فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 10

1: امام ابو الحسن سے زن متعہ کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہ چار منکوحات میں سے ہے؟ فرمایا نہیں اور فرمایا ستروں میں سے بھی نہیں۔ (قرآن میں تو صرف منکوحہ بیوی اور باندی کو مستثنیٰ کیا ہے باقیوں سے تعلق حد شکنی یعنی زنا کہا ہے) (فروع کافی: جلد، 5 ابواب المتعہ) 

2: امام باقرؒ نے فرمایا: یہ چار میں سے نہیں ہے کیونکہ نہ طلاق پاتی ہے نہ وراثت پاتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ کرایہ دار (کنجری) ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 552)

3: امام صادقؒ سے زنِ متعہ کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ چار میں سے ہے؟ فرمایا تم ہزار سے معاملہ طے کر لو کیونکہ یہ کرایہ دار رنڈیاں ہیں۔

3۔ ایک روایت میں امام صادقؒ نے فرمایا ہے کہ جتنی عورتوں سے چاہو متعہ کر لو بغیر ولی اور گواہوں کے جب مقررہ ٹائم (گھنٹہ، دو گھنٹے یا ایک دن، ہفتہ) ختم ہو جائے تو بغیر طلاق کے جدا ہو جائے گی اسے معمولی خرچی دے دے، (فروغ کافی: جلد، 5 صفحہ، 451)

سوال نمبر 772: اگر حق نہیں اعتقاد کریں گے تو ایسا مذہب کیوں اختیار کیا؟

جواب: ہم اسی لیے زانی پیشہ رنڈی نواز مذہب جعفری کے قریب نہ گئے اور عصمت کے ضامن مذہب حنفی اور اسلام کو اپنایا جس عبارت سے آپ نے دھوکہ دیا ہے اس کا مکمل جواب ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ کے آخر میں دے چکے۔

سوال نمبر 773: کیا عصمت فروشی کے اڈے اسی حکم سے تو نہیں چل رہے ہیں؟

جواب: واقعی لکھنؤ، محمود آباد، ریاست اودھ، دکن وغیرہ شیعہ ریاستوں میں عصمت فروشی کے اڈے (متعہ خانے) فقہ جعفری کی تعلیم اور شیعوں کے عملِ خیر کے رہینِ منت ہیں۔ اب پاکستان میں تو علانیہ ممنوع ہے۔ مگر پڑتال کر کے کسی طوائف اور اس کے پرستار عزادار سے پوچھو تو یا علی مدد، پنج تن پاک تیرا آسرا کے نعروں سے شیعہ مذہب کی ہی تبلیغ کریں گی۔ الا ماشاءاللہ

سوال نمبر 774: کتاب مستطرف میں ہے جو شخص کسی عورت پر عاشق ہو کر زنا نہ کرے تو مرتبہ شہادت پاتا ہے شہادت کے لیے عشق عورت کا انتخاب کیوں کیا؟ جہاد کس لیے نظر انداز کیا گیا؟

جواب: پاک دامن کی تعریف میں یہ حدیثِ نبویﷺ ہے کہ دل پر تو کسی کا بس نہیں ہے پھر بھی یہ شخص خوفِ خدا سے بچتا ہے تو گویا درجہ شہادت (ثواب کثیر) پایا۔ بطورِ ثواب مرتبہ شہادت کی یہ صورت ہے ورنہ عین شہادت میدانِ جنگ میں ہوتی ہے اور اہلِ سنت 1300 برس تک یہ جہاد کرتے اور ثواب شہادت پاتے رہے اور اب تک انگریزوں، ہندوؤں وغیرہ سے جہاد کر کے پا رہے ہیں جبکہ شیعہ امام غار میں جا بیٹھا۔ جہاد متروک و منسوخ ہو گیا اور شیعہ متعہ بازی ماتم و نوحہ خوانی اور مسلمانوں پر لعنت و بدگوئی میں مصروف ہو گئے۔

سوال نمبر 775: لعن اللہ المحلل والمحلل له کے باوجود اہلِ سنت حلالہ کر اور کروا رہے ہیں کیا آصحابِ ثلاثہؓ نے بھی یہ کام کیا۔

جواب: یہ بطور شرط فرمانِ نبویﷺ ہے۔ شرط پر حلالہ کرنا ہم بھی مکروہِ تحریمی کہتے اور وعید کا مستحق سمجھتے ہیں۔ (ہدایہ: جلد، 2 صفحہ، 400) اور تین طلاق شدہ عورت کے لیے حلالہ شیعہ بھی واجب کہتے ہیں۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 282) 

