سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 13

جواب: مسلم میں لفظ نقیب و امام نہیں کہ شیعہ کا استدلال تام ہو۔ بلکہ خلیفہ اور امیر کا لفظ آیا ہے۔ حضرت علیؓ و حضرت حسنؓ کے سوا باقی بزرگوں کو بالاتفاق منصبِ خلافت و امارت ملا ہی نہیں تو حدیث کا مصداق وہ بارہ حاکم ہیں جن کی امارت میں امتِ مسلمہ ایک رہی، دوسرا حاکم نہ ہوا، اگرچہ بعض کردار کے صاف نہ تھے تاہم خلافت و امارت کا مفہومِ حدیث ان پر صادق ہے۔ تفصیل تحفہ امامیہ سوال نمبر 20 میں دیکھیے۔

سوال نمبر 700: مسلم میں ہے کہ بارہ سردار قریش میں سے ہوں گے اور مودة القربیٰ وغیرہ میں ہے کہ یہ سردار قریش کے قبیلے بنی ہاشم میں سے ہوں گے 

جواب: مودة القربیٰ غیر معتبر رافضیوں کی کتاب ہے قریش میں سے ہوئے جن میں بنو امیہ اور بنو عباس بھی شامل ہیں۔

سوال نمبر 701: کیا اہلِ سنت کے بارہ خلفاء قولِ رسولﷺ سے ثابت ہیں؟

جواب: حدیث میں صراحت نہیں۔ علماء نے ترتیبِ خلافت سے معین کیے کہ نبوی پیشین گوئی کا مصداق ہیں اور پیشین گوئی کی تعیین واقعہ کے بعد ہوتی ہے۔

سوال نمبر 702: شیعہ کے بارہ اماموں کے نام حدیث سے ثابت ہیں؟ (شواہد النبوة: صفحہ، 195)

جواب: بالکل جھوٹ ہے۔ اہلِ سنت کی کسی کتاب میں بھی حضورﷺ نے ان ناموں کی صراحت نہیں فرمائی۔ شواہد النبوة متاخر تقیہ باز شیعوں کی کتاب ہے جو ہرگز حجت نہیں۔ شیعہ کی اصولِ اربعہ میں بھی صحیح سند کے ساتھ ان ناموں کی صراحت نہیں۔ اصولِ کافی کتاب الحجۃ کی ایک روایت بھی نہیں جس میں رسول اللہﷺ نے ان بارہ اماموں کے نام بتائے ہوں یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بارہ نام ذکر کیے ہوں یا امام محمد باقرؒ امام جعفرؒ نے بارہ اماموں کے نام کی کوئی ایک روایت بھی بتائی ہو یا منقطع السنہ ہی انہوں نے قال رسول اللہﷺ فرما کر بارہ اماموں کے مسلسل مرتب نام بطور ائمہ و خلفاء ذکر کیے ہوں۔ میں تمام شیعوں کو ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ اصولِ اربعہ سے ایک بھی بارہ اماموں کے صریح نام بنام والی روایتِ رسولﷺ‏ دکھا دیں؟ فهل من مبارز- 

یہ کوئی حجت و دلیل نہیں کہ نام نہاد ثقۃ الاسلام کلینی رازی المتوفی 329ھ ایک عقیدہ خود بنا لے پھر بوگس اقوال کی بھرمار سے کتاب الحجتہ قائم کرے۔ پھر اس میں باب الاشارة و النص علی فلان نام بنام لکھ کر اس مضمون کی غیر معتبر روایت کرے کہ ہر فوت ہونے والا پیشوا یہ کہے کہ فلاں میرا ولی وارث جانشین ہے۔ بھلا اس مفہوم کی بات یا وصیت ہر مرنے والا اپنی اولاد یا بڑے لڑکے کے حق میں کر کے جاتا ہے۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ایسے اوصیاء و امام واقعی بارہ تھے کم و بیش نہیں۔ پھر خدا و رسولﷺ‏ کی طرف سے منصوص (نامزد کردہ) حجۃ اللہ معصوم مفترض الاطاعت اور مثلِ انبیاء دینی پیشوار تھے؟ 

الغرض عقیدہ امامت اثناء عشر ایک فرضی تھیوری اور نظریہ ہے۔ قرآن، حدیثِ نبوی، اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ثابت کوئی مسئلہ نہیں۔ میں ہر شیعہ بھائی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی عالم و مجتہد سے بارہ اماموں کی امامت پر ناموں کے ساتھ قرآن و حدیث سے صریح دلیل طلب کرے پھر اس کی بے بسی اور ماہری کا تماشہ دیکھے۔ ان شاء اللہ حق مذہب تک رسائی ہو جائے گی۔ ورنہ کم از کم اتنا فائدہ تو ضرور ہو گا کہ بھاری بھاری فیسوں کے تاوان سے آپ بچ جائیں گے۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏؟۔

