سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 13

جواب: وہی جو خدا نے مہاجرین کی تعریف کر کے مراد لی ہے:

1: لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞ (سورۃ الحشر: آیت 8)

ترجمہ: (مالِ فے) ان فقیر مہاجرینؓ کا بھی حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے در بدر کیے گئے وہ اللہ کا ہی فضل اور اس کی خوشی چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ تو سچے ہیں۔

2: فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 195)

ترجمہ: پس جن لوگوں نے گھربار چھوڑا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے۔ اور جنہوں نے (دین کی خاطر) لڑائی لڑی اور قتل ہوئے یقیناً میں ان کی غلطیاں معاف کر دوں گا اور ان کو جنّات میں داخل کروں گا۔ 

3: اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌۞ (سورۃ الحج: آیت 40)

ترجمہ: جو لوگ اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے، صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارا روزی رساں اللہ ہے۔

بحمد اللہ مہاجرین بھی ہمارے ہیں اور رب بھی ہمارا ہے شیعہ تو دونوں سے بیزار ہیں۔

سوال نمبر 708: کیا تمام مہاجرین نیک نیت اور صاحبانِ مراتب تھے؟

جواب: جی ہاں! بالا تین آیاتِ قرآنی اس پر گواہ ہیں۔

سوال نمبر 709: اگر سبھی مہاجرین صاحبِ فضیلت ہیں تو مشکوٰۃ شریف کی اس حدیث کا کیا مطلب ہے۔ اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ الخ

جواب: یہ بطورِ اصول اور کلیہ ارشاد فرمایا کہ نیک نیتی حصولِ ثواب کے لیے شرط ہے بالفرض اگر کوئی دنیوی مقصد کے لیے ہجرت کرے گا تو ثواب و فضیلت سے محروم ہو گا۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی دستور اور کلیہ کی موجودگی میں ضرور ہی عوام کو دو دھڑوں میں تقسیم کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کسی دستور کے سبھی پابند نکلیں اور کوئی خلاف ورزی نہ کرے۔ مع ہٰذا قانون کی تعبیر دو شقوں سے کی جائے گی۔

یہاں حدیث کا شانِ نزول شخص خاص ہے جس کی منگیتر ہجرت کر آئی تھی تو اس نے شادی کی نیت سے مدینہ ہجرت کی۔ اس مسلمان سے آپ کو دشمنی ہے تو اسے مستثنیٰ کر لیجیے باقی ہزاروں مہاجرین کو صاحبانِ فضیلت و مراتب مانیے۔ اگر شخصِ واحد کی آڑ میں آپ ایک کلیہ تراشتے ہیں کہ سارے مہاجرین نیک نہ تھے پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سمیت دو چار افراد کے سوا سب کو ہی بدنیت اور منافق کہنے لگیں تو آپ سے بڑھ کر اسلام اور خدا و رسول کا منکر کوئی نہ ہو گا۔

سوال نمبر 710: جب حضور اکرمﷺ‏ نے ہجرت کا معیار خلوصِ نیت قرار دیا ہے تو پھر سارے مہاجرین کو اس فضیلت کا حق دار کیوں کہتے ہیں؟

جواب: خدا نے تمام کو (صیغہ جمع اور استغراق کے ساتھ بلا استثناء) مخلص کہا ہے۔ پارہ 10 سورۃ الانفال کی آیات کا ترجمہ مع تفسیر مجمع البیان طبرسی ملاحظہ فرمائیں:

پھر اللہ تعالیٰ مہاجرین اور انصار کا ذکرِ خیر اور ان کی مدح و تعریف فرماتے ہیں جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یعنی خدا اور رسولﷺ‏ کی تصدیق کی اور اپنے گھروں اور وطنوں کو چھوڑا یعنی مکہ سے مدینہ آ گئے۔ اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس محنت کے ساتھ جہاد بھی کیا۔ اور جن لوگوں نے ان مہاجروں کو ٹھکانہ دیا اور مدد کی یعنی ان کو اپنا بنا لیا اور نبی کریمﷺ‏ کی مدد کی یہی پکے اور سچے مومن ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنے ایمان کو ہجرت اور مدد کے ساتھ ثابت کر دکھایا۔ برخلاف اس کے جو دار الشرک میں ٹھہرے رہے (ایمان ثابت نہ کر سکے)۔ (مجمع البیان: جلد،2 صفحہ، 562)

سوال نمبر 711: جب اعمال کا انحصار نیتوں پر ہو تو عمل کے ردِّ عمل اور نتیجے سے نیت کا خلوص و نفاق پہچانا جا سکتا ہے لہٰذا اگر کسی شخص کے اعمال کے نتائج برے برآمد ہوتے ہیں تو پھر اسے اجتہاد کے نقاب میں کیوں چھپایا جاتا ہے؟ 

جواب: صحابہ مہاجرین رضی اللہ عنہم کے عملِ ہجرت کے نتیجے میں مدینہ دارالایمان بن گیا مسلمان طاقتور ہو گئے دین و سیاست کا مرکز قائم ہو گیا جہاد شروع ہو گیا کفار بڑے بڑے لشکر لاتے ناکام اور ختم ہو کر واپس جاتے حتیٰ کہ 10 ہزار قدوسیوں نے مکہ مکرمہ فتح کر لیا کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا دیگر اہلِ عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے تمام عرب پر مسلمانوں کا قبضہ اور کفر و شرک کا خاتمہ ہو گیا۔ ذرا بتائیں کہ یہ نتائج مضموم ہیں؟ اور انہی سے آپ صحابہ مہاجرینؓ کے نفاق کی شناخت کر رہے ہیں؟ یا پھر کیا آپ کے اپنے گروہ سمیت منافق ملحد زندیق اور دشمنِ خدا و رسولﷺ‏ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونے میں کوئی کسر رہ گئی؟ نقابِ اجتہاد کی بھی خوب کہیں ذرا ہوش کے ناخن لیں اہلِ سنت نے اسی نقابِ اجتہاد کے قلعہ میں حضرت علی المرتضیٰؓ کی حفاظت کی ورنہ دشمنوں نے کیا کچھ نہ کیا۔ اب بھی نواصب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمداً قصاص نہ لیا، قاتلوں کو پناہ دی اور طالبانِ قصاص پر چڑھائی کر کے 70 ہزار مسلمان بواسطہ یا بلواسطہ شہید کر ڈالے۔ فرمائیے نقاب اجتہاد کے سوا آپ کیا بچاؤ کریں گے اور کیا جواب دیں گے۔

سوال نمبر 712: اگر خلوصِ نیت سے اہلِ بیتؓ سے محبت اور ان کے دشمنوں موذیوں سے عداوت رکھتا ہے تو کیا یہ مخلص نہیں ہے؟ 

جواب: آپ کے بقول نیت کا خلوص و نفاق عمل سے پہچانا جائے گا ذرا اس گروہ کا کوئی وفادرانہ اور مطیعانہ عمل تو ثابت کر دکھائیے۔ ہم اگر نہج البلاغہ اور دیگر کتبِ تاریخ سے اس گروہ کے کرتوت نقل کریں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ (بطورِ نمونہ چند حوالے ہماری عدالتِ صحابہؓ صفحہ 90، 91 پر دیکھیں) لہٰذا ہم مذہبی اصطلاح سے شیعانِ علی کو ہرگز مخلص نہیں جانتے۔

سوال نمبر 713: کیا یہ نیک نیتی کی محبت اور عداوت باعثِ نجات ہے یا نہیں؟

صفحہ 9 از 13