فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 10

جواب: بالا کثیر الراویہ حضرات سے اجتہاد کی نفی اضافی ہے یعنی ایسے بڑے مجتہد نہیں جیسے سیدنا ابنِ مسعودؓ، حضرت معاذؓ بن جبل جیسے قلیل الراویہ اور کثیر الاستنباط والاجتہاد بزرگ تھے اور حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کی دینی بصیرت اپنے سے کم تر لوگوں کی بہ نسبت ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو حضور اکرمﷺ‏ نے ہادی اور واھد بہٖ فرما کر اجتہاد کا منصب بخشا۔ (ترمذی) پھر آپؓ کے مجتہد ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے۔

سوال نمبر 791: امام اعظم کے ہاں نیک و بد کا ایمان برابر ہے کیا یہ صحیح ہے؟ 

جواب: ایمان کے دو مفہوم ہیں۔ 1: ان سب عقائد اور ایمانیات کی مقدار اور گنتی جن پر ایمان لانا قرآن و حدیث کے تحت ضروری ہے یعنی بد کو بھی اتنی چیزیں ماننا ضروری ہیں جتنی نیک کو۔ اس لحاظ کو کمیّت کہتے ہیں۔ یعنی نیک و بد ایمانیات کی مقدار میں اور قابلِ ایمان امور میں برابر ہیں۔ یہی مطلب امام صاحب کے قول کا ہے اور اس کو کچھ شرپسندوں نے ابلیس کے برابر لکھا ہے وہ بھی خدا کو اپنا رب مانتا تھا اور صالحین و مسلمان بھی مانتے ہیں۔

دوسرا مفہوم: کیفیت، قوت و ضعف اور حسن وغیرہ کا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان کم و بیش ہوتا ہے اور نیک و بد میں ہرگز مساوات نہیں اس چیز کا محدثین وغیرہ ایمان میں کمی بیشی کہتے ہیں۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں تعارض نہیں ہے کہ شیعہ اعتراض کریں۔

سوال نمبر 792: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک مدینہ مانند مکہ کے حرم نہیں۔ (ترجمہ مشکوٰۃ شیخ عبد الحق دہلوی) پھر آپ مدینہ و مکہ کو حرمین شریفین کیوں کہتے ہیں؟

جواب: عزت حرمت اور تعظیم کے لحاظ سے دونوں حرم شریف ہیں اسی طرح الحاد پھیلانا، فساد کرنا، کوئی گناہ کرنا جیسے یزیدی فوج نے حرہ میں یا حضرت موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ کے پوتوں محمد بن حسین اور علی بن جعفر بن موسیٰ کاظمؒ نے 271ھ میں مدینہ کے کثیر باشندوں کو قتل کر ڈالا اور حضرت زین العابدینؒ کے پوتوں علی و محمد بن حسین الافطس احد المفسدین نے مکہ میں قتلِ عام کیا اور اب خمینی کے ایجنٹ اس کی تصاویر لے کر حرمین میں نعرہ بازی کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں اور فرمانِ نبویﷺ ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ان کا فرض و نفل منظور نہیں۔ (بخاری و مسلم) رہا شکار کے لحاظ سے حکم تو مدینہ شریف کا مکہ سے حکم مختلف ہے گھاس کے لیے درخت کاٹا جا سکتا ہے۔ (مسلم) اور پرندوں کا شکار بھی اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کی نفی کا مطلب یہی ہے۔

سوال نمبر 793: امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک جھوٹی گواہی گذار کر بیگانی عورت سے صحبت کرنے پر گناہ نہیں۔ ہدایہ: جلد، 1 صفحہ، 313 وغیرہ 

جواب: ملعونانہ خیانت آپ پر ختم ہے، ہدایہ کی عبارت یہ ہے:

