضرت علیؓ، حضرت فضل بن عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے حصے میں آئی اور حضرت ابو طلحہؓ نے قبر کھودی اور باری باری سے مسلمانوں نے بلا امام نمازِ جنازہ پڑھی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 97)

سوال نمبر 961: روزِ قیامت لواء الحمد کس بزرگ کے ہاتھ میں ہو گی؟

جواب: خود حضور خاتم النبیینﷺ کے ہاتھ میں۔

 بروایت حضرت ابو سعید خدریؓ حضورﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم علیہ السلام کا سردار ہوں گا فخر نہیں کرتا۔ حضرت آدم علیہ السلام سمیت تمام انبیاء علیہم السلام میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ سب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا فخر نہیں کرتا۔ (ترمذی، دارمی، مشکوٰۃ: صفحہ، 513، 514)

مشکوٰۃ میں ایسی تین روایتیں اور بھی ہیں۔

سوال نمبر 962: امیر المومنین حضرت علیؓ بن ابی طالب نے شہادت کے بعد کیا ترکہ چھوڑا؟

جواب: بہت کچھ چھوڑا۔ عہدِ نبوت میں گو آپ کی مالی حالت کمزور تھی۔ مگر عہدِ خلفاءؓ میں وظائف پانے اور کاروبار کرنے سے کافی طاقت ور ہو گئی اور اپنے عہدِ خلافت میں تو اچھے بھلے صاحبِ جائیداد تھے۔

سوال نمبر 963: کیا اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنا باعثِ نجات نہیں؟

جواب: دعویٰ محبت کافی نہیں۔ سچی عقیدت اور اتباع یقیناً معین نجات ہے۔ جب تمام اہلِ بیتؓ بشمول ازواجِ مطہراتؓ (ازواج کے اہلِ بیتِؓ نبی ہونے پر منجملہ ایک یہ حدیث بھی ہے کہ حضورﷺ‏ نے ارشاد فرمایا جب اللہ کسی قوم سے بھلائی کرنا چاہتا ہے تو انہیں ہدیہ بھیجتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا ہدیہ کیا ہے۔ فرمایا مہمان ہے جو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور اہلِ بیتؓ کے گناہ لے جاتا ہے۔ (جامع الاخبار للشیخ الصدوق: صفحہ، 120) اگر کھانا پکا کر کھلانے والی بیوی، گھر والی (اہلِ بیتؓ) کے گناہ زائل نہ ہوں تو حدیث کا معنیٰ ہی کچھ نہیں۔) بناتِ پاکؓ اور آپ کے خسروںؓ، دامادوںؓ، مومن چچوںؓ سے بھی ہو۔ کہ یہ تمام شرعاً و عرفاً اہلِ بیتِؓ نبوتﷺ اور خاندانِ رسالتﷺ ہیں۔ باقی سب سے دشمنی رکھ کر صرف چار افراد سے شیعوں کی محبت نجات میں اسی طرح ناکافی ہے جیسے خارجی حضرت نبیﷺ حضرت فاطمہؓ و حضرت حسنینؓ سے محبت کرتا ہے۔ مگر حضرت علیؓ کو داماد غیر خونی رشتہ سمجھ کر محبوب نہیں رکھتا تو ناجی نہیں۔

سوال نمبر 964: وہ کون سا رائج مذہب ہے جسے مذہب آلِ محمدﷺ کہا جاتا ہے؟

جواب: مذہبِ اہلِ سنّت ہے جو آلِ محمدﷺ کا حُب دار ہی نہیں پیروکار بھی ہے۔

حضورﷺ کا ارشاد ہے: 

من مَاتَ عَلىٰ حُبِّ اٰلِ محمّدﷺ مَاتَ عَلىٰ السُّنَّةِ وَالجماعةِ (جامع الاخبار للشيخ صدوق: صفحہ، 144)

ترجمہ: جو آلِ محمدﷺ سے محبت پر فوت ہو گا وہ سنت و جماعت والے مذہب پر فوت ہو گا۔

جب سنت و جماعت اور محبت اہلِ بیتؓ رسولﷺ لازم و ملزوم ہیں۔ تو اہلِ سنت ہی مذہب آلِ محمدﷺ کے پیرو ہوئے شیعوں کو تو آلِ محمدﷺ کی پیروی کی ہوا بھی نہیں لگی۔

سوال نمبر 965: حکمِ قرآن یہ ہے کہ ان لوگوں سے محبت نہ رکھو جن پر خدا کا غضب ہوا ہے۔ (ممتحنہ) کیا آپ اس حکم کو مانتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! یہ مہاجروں کی دشمنوں کے حق میں ہے۔ تبھی تو ہم شیعوں سے محبت نہیں رکھتے کہ وہ دشمن ہیں مہاجرین کے۔ اسی کتاب کے سوالات 707 تا 711 دشمنی پر دلیل کافی ہیں۔

سوال نمبر 966: سورۃ الاعراف پارہ 9 میں ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ان پر اللہ کا غضب ہے۔ رسول کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو حضرت ہارون علیہ السلام کا مثیل قرار دیا۔ کیا ان کی نافرمانی غضبِ خدا کا سبب ہو گا یا نہیں؟

صفحہ 14 از 20