فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 10

جواب: اس لفظ پر آپ خوب خوش ہوئے شاید اسی بناء پر اثناء عشری لقب سے ملقب ہیں کیونکہ ان کے ہی کرتوت اور اعمال آپ نے اپنائے ہیں ذرا ایمان سے بتائیں ان بارہ دشمنانِ اصحابِ رسولﷺ کے نام ہم بتا دیں تو کیا باقی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ مومن و محترم مان لیں گے اگر مانتے ہیں تو اب بسم اللہ اقرار کریں اور تحریر کر دیں ورنہ 12 کے نام پوچھنے کو ایک دھوکہ اور فراڈ قرار دیں عزوۂ خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ان کے نام یہ ہیں:

1: عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین 2: مالک بن ابی قوقل 3: سوید 4: داعس یہ ابن ابی کا گروہ تھے۔ 5: سعد بن حنیف 6: زید بن اللصیت جس نے حضرت عمرؓ سے بنو قینقاع کے بازار میں لڑائی کی تھی۔ 7: نعمان بن ابی اوفیٰ 8: رافع بن حریملہ 9: رفاعہ بن زید بن تابوت 10: سلسلۃ بن برہام 11: کنانہ بن صوریا یہ یہودیوں کے مولویوں میں سے تھے۔ منافقانہ مسلمان ہوئے اور مسلمانوں سے ٹھٹھے کرتے تھے۔ ایک دن مسجد سے نکالے گئے۔ 12: معتب بن قشیر (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 173، 174)

جب کہ لفظ اصحاب لغوی معنوں میں ہے کہ میرے پاس اٹھنے بیٹھنے والے 12 افراد منافق ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مؤمنین مراد نہیں۔

سوال نمبر 766: قاضی خاں میں ہے نمازی کا گریبان سے ستر کو دیکھنا نماز نہیں توڑتا۔ 

جواب: بات کا بتنگڑ بنایا ہے۔ ستر کے متعلق مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ ستر ایسے ڈھکا ہو کہ چاروں اطراف سے کسی کی نگاہ نہ پڑ سکے۔ پھر یہ فرضی احترازی مثال ہے کہ بالفرض گریبان سے نمازی کی اپنی نظر پڑ جائے جب کہ وہ لمبے تا قدم کُرتے میں نماز پڑھ رہا ہو تو نماز باطل نہ ہو گی کیونکہ اس کا ستر خوب ڈھکا ہوا ہے جیسے کوئی دھوتی باندھے نماز چھت پر پڑھ رہا ہو سلاخوں اور تاروں کی روشندان کے نیچے عین اوپر کو کسی کی نگاہ اس کے ستر پر پڑ جائے تو نماز باطل نہ ہو گی کہ دھوتی نے چاروں طرف ستر کو ڈھانپ رکھا ہے۔ 

یہ گریبان میں منہ ڈال کر شرم گاہ کو تاکتا رہے یا ماپتا رہے۔ خود آپ کے خبیث الفاظ اور کاروائیاں ہیں کیونکہ شیعہ تو یہاں تک کہتے ہیں: 

اگر نمازی عین نماز میں اپنے خصیتین اور ذکر کو ہلائے جلائے کہ انتشار ہو جائے اور مذی بہنے لگے تو نماز میں کچھ خلل نہیں۔ بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نمازی عین نماز میں کسی عورت کو بغل میں دبوچے اس حالت میں انتشار ہو اور سر ذکر اس کی فرج کے مقابل رکھے جس سے بہت سی مذی بہے تو نماز اس کی جائز ہے۔ اسے ابو جعفر طوسی اور دیگر مجتہدین نے ذکر کیا ہے۔ (بحوالہ تحفہ اثناء عشریہ: جلد، 1 صفحہ، 519)

اب بتائیے کہ شیعہ مسجد میں نماز پڑھنے آیا ہے یا کسی چکلہ میں متعہ بازی کر رہا ہے؟

سوال نمبر 767: آل عمران میں ہے کہ جو تم میں سے مرتد ہو جائے وہ خدا کو ضرر پہنچائے گا؟