جس شخص پر عورت نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کا خاوند ہے اور گواہ بھی عورت نے پیش کر دئیے۔ قاضی نے فیصلہ میں عورت کو اس کی بیوی بنا دیا حالانکہ دراصل اس نے اس سے شادی نہ کی تھی اس عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے ساتھ بسے اور اسے جماع کرنے دے یہ امام ابو حنیفہؒ اور ابو یوسفؒ کا قول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ گواہ قاضی کے ہاں سچے ہیں اور نکاح پر یہی دلیل ہوتے ہیں کیونکہ صدق کی حقیقت پر اطلاع نا ممکن ہے۔ جب قاضی نے فیصلہ دلیل پر کیا تو باطناً نکاح بھی نافذ ہو جائے گا تاکہ جھگڑا ختم ہو جائے (کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ نیا نکاح باندھنے کی مانند ہے تو یہ اس کی حقیقتہً بیوی سمجھی جائے گی اور اب جماع درست ہو گا۔)

اب یہ مذہب سینہ زوری اور سینہ زنی نہیں دلیل پر مبنی ہے۔

سوال نمبر 794: طاقت حاصل کرنے کی نیت سے شراب پی جائے تو امام اعظمؒ کے ہاں درست ہے (ہدایہ) اور کوئی ٹانک نہ سوجھا؟

جواب: نقل مذہب میں خیانت کی ہے مشروبات کئی قسم کے ہیں: 

1: جو انگور کے شیرے سے بنایا جائے کئی دن پڑا رہے بدبو دار ہو کر جھاگ چھوڑے رنگ بدلے تو اسے عربی میں خمر کہتے ہیں۔ نصِ قطعی سے حرام ہے۔ کوئی مسلمان اختلاف کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ورنہ وہ کافر ہو جائے گا۔

2: شہد، انجیر، گندم، جو، جوار، کھجوریں وغیرہ پانی میں بھگو دیں۔ صبح رنگین پانی کو پکائے بغیر ہی استعمال کریں۔ یہ جائز ہے۔ اس نبیذ (شربت) کہتے ہیں۔ 

3: انگور کا نچوڑ جب پکایا جائے دو تہائی خشک ہو جائے صرف ایک تہائی باقی رہ جائے اگرچہ وہ گاڑا ہو، یہ اختلافی مسئلہ ہے امام ابو یوسفؒ، امام ابو حنیفہؒ کے ہاں حلال ہے جب نیت عبادت پر طاقت حاصل کرنا ہو۔ امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ بھی حرام ہے اور لذت و مزہ لینا ہو تو سب کے نزدیک حرام ہے۔ دلیل صاحبِ ہدایہ نے یہ دی ہے کہ فرمانِ نبویﷺ ہے: خمر کا شراب بعینہٖ حرام ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ باقی مشروبات سے نشہ آور مقدار حرام ہے۔ حضورﷺ‏ نے غیر خمر میں حرمت کو نشہ آوری کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ واؤ عطفہ جدا جدا حکم چاہتی ہے نیز عقل کو بگاڑنے والا نشہ آور مقدار میں پینا ہے اور وہ ہمارے ہاں بھی حرام ہے اور اصل شراب خمر کی قلیل مقدار بھی حرام ہے کیونکہ وہ اپنے پتلے پن اور لطافت میں زیادہ مقدار پینے پر ابھارتا ہے تو قلیل کو بھی کثیر کا حکم دیا گیا رہا ایک تہائی بچہ ہوا تو یہ گاڑھا شیرا ہے پیا نہیں جاتا کثیر پینے پر نہیں ابھارتا اور یہ فی نفسہٖ غذا ہے تو اپنی اباحت پر باقی رہے گا۔ (ہدایہ: جلد، 4 صفحہ، 498) 

ذرا اپنے گھر کی خبر لیجیے: من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 4 صفحہ، 41 پر ہے جس مکان میں شراب کسی برتن میں بند رکھا ہو تو نماز جائز نہیں اور اگر شراب کپڑے پر لگی ہو تو جائز ہے کیونکہ پینا خدا نے حرام قرار دیا ہے کپڑے پر لگا ہو تو نماز حرام نہیں کی۔ (حالانہ کہ خدا نے شراب کو رجس (گندگی) کہا ہے اور کپڑوں کو پاک کرنے کا حکم دیا ہے۔)

سوال نمبر 795: مذہب اہلِ سنت میں خلفاء راشدین کا قاتل بھی مسلمانی سے نہیں نکلتا۔ (شرح فقہ اکبر: صفحہ، 86) پھر شیعوں کی بدگمانی پر اعتراض کیوں؟

صفحہ 8 از 10