اصل مسئلہ حلالہ قرآن شریف میں ہے: 

فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ (سورۃ البقرة: آیت 230)

ترجمہ: پس اگر خاوند نے بیوی کو (تیسری) طلاق دے دی تو یہ اس کے لیے حلال نہ رہی۔ حتیٰ کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔ 

شیعہ قرآن کے تو منکر ہو گئے اور مغلظہ و مطلقہ ثلاثہ معاً سے پھر نکاح کرتے اور ساری عمر فعل حرام کراتے ہیں۔

حضرات خلفاء راشدینؓ کا فتویٰ یہی ہے۔

سوال نمبر 776: کیا مشت زنی جائز ہے؟ جبکہ ناکح الید ملعونِ حدیث ہے۔

جواب: کسی بھی ناجائز طریقے سے اخراجِ منی حرام ہے۔ مگر زنا، لواطت مشت زنی وغیرہ میں فرق ضرور ہے۔

جب علامہ قاضی خان تصریح فرما رہے ہیں کہ حصولِ شہوت کی خاطر یہ حرکت حرام ہے اگر شہوت کو کم کرنا مقصود ہو تاکہ زنا میں نہ پھنس جائے تو دو مصیبتوں میں گرفتار شخص کو ہلکی اختیار کر کے بڑی سے بچنا چاہیے، کے اصول پر عمل کرے۔ اخراجِ منی کر لے تو گنہگار نہ ہو گا۔ نہ یہ عمل حدیث کی مخالفت ہے کیونکہ حدیث میں عام حالت کا حکم بیان ہوا ہے اور فقہ کی اس جزی میں گناہِ کبیر سے بچنے کی ہلکی صورت بتائی ہے۔ جیسے جان بچانے کے لیے مضطر کو حرام کھانا جائز ہے اور شیعہ مذہب میں تو روزہ کی حالت میں بھی استمناء کو ناجائز نہیں کہا، روزہ ٹوٹنا لکھا ہے۔ مسئلہ: 1611 اگر روزہ دار استمناء کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ 

(توضیح المسائل: صفحہ، 172 از ابو القاسم موسوی مطبوعہ اسلام آباد)

سوال نمبر 777: مسئلہ لف حریر۔ 

جواب: آپ کے اقرار کے مطابق شیعہ کتاب الزام الناصب دروغ بر گردن راوی و طوق لعنت در گردن کذاب رافضی کا مصداق ہے۔ ہماری کتب میں ایسا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ کتاب الطہارت وغیرہ میں یہ فرضی صورت لکھی ہے کہ کوئی (ایلاج بخرقہ مانعتہ) کپڑا لپیٹ کر جماع کرے جس سے لذت گرمی حاصل نہ ہو تو کیا غسل فرض ہو گا یا نہیں؟ قانوناً غسل نہیں ہے کیونکہ جماع نہیں ہوا احتیاطاً کر لینا چاہیے۔ 

شہوت پرست و متعہ پیشہ محروم از دیانت شیعوں نے اسے یہاں سے کاٹ کر وطی با محارم سے جوڑ دیا کیونکہ اپنے اس مجوسی فعل کی ان کے ہاں اب بھی فی الجملہ گنجائش ہے اور وطی محارم بالنکاح کو بحیثیت شادی حلال کہتے ہیں۔ فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 571 کا یہ حوالہ ہم سنی کیوں ہیں میں لکھا جا چکا ہے۔ جو شخص محارم سے شادی رچاتا ہے جن کی حرمت قرآن میں مذکور ہے جیسے مائیں بیٹیاں (الآیۃ) یہ سب بطور شادی حلال ہے خدا کے منع کرنے سے حرام ہے۔ اس لحاظ سے اولاد بھی حلالی ہو گی جو ایسے بچے کو حرامی کی تہمت لگائے گا اسے حدِ قدف لگے گی۔ کیونکہ وہ حلالی بچہ ہے۔ (معاذ اللہ)

سوال نمبر 778: روزہ دار کا دُبر میں انگلی ٹھونسنا؟ (قاضی خاں)

جواب: مسئلہ تو یہ بیان ہو رہا ہے کہ روزہ دار استنجا میں مبالغہ کرے اور مقام کو انگلی سے دہائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا کیونکہ کوئی چیز اندر نہیں گئی ہے۔ اب بے حیا سائل اس طبعی اور ضروری بات کو بلاوجہ انگلی ٹھونسنے سے تعبیر کرے تو کون اسے روکے بے حیا باش و ہرچہ خواہی گو۔

صفحہ 6 از 10