فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 10

ترجمہ: وہ یہ کہ ہمارے شیعہ علماء نے متعہ دوریہ اس عورت سے کرنا خاص کیا ہے جس کا حیض بند ہو جائے۔ دیگر حیض والی عورتوں سے متعہ دوریہ جائز نہیں۔

یہ آئسہ عورت عموماً معمر ہو گی۔ شیعہ متعہ پہلوان تو اس کی ہڈیاں بھی توڑ دیں گے۔ 

شیعہ پاک مذہب کے یہ کتنے پیارے کام

سوال نمبر 755: لونڈی کی بہن سے نکاح؟ (ہدایہ) 

جواب: خائن پیشہ شیعہ۔ صورت مسئلہ کیسے مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ ہدایہ کی پوری عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔ اپنی باندی جس سے وطی کر چکا ہے۔ کی بہن سے اگر نکاح کیا تو نکاح صحیح ہے کیونکہ اہلیت والے نے کیا اور محل کی طرف مضاف ہے۔ نکاح تو جائز ہے مگر پہلی باندی سے وطی نہ کرے۔ اور منکوحہ سے بھی وطی نہیں کر سکتا اس لیے کہ منکوحہ حکماً موطؤہ بن گئی ہے۔ اب اس منکوحہ سے وطی اس لیے ناجائز ہے کہ دونوں بہنیں اکٹھی رکھنا جائز نہیں ہاں اس وقت وطی کرے گا۔ جب وہ پہلی موطؤہ باندی کو اپنے اوپر کسی سبب سے حرام کر لے (مثلاً بیچ دے، ہبہ کر دے۔ کہیں بیاہ دے) تب منکوحہ سے وطی کرے۔ کیونکہ اب وطی میں جمع اختین نہ ہوا۔ اور اگر پہلے مملوکہ سے وطی نہ کی تھی تو منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے کہ اب وطی جمع اختین کی نہیں ہے کیونکہ باندی مملوکہ حکماّ موطؤہ نہیں ہے (ہدایہ عربی: جلد، 2 صفحہ، 308) 

عبارت کا مفہوم کتنا واضح ہے اور حکمِ قرآنی کے مطابق ہے مگر شیعہ خائن یہ پابندی نقل ہی نہیں کرتا: کہ جب پہلی باندی کو اپنی ملکیت سے نکال دے۔ اس منکوحہ سے وطی کرنا جائز ہی نہیں۔ صرف نکاح اس لیے درست ہے کہ ایک ایسی عورت سے نکاح کیا ہے جس کی بہن نکاح میں نہیں ہے۔ (تو جمع اختین در نکاح نہ ہوا) مگر چونکہ اس سے وطی کا تعلق ہو چکا ہے تو اس سے وطی نہ کرے گا۔ تاکہ حکمِ قرآنی جمع بین الاختین فی الوطی کے خلاف نہ ہو۔ محرم ہونے کے لحاظ سے بیوی کی بہن، بھانجی، بھتیجی یکساں ہیں پھر شیعہ ان سے نکاح کیوں جائز کہتے ہیں کیا یہ جمع بین المحارم نہیں۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 284)

سوال نمبر 756: فتاویٰ برہنہ میں ہے کہ اگر مرد یا عورت ایک دوسرے کی شرم گاہ کو ملیں (ہاتھ لگائیں) تو کوئی حرج نہیں ثواب کی امید ہے۔ کیا کُتی کُتے کا نقشہ مکمل نہ ہو گیا؟ 

جواب: مساس اور ہاتھ لگانے کا یہ عمل فعل جماع کا مقدمہ اور ذریعہ ہے۔ جب وطی شرعاً مطلوب ہے کہ طلبِ اولاد کے علاوہ زوجین کے حقوق کی ادائیگی ہے جو اطاعتِ شریعت اور موجب قربت ہی ہے تو ذریعہ جائز ہوا۔ یہ کام سب شیعہ بھی کرتے ہیں ورنہ بغیر شہوت و تحریک و مساس ان کا نطفہ کیسے علوق کرے تو کیا سب شیعہ کُتیاں کُتے ہیں؟ اب اپنی طرف سے بریکٹ بڑھا کر یہ لکھنا (خواہ ہاتھ کے ساتھ، خواہ منہ کے ساتھ، خواہ زبان کے ساتھ اس کی کوئی قید نہیں ہے) اپنی شیعہ عادتیں بتانا ہے کیونکہ لُغت میں تو مساس اور چھونا ہاتھ لگانے سے لکھا ہے۔ رہا شیعہ کا شرم گاہ کو چومنا (اور چاٹنا) تو اس پر سوال 749 میں فروع کافی کے حوالہ سے شیعہ امام کا فتویٰ ہم نقل کر چکے ہیں۔ 