جواب: آیتِ ہٰذا کی پوری تشریح اور جواب عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باب دوم میں دیکھیں۔

سوال نمبر 768: اگر زمانہ رسولﷺ میں منافقت کا سدباب ہو گیا تھا تو صحیح بخاری میں حذیفہ کا قول کیوں موجود ہے کہ منافقوں کی یہ حالت عہدِ نبوت سے بدتر ہے کہ اس وقت سازشیں کرتے تھے اب کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں؟

جواب: یہ حالتِ ارتداد کی حکایت ہے کہ عہدِ صدیقی میں کھلے مرتد ہو کر قتل ہوئے جن کا شیعہ آج بھی شکوہ کرتے اور غم مناتے ہیں۔

سوال نمبر 769: اے سیدنا علیؓ اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد اہلِ ایمان کی پہچان نہ ہو سکتی بتائیے بقولِ پیغمبرﷺ ایمان و حضرت علیؓ کا کیا رشتہ ہوا؟

جواب: اس کی مثل یہ حدیث ہے ایمان کی نشانی انصارؓ کی محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصارؓ سے بغض ہے۔ (بخاری، مسلم) نیز آپﷺ‏ نے فرمایا ہے صرف منافق انصار رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں اور صرف مؤمن انصار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں جو ان سے محبت کرے گا ان سے خدا محبت کرے گا اس سے خدا محبت کرے گا جو ان سے دشمنی رکھے گا خدا ان سے دشمنی رکھے گا۔ متفق علیہ (مشکوٰۃ: صفحہ 576) پتہ چلا کہ منافقین انصارؓ سے بغض کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور مہاجرین انصار سے مرتبہ میں بالاتفاق افضل ہیں تو ان کا دشمن و مبغض بدرجہ اولیٰ پہچانا جائے گا۔ یہ شبہ سے بالا بات ہے کہ شیعہ انصار و مہاجرینؓ سے زبردست دشمنی رکھتے ہیں اور حضرت علیؓ کو خدا اور رسول کی صفات خاصہ میں شریک کرتے اور اتباع سے گریز کرتے ہیں آج تک شیعہ کا کوئی فرقہ اپنے مؤمن ہونے کی سند حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے نہ دکھا سکا ہاں خود دسیوں فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کافر بتاتے ہیں۔

تو فرمانِ رسولﷺ سچا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لیوا اگر وہ خود سیدنا علی المرتضیٰؓ کا تمام مہاجرینؓ و انصارؓ کا دشمن و نافرمان ہے اس کا نفاق پہچانا گیا اور باقی حضرت علی المرتضیٰؓ اور انصار و مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تابعدار سنی مسلمانوں کا ایمان پہچانا گیا۔

سوال نمبر 770: اے سیدنا علیؓ! تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں (بخاری) فرمایا حضرت علیؓ کو چھوڑ دینا رسولﷺ و ایمان کو چھوڑ دینا ہو گا یا نہیں؟

جواب: ان الفاظ سے رشتہ داری اور اتباع مراد لی جاتی ہے۔ ذات کی وحدت مراد نہیں ہوتی تاکہ حضرت علی المرتضیٰؓ سے اختلاف کرنا گویا رسولﷺ کو چھوڑنا سمجھا جائے۔ 

قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: 

فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ‌ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞‏ (سورۃ ابراهيم: آیت 36)

ترجمہ: جس نے میری بات مانی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ 

اور ایسی احادیث بکثرت ہیں جن میں حضور اکرمﷺ‏ نے فرمانبردار کو اپنا اور نافرمان کو بیگانہ فرمایا ہے۔ مثلاً: 

من غشنا فلیس منا

ترجمہ: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔

سوال نمبر 771: کیا وہ مذہب سچا ہو گا جس میں عصمت فروشی پر حد جاری نہ ہو سکے حالانکہ یہ صریحاً زنا ہے؟

جواب: نہیں تبھی تو شیعہ مذہب کو باطل کہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر گھر عصمت فروشی ہوتی ہے چند احادیثِ ائمہ ملاحظہ ہوں:

صفحہ 5 از 10