سوال نمبر 703: مشکوٰة کتاب الفتن صفحہ 455 پر ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا میں اپنی امت میں گمراہ کرنے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، وہ کون سے امام تھے؟

جواب: لفظ امام پر آپ کیوں فخر کرتے اور امامیہ کہلاتے ہیں۔ جب کہ امام گمراہ اور گمراہ کن بھی ہوا کرتے ہیں۔ اس سے مراد بنو امیہ و بنو عباس کے بعض جائز حکام مراد ہیں۔ سنی شیعہ کا اس پر اتفاق ہے۔

سوال نمبر 704: کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے بارہ امام معاذاللہ مفصّل تھے؟

جواب: سنی اصول پر ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بزرگ صحیح العقیدہ مسلمان اور اولیاء اللہ میں سے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی گمراہی کی تعلیم نہیں دی۔ ہماری کتبِ صحاح میں ان سے احادیث اور علمِ دین مروی ہے۔ 

ہاں شیعہ اصول اور ان کی ان سے روایت کردہ احادیث کی روشنی میں یقیناً کہتے ہیں کہ یہ شریعتِ محمدیہﷺ‏ کو ختم کرنے والی گمراہانہ تعلیم ہے۔ تفصیل ہماری تحفہ امامیہ باب 8 میں پڑھیے۔ خلاصہ یہ کہ ان اماموں کی (بقولِ شیعہ) تعلیم نے نہ خدا کو وحدہ لا شریک مانا نہ رسولﷺ‏ کو ہادی اور کامیاب تسلیم کیا، نہ حضور اکرمﷺ‏ کی بیویاں اور بیٹیاں چھوڑیں، نہ صحابی و خلیفہ چھوڑا، نہ صرف امت کو خنزیر اور ولد الزنا کہا بلکہ شریعتِ محمدیہﷺ‏ کے مقابل ایک نیا مذہب تصنیف کر دیا اور کتابِ خدا کو غار میں روپوش کر کے سب مسلمانوں کو گمراہ کر دیا اور ایسا گروہ تیار کر دیا جس کا کام صرف اور صرف ماتم و بین کرنا تقیہ کر کے دینِ حق چھپانا، تمام اگلی پچھلی امت کو تبّرے اور لعنتیں کرنا، متعہ کی عیاشی کرنا اور مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانا اور سازشیں کرنا ہے۔ ایران کا اسلام سوز اور مسلم کش مذہبی انقلاب اس کی منہ بولتی تصویر ہے۔

سوال نمبر 705: اگر آپ ائمہ اہلِ بیتؓ کو برحق مانتے ہیں تو تمسک کیوں نہیں کرتے؟ 

جواب: اپنی کتب و تعلیم کے واسطہ سے اتباع کرتے ہیں۔ شیعہ زٹلیات کی نہیں کرتے۔

سوال نمبر 706: اگر تمسک کرتے ہیں تو ایک جدول تیار فرمائیں کہ کتنی احادیث ائمہ آلِ محمد سے آپ کی کتب میں مروی ہیں؟

جواب: الحمد اللہ شیعوں سے زیادہ مروی ہیں۔ ان کا ایک مختصر جدول اور مجموعہ، مسند اہلِ بیتؓ نور مبین من روايات الطيبين مؤلفه محمد بن محمد الباقری ہے جس میں 1607 احادیثِ نبوی و آثارِ اہلِ بیتؓ مروی ہیں۔ اور دیگر مطول کتابوں میں بہت سے آثار بکھرے ہوئے ہیں فرق یہ ہے کہ ہماری احادیث میں اہلِ بیتؓ خادمِ دین محمد ہیں۔ وہ قال رسول اللہﷺ سے کلامِ نبوت سناتے ہیں جبکہ کتب شیعہ میں ائمہ کی زبان سے کذاب و ملعون راوی عن ابی عبد اللہ، عن ابی جعفر کہہ کر اپنی یا ان کی بات سناتے ہیں۔ قال رسول اللہﷺ کہہ کر حدیثِ رسول کوئی نہیں سناتا الا ماشاء اللہ۔

سوال نمبر 707: آپ کے مہاجرین سے کیا مراد ہے؟

صفحہ 8 از 13