رہا رطوبت کا پاک ہونا تو یہ مذی ودی کی طرح ہے اور مذہب شیعہ میں یہ سب چیزیں پاک ہیں۔ شیعہ کی اصولِ اربعہ میں سے معتبر کتاب من لا یحضرہ الفقیہ صفحہ 14 پر ہے:  

کہ امیر المؤمنین مذی نکلنے سے وضو ٹوٹنا نہ مانتے تھے اور جہاں مذی لگی ہوتی اسے دھونا بھی لازم نہ کہتے تھے۔ مروی ہے مذی اور ودی (مرد و عورت کی رطوبت) تھوک اور کھنگار کی طرح ہے اس سے نہ کپڑا دھویا جائے نہ عضو تناسل۔ انتہیٰ بلفظہٖ۔

اب جس مذہب میں یہ رطوبت ذکر و شرم گاہ تھوک کی طرح پاک ہے اور وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو چومنے کو جائز کہتے ہیں تو یہ رطوبت چاٹنا ان کو شہد کی طرح کیسے لذت نہ دیے گا۔ شرم، شرم۔

یہ سنی المسلک حنفی مسلمان تو مذی، ودی، رطوبت خون کو ناپاک کہتے اور بدن و لباس سے دھونے کے قائل ہیں۔ (ہدایہ، عالمگیری، صحیحین کتاب الطہارت)

سوال نمبر 757: جو شخص لڑکے یا پوتے کی لونڈی سے جماع کرے اس پر کوئی حد نہیں ہے اگرچہ حرام جانتا ہو۔

2: اگر شوہر دار عورت سے نکاح کرے، پھر جماع کرے۔ اگرچہ حلال ہونے کا دعویٰ نہ کرے تب بھی اس پر حد نہیں۔ (فتاویٰ قاضی خاں) 

جواب: پہلی صورت میں اس کے لیے اس حدیث کے لیے شبہ کا ثبوت ملتا ہے کہ تو اور تیرا مال (لونڈی) تیرے باپ کا ہے۔ اس سے شبہ ملکیت ہوا تو گو فعل حرام اور قابلِ تعزیر ہے مگر سنگساری کی حد نہیں ہے۔

2: دوسری صورت میں اسے پہلے نکاح کا علم ہی نہیں تو نکاح فاسد ہو گیا۔ اس سے بھی حد ٹل جاتی ہے اسے بے خبری کا دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ فریق مخالف اس کا منکر نہیں ہے۔ فقہ شیعہ میں اس کی مثال اس باندی کی سی ہے کہ کوئی شخص دو باندیاں، جو دو بہنیں ہوں، خریدے ایک سے وطی کرے پھر دوسری سے بے خبری میں وطی کر لے تو پہلی حرام نہ ہو گی۔ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 3 صفحہ، 284) تو لا علمی کا فائدہ اسے ہو گا۔ 

شیعہ کے ہاں بھی ایسے شخص پر حد نہیں ہے۔ ہے کوئی مجتہد جو حد ثابت کر دکھائے؟

پہلے مسئلے میں تو شیعہ کی بے حیائی بالکل واضح ہے کہ وہ اس باندی کو بیٹے، پوتے پر حرام نہیں کہتے جیسے بیٹے کی مزنیہ عورت یا لونڈی کو باپ پر حرام نہیں کہتے۔

سوال نمبر 758، 759: اگر راقم اس مذہب سے جُدا ہو گیا جس میں خدا ظالم و محتاج، رسول خاطی و گناہ گار تعلیمات اخلاق سوز اور خلافِ عقل و فطرت ہیں تو کوئی قصور نہیں کیا آپ ایسے مذہب کی اتباع کیوں کرتے ہیں؟

صفحہ 3 